کورونا وائرس کی وبا کے درمیان وزیراعظم کی جانب سے معاشی پیکیج کا اعلان
کووڈ-19 کی وبا کے باعث ملک میں معاشی سرگرمیاں رک سی گئی تھیں، لیکن وزیراعظم نریندرمودی نے انہیں پٹری پر لانے کے لیے بیس لاکھ کروڑ روپے کے معاشی پیکیج کا اعلان کیا ہے۔ پیکیج کی تفصیلات کا اعلان وزیرخزانہ نرملا سیتا رمن نے جمعرات کے روز نئی دہلی میں کیا۔ پیکیج کی پہلی قسط کا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ درمیانی چھوٹے اور بہت چھوٹے درجے کی صنعتوں کو نقد رقم فراہم کی جائیں گی تاکہ ان کو جلاء مل سکے۔ یہ صنعتیں کورونا وائرس کی وبا سے سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہیں۔
کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے ملک میں لاک ڈاؤن کا اعلان کرنا پڑا تاکہ انسانی جانوں کا کم سے کم نقصان ہوسکےاور بیماری کو بڑھنے سے روکا جاسکے۔اس لاک ڈاؤن کی وجہ سے معاشی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوئیں جس کے بعد وزیراعظم کو اعلان کرنا پڑا کہ ‘‘جان بھی جہان بھی’’ یعنی خود کی حفاظت بھی ضروری ہے اور زندہ رہنے کے لیے کچھ کرنا بھی ہے۔
اس بیس لاکھ کروڑ روپے میں سے تقریبا سات اعشاریہ آٹھ لاکھ کروڑ روپے کے پیکیج کا اعلان حکومت اور ریزرو بینک پہلے ہی کرچکے ہیں۔ شروعاتی پیکیج میں غریبوں کو مالی امداد فراہم کرنے اور سسٹم میں نقدی کی فراہمی پر توجہ مرکوز کی گئی تھی۔ تاہم اس وقت بڑھتے ہوئے انسانی بحران کے پیش نظر اس معاشی پیکیج میں اضافہ کرنے کی ضرورت محسوس کی گئی ۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ایک تخمینہ کے مطابق کورونا وائرس کی وبا کے باعث معاشی ترقی میں منفی تین (-3)فیصد کی گراوٹ آسکتی ہے۔ چونکہ اس وبا کی وجہ سے صحت اور معیشت دونوں بحران کا شکار ہیں، ملک میں غیریقینی کی صورت حال بنی ہوئی ہے۔
اس بحران سے نپٹنے کے لیے ہندوستان نے ایک ایسے پالیسی پیکیج کا اعلان کیا ہے جو خود انحصاری پر مبنی ہے۔ اس کے چار اجزاء ہیں۔ وہ ہیں زمین، مزدور، نقدی اور قوانین۔ اس پیکیج کے تحت وزیرخزانہ نے سب سے پہلے ایم ایس ایم ای صنعتوں کے لیے راحت پیکیج کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ درمیانہ، چھوٹی اور بہت ہی چھوٹی صنعتوں کو بیس ہزار کروڑ روپے کے قرض دیے جائیں گے جن کے لیے کسی گارنٹی کی ضرورت نہیں ہوگی۔
وزیر خزانہ نے جب پہلے پیکیج کا اعلان کیا تھا تو انہوں نے پردھان منتری غریب کلیان یوجنا کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت اس اسکیم کے تحت آجر اورملازم دونوں کی جانب سے ملازم کی تنخواہ کا بارہ فیصد حصہ اس کے پراونڈنٹ فنڈ میں ڈالے گی۔ انہوں نے کہا کہ اب اس اسکیم کی مزید تین ماہ کے لیے توسیع کردی گئی ہے۔ تخمینہ ہے کہ اس سے ملازمین کو دوہزار پانچ سو کروڑ روپی کا فائدہ ہوگا اور 72 لاکھ سے زیادہ ملازمین اس سے مستفید ہوں گے۔
حکومت نے غیر بینکنگ مالی اداروں کو نقدی فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا۔ قابل ذکر ہے کہ کورونا وائرس کے پھیلنے سے پہلے ہی ان اداروں میں معاشی سرگرمیاں تھم سی گئی تھیں۔ ان کمپنیوں کو نقدی فراہم کرنے کے لیے تین ہزار کروڑ روپے کے خصوصی پیکیج کا بھی اعلان کیاگیا۔
ملک میں بجلی کی پیداوار کافی مقدار میں ہورہی ہے۔ اس حقیقت کے باوجودابھی تک تمام دیہی علاقوں میں پوری طرح سے بجلی نہیں پہنچ سکی ہے جو باعث تشویش ہے۔ تمام دیہی علاقوں میں بجلی کی فراہمی کے لیے بجلی کی وزارت، ڈسکامس (DISCOMS) اور ریاستی حکومتوں کے درمیان ایک سمجھوتہ ہوا تھا جسے اودے (UDAY) کا نام دیا گیا۔ اس اسکیم سے ریاستوں پر مالی بوجھ کافی بڑھ گیا لہذا ڈسکامس(DISCOMS) کو جلاء بخشنے کے لیے 90ہزارکروڑروپے کے پیکیج کا کل اعلان کیا گیا۔
جن شعبوں کے لیے کل معاشی پیکیج کا اعلان کیا گیا ان میں ریئل اسٹیٹ (REAL ESTATE) بھی شامل ہے۔ زیر تعمیر مکانات کے رجسٹرڈ پروجیکٹوں کو مکمل کرنے کے لیے مزید چھ ماہ کی توسیع کردی گئی ہے۔ اور جن ریاستوں میں یہ پروجیکٹ چل رہے ہیں ان ریاستوں کی صورت حال کی بنیاد پر اس میں مزید تین ماہ کی توسیع کی جاسکتی ہے۔
جہاں تک ڈائریکٹ ٹیکسوں کا معاملہ ہے تو اس میں غیر سیلری کلاس کے لوگوں کا ایٹ سورس جو ٹیکس کاٹا جاتا ہے تو اس میں مالی سال 2020-21 کی باقی ماندہ مدت کے لیے مقررہ شرح کٹوتی میں 25 فیصد کی کمی کردی گئی ہے۔ اس سے ٹیکس دہندگان کو پچاس ہزار کروڑ روپے کا فائدہ ہوگا۔
پیکیج کی دوسری قسط کا اعلان کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت اپنا گھر چھوڑکر دوسری جگہوں پر کام کرنے والے مزدوروں کو آئندہ دو ماہ تک مفت راشن فراہم کرے گی۔ اس کے علاوہ سڑکوں پر ٹھیلا لگانے والوں کو خصوصی قرض دیے جائیں گے جس کے لیے پانچ ہزار کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ کسانوں کے لیے بھی تیس ہزارکروڑ روپے کے ایمرجنسی فنڈ کا اعلان کیا گیا ہے۔
وزیراعظم نے اپنے خطاب میں لوگوں سے اپیل کی تھی کہ وہ اپنے ملک میں تیارکردہ سامان ہی خریدیں کیونکہ کسی بحران کو صورت میں وہ آسانی سے دستیاب ہوتے ہیں۔ جناب مودی کی جانب جس معاشی پیکیج کا اعلان کیا گیا ہے وہ مجموعی گھریلو پیداوار کا دس فیصد ہے، جس کا خیرمقدم کیا جانا چاہیے۔ امید ہے کہ اس پیکیج سے ملک کی معیشت کو خاطر خواہ فروغ حاصل ہوگا۔
کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے ملک میں لاک ڈاؤن کا اعلان کرنا پڑا تاکہ انسانی جانوں کا کم سے کم نقصان ہوسکےاور بیماری کو بڑھنے سے روکا جاسکے۔اس لاک ڈاؤن کی وجہ سے معاشی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوئیں جس کے بعد وزیراعظم کو اعلان کرنا پڑا کہ ‘‘جان بھی جہان بھی’’ یعنی خود کی حفاظت بھی ضروری ہے اور زندہ رہنے کے لیے کچھ کرنا بھی ہے۔
اس بیس لاکھ کروڑ روپے میں سے تقریبا سات اعشاریہ آٹھ لاکھ کروڑ روپے کے پیکیج کا اعلان حکومت اور ریزرو بینک پہلے ہی کرچکے ہیں۔ شروعاتی پیکیج میں غریبوں کو مالی امداد فراہم کرنے اور سسٹم میں نقدی کی فراہمی پر توجہ مرکوز کی گئی تھی۔ تاہم اس وقت بڑھتے ہوئے انسانی بحران کے پیش نظر اس معاشی پیکیج میں اضافہ کرنے کی ضرورت محسوس کی گئی ۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ایک تخمینہ کے مطابق کورونا وائرس کی وبا کے باعث معاشی ترقی میں منفی تین (-3)فیصد کی گراوٹ آسکتی ہے۔ چونکہ اس وبا کی وجہ سے صحت اور معیشت دونوں بحران کا شکار ہیں، ملک میں غیریقینی کی صورت حال بنی ہوئی ہے۔
اس بحران سے نپٹنے کے لیے ہندوستان نے ایک ایسے پالیسی پیکیج کا اعلان کیا ہے جو خود انحصاری پر مبنی ہے۔ اس کے چار اجزاء ہیں۔ وہ ہیں زمین، مزدور، نقدی اور قوانین۔ اس پیکیج کے تحت وزیرخزانہ نے سب سے پہلے ایم ایس ایم ای صنعتوں کے لیے راحت پیکیج کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ درمیانہ، چھوٹی اور بہت ہی چھوٹی صنعتوں کو بیس ہزار کروڑ روپے کے قرض دیے جائیں گے جن کے لیے کسی گارنٹی کی ضرورت نہیں ہوگی۔
وزیر خزانہ نے جب پہلے پیکیج کا اعلان کیا تھا تو انہوں نے پردھان منتری غریب کلیان یوجنا کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت اس اسکیم کے تحت آجر اورملازم دونوں کی جانب سے ملازم کی تنخواہ کا بارہ فیصد حصہ اس کے پراونڈنٹ فنڈ میں ڈالے گی۔ انہوں نے کہا کہ اب اس اسکیم کی مزید تین ماہ کے لیے توسیع کردی گئی ہے۔ تخمینہ ہے کہ اس سے ملازمین کو دوہزار پانچ سو کروڑ روپی کا فائدہ ہوگا اور 72 لاکھ سے زیادہ ملازمین اس سے مستفید ہوں گے۔
حکومت نے غیر بینکنگ مالی اداروں کو نقدی فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا۔ قابل ذکر ہے کہ کورونا وائرس کے پھیلنے سے پہلے ہی ان اداروں میں معاشی سرگرمیاں تھم سی گئی تھیں۔ ان کمپنیوں کو نقدی فراہم کرنے کے لیے تین ہزار کروڑ روپے کے خصوصی پیکیج کا بھی اعلان کیاگیا۔
ملک میں بجلی کی پیداوار کافی مقدار میں ہورہی ہے۔ اس حقیقت کے باوجودابھی تک تمام دیہی علاقوں میں پوری طرح سے بجلی نہیں پہنچ سکی ہے جو باعث تشویش ہے۔ تمام دیہی علاقوں میں بجلی کی فراہمی کے لیے بجلی کی وزارت، ڈسکامس (DISCOMS) اور ریاستی حکومتوں کے درمیان ایک سمجھوتہ ہوا تھا جسے اودے (UDAY) کا نام دیا گیا۔ اس اسکیم سے ریاستوں پر مالی بوجھ کافی بڑھ گیا لہذا ڈسکامس(DISCOMS) کو جلاء بخشنے کے لیے 90ہزارکروڑروپے کے پیکیج کا کل اعلان کیا گیا۔
جن شعبوں کے لیے کل معاشی پیکیج کا اعلان کیا گیا ان میں ریئل اسٹیٹ (REAL ESTATE) بھی شامل ہے۔ زیر تعمیر مکانات کے رجسٹرڈ پروجیکٹوں کو مکمل کرنے کے لیے مزید چھ ماہ کی توسیع کردی گئی ہے۔ اور جن ریاستوں میں یہ پروجیکٹ چل رہے ہیں ان ریاستوں کی صورت حال کی بنیاد پر اس میں مزید تین ماہ کی توسیع کی جاسکتی ہے۔
جہاں تک ڈائریکٹ ٹیکسوں کا معاملہ ہے تو اس میں غیر سیلری کلاس کے لوگوں کا ایٹ سورس جو ٹیکس کاٹا جاتا ہے تو اس میں مالی سال 2020-21 کی باقی ماندہ مدت کے لیے مقررہ شرح کٹوتی میں 25 فیصد کی کمی کردی گئی ہے۔ اس سے ٹیکس دہندگان کو پچاس ہزار کروڑ روپے کا فائدہ ہوگا۔
پیکیج کی دوسری قسط کا اعلان کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت اپنا گھر چھوڑکر دوسری جگہوں پر کام کرنے والے مزدوروں کو آئندہ دو ماہ تک مفت راشن فراہم کرے گی۔ اس کے علاوہ سڑکوں پر ٹھیلا لگانے والوں کو خصوصی قرض دیے جائیں گے جس کے لیے پانچ ہزار کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ کسانوں کے لیے بھی تیس ہزارکروڑ روپے کے ایمرجنسی فنڈ کا اعلان کیا گیا ہے۔
وزیراعظم نے اپنے خطاب میں لوگوں سے اپیل کی تھی کہ وہ اپنے ملک میں تیارکردہ سامان ہی خریدیں کیونکہ کسی بحران کو صورت میں وہ آسانی سے دستیاب ہوتے ہیں۔ جناب مودی کی جانب جس معاشی پیکیج کا اعلان کیا گیا ہے وہ مجموعی گھریلو پیداوار کا دس فیصد ہے، جس کا خیرمقدم کیا جانا چاہیے۔ امید ہے کہ اس پیکیج سے ملک کی معیشت کو خاطر خواہ فروغ حاصل ہوگا۔
Comments
Post a Comment