پاک حکومت کی جمہوری آوازوں کو دبانے کی کوشش

جمہوری نظام میں عوام کی حکومت ہوتی ہے۔ یہ عوام کے ذریعے، عوام کے لئے چلائی جاتی ہے۔ اسی لیے پاک دانشور، صحافی اور انسانی حقوق کے حامی پاکستان میں جمہوری نظام مستحکم بنانا چاہتے ہیں۔ وہ اپنی آواز ہر خاص و عام تک پہنچانا چاہتے ہیں مگر پاک حکومت ان کی آواز دبانے کا کوئی موقع چھوڑتی نہیں ہے۔ اس کی پوری کوشش رہتی ہے کہ پاک اسٹیبلشمنٹ کی مذموم کارکردگی آشکارا نہ ہو، چنانچہ پچھلے دنوںپاکستان میں ہونے والے مظالم، قتل اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر ’ساتھ ‘ورچوئل کانفرنس کا انعقاد کیا تو پاکستان کے کئی علاقوں میں ٹوئٹر، اس کی ویڈیو اسٹریمنگ سروس پریسکوپ اور ورچوئل کانفرنسنگ ایپ زوم کو بلاک کر دیا گیا تاکہ لوگ اس سے وابستہ نہ ہو سکیں، اس پر اپنے تاثرات کا اظہار نہ کر سکیں اور سب سے اہم بات ہے کہ ایسے سوال نہ کریں جن کا جواب دینا پاک حکومت کے لیے مشکل ہو لیکن پاکستان کی حکومت سوالوں سے آخر کب تک بچتی رہے گی اور کب تک لوگوں کے سوالوں کا اطمینان بخش جواب نہیں دے گی۔ حالات ہی کیوں ایسے ہیں کہ وہ سوالوں کے دائرے میں ہے۔ بلوچستان میں جبری گمشدگی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ اس پر لوگ احتجاج کرتے رہے ہیں مگر اس آسان سوال کا جواب پاک حکومت آج تک نہیں دے پائی کہ لوگ غائب کیوں ہو جاتے ہیں؟ کیا جائز حقوق کے حصول کے لیے آواز اٹھانا اتنا بڑا جرم ہے کہ آواز ہمیشہ کے لیے گلے میں ہی گھونٹ دی جائے؟

’ساتھ‘کی تشکیل امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی اور کالم نگار محمد تقی نے کی تھی۔ اس فورم نے 17 مئی کو بلوچ صحافی ساجد حسین اور پشتون تحفظ تحریک کے لیڈر عارف وزیر پر ایک ورچوئل کانفرنس منعقد کرنے کا اعلان کیا تھا۔ بلوچوں کے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر ساجد کی تحریریں بلوچستان کے حالات کی صحیح تصویر پیش کیا کرتی تھیں۔ یہ بات پاک اسٹیبلشمنٹ اور حکومت کے لیے خفگی کی وجہ بنا کرتی تھی۔ اسی طرح پشتون تحفظ تحریک پشتونوں کے جائز حقوق کے تحفظ کے لیےایک سماجی تحریک رہی ہے۔ اس تحریک کو آگے بڑھانے میں عارف وزیر پیش پیش تھے مگر ان کی سماجی خدمات کی حکومتی سطح پر کبھی قدر نہیں کی گئی بلکہ اس تحریک کی وجہ سے وہ نشانے پر رہے، کیونکہ ’نئے پاکستان‘ میں بھی انسانی حقوق کی تحریکوں کے لیے کوئی گنجائش نہیں نکالی جا سکی ہے، البتہ صحافیوں اور دانشوروں کے ساتھ عام لوگ بھی ان تحریکوں کی اہمیت سمجھنے لگے ہیں، چنانچہ وہ جاننا چاہتے ہیں کہ ساجد حسین اور عارف وزیر کا آخر قصور کیا تھا کہ انہیں مار ڈالا گیا؟

دراصل ساجد حسین پاکستان کے پہلے صحافی نہیں تھے جن کی لاش پراسرار حالت میں ملی۔ اسی طرح انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے عارف عزیز پہلے ایسے لیڈر نہیں تھے جو ہلاک کیے گئے۔ صحافیوں، دانشوروں اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والوں کا قتل پاکستان میں ہوتا رہا ہے۔ پاک حکومت جانتی تھی کہ ورچوئل کانفرنس میں بات ساجد حسین اور عارف عزیز تک ہی محدود نہیں رہے گی، گفتگو کا دائرہ دیگر مقتول صحافیوں، دانشوروں اور انسانی خدمت گاروں تک بھی دراز ہوگا، بلوچستان کے حالات پر بھی گفتگو ہوگی اور وہ سوال ایک بار پھر ابھر کر سامنے آئیں گے جن سے وہ آج تک بچنے کی کوشش کرتی رہی ہے، چنانچہ بغیر کسی عذر کے ٹوئٹر، پریسکوپ اور زوم بلاک کر دیے گئے لیکن پاک حکومت کے اس مذموم عمل نے ’ساتھ‘ کے ورچوئل کانفرنس کو اور مشتہر کر دیا ہے۔ اس حوالے سے پاکستان میں انسانی اور جمہوری حقوق کی خلاف ورزیاں دنیا بھر میں موضوع بحث ہیں۔

’ساتھ‘ کے ورچوئل کانفرنس میں بلوچوں کے کئی لیڈر نبی بخش بلوچ، گل بخاری، افراسیاب خٹک، طٰحہٰ صدیقی، گلالئی اسماعیل اور احمد وقاس گورایا شرکت کرنے والے تھے۔ احمد وقاس نے حکومت پاکستان پر الزام عائد کیا ہے کہ ٹوئٹر، پریسکوپ اور زوم کو اس نے بلاک کیا تاکہ پاکستان کے شہری اس سے نہ جڑیں مگراس کا ویڈیو جاری کیا جائے گا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان کے صحافیوں اور دانشوروں نے حالات کے سامنے خودسپردگی نہیں کی ہے، وہ اپنی جدوجہد اس وقت تک جاری رکھنا چاہتے ہیں جب تک پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کاسلسلہ رُکے گا نہیں، اس لیے بہتریہی ہے کہ پاک اسٹیبلشمنٹ اور حکومت انسانی حقوق کی پامالیوں کو روکے، دانشوروں اور صحافیوں کی آواز دبانے کی کوشش نہ کرے، کیونکہ ان کی آواز دبانے کی جتنی کوشش کی جائے گی، ان کا جوش اتنا ہی بڑھے گا اور ایک وقت ایسا آئے گا جب ان کی آواز دبانا پاک اسٹیبشلمنٹ اور حکومت دونوں کے لیے مشکل ہوگا۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ