چین کے رحم و کرم پر پاکستانی صارفین

پاکستان ایک بار پھر اپنے ہی جال میں پھنس گیا ہے۔ حالانکہ یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے۔ تاہم افسوس کی بات یہ ہے کہ بار بار گرنے کے بعد بھی یا تو وہ سنبھل نہیں پارہا ہے یا جان بوجھ کر سنبھلنا ہی نہیں چاہتا ہے۔تازہ معاملہ چین پاکستان اکنامک کوریڈور یعنی سی پیک کا ہے۔ 62 ارب ڈالر کے اس عظیم الشان پروجیکٹ کا کافی چرچا رہا ہے۔ پاکستان بھی چین کے ساتھ اپنے اسٹریٹیجک تعلقات کو برقرار رکھنے کے لیے اس پروجیکٹ میں شامل ہوا اور پاکستانی عوام کو اس کے سینکڑوں فائدے گنوائے گئے۔ لیکن اب پتہ چلا کہ سی پیک پروجیکٹ سے پاکستان کو فائدہ تو درکنار اس پروجیکٹ کی آڑ میں چین پاکستانی عوام کا بری طرح اقتصادی استحصال کررہا ہے۔

معاملے نے جب پریشان کن صورت اختیار کرنی شروع کی تو وزیر اعظم عمران خان نے اس معاملے کی انکوائری کے لیے ایک کمیٹی قائم کردی۔ کمیٹی کو بنیادی طور پر یہ پتہ کرنا تھا کہ پاکستانی صارفین کو جو بجلی سپلائی کی جائے گی اس کی شرحیں اتنی زیادہ کیوں ہیں۔ لیکن جب جانچ شروع ہوئی تو پتہ چلا کہ وہاں تو بدعنوانیوں کا انبار لگا ہوا ہے اور پاکستان میں بجلی پیدا کرنے کے پروجیکٹ میں شامل چین کی پرائیوٹ کمپنیا ں غلط اور نامناسب طریقے استعمال کررہی ہیں۔کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ چینی کمپنی اپنے پیداواری لاگت کو بہت زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کررہی ہے اور پاکستانی عوام کی جیبوں پر ڈاکے ڈال رہی ہیں۔

پاکستانی عوام چین کو ہمیشہ سے دنیا میں اپنا سب سے بھروسے مند دوست سمجھتے رہے ہیں۔لیکن چین کی طرف سے انتہائی بے رحمی کے ساتھ ان کے استحصال کے انکشاف نے پاکستانی عوام کو صدمے سے دوچار کردیا ہے۔پاکستان میں اب تک جتنی بھی سویلین حکومتیں اقتدار میں رہی ہیں اور خود پاکستان کی فوج نے بھی ہندوستان کے خلاف چین کو اپنا ہمیشہ سے سب سے زیادہ مددگار ساتھی سمجھا ہے۔ پاکستان کی سول انتظامیہ اور فوج دونوں ہی چین کی ہمیشہ گن گاتی رہی ہیں۔ لیکن اب یہ بات سامنے آگئی ہے کہ چین کو نہ تو پاکستان سے دلچسپی ہے اور نہ ہی پاکستانی عوام سے کوئی ہمدردی بلکہ اسے صرف اور صرف اپنی معیشت کو طاقت ور بنانے اور زیادہ سے زیادہ دولت کمانے میں دلچسپی ہے۔

وزیر اعظم کی طرف سے قائم کردہ کمیٹی نے 278صفحات پر مشتمل اپنی رپورٹ میں ان حقائق کو تفصیل سے اجاگر کیا ہے کہ کسی طرح بجلی پیدا کرنے کے نام پر تقریباً 100ارب روپے کی ہیرا پھیری کی گئی جو کہ مذکورہ پروجیکٹ کا کوئی ایک تہائی ہے۔یہا ں یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہے کہ سی پیک اور پاکستان کی طاقت ور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان بہت ہی قریبی تعلقات ہیں۔ لفٹننٹ جنرل عاصم سلیم باجوا سی پیک اتھارٹی کے چیئرمین ہیں۔ جنرل باجوا اطلاعات و نشریات سے متعلق وزیر اعظم کی کمیٹی کے خصوصی معاون بھی ہیں۔ ایسے میں ایک عام آدمی بھی آسانی سے سمجھ سکتا ہے کہ اتنی بڑی بدعنوانی کی خبریں باہر آنا کتنا مشکل ہے۔ اور حقائق پر پردہ ڈالنے کے لیے مفاد پرست عناصر کیا کچھ کرسکتے ہیں۔

کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں پوری تفصیل سے بتایا ہے کہ اس پروجیکٹ میں کہاں کہاں اور کتنی رقم کی ہیرا پھیری ہوئی، کس طرح دھاندلی کی گئی اور کس طرح پاکستانی عوام کو دھوکے دیے گئے۔چین کی پرائیوٹ کمپنی نے اپنے اقدامات کو درست ٹھہرانے کے لیے اعدادو شمار کا کھیل کھیلنے کی بھی کوشش کی ہے لیکن اس کی ان تمام کوششوں کے باوجود یہ بات بالکل واضح ہے کہ چین کو پاکستانی عوام کی بہتری سے خوشحالی سے زیادہ اپنی تجوری بھرنے میں دلچسپی رہی ہے۔ اور چین کی سرمایہ کاری پاکستان کے لیے فائدے کے بجائے گھاٹے کا سودا بن گئی ہے۔

پاکستان کو اب بھی اس بات کا شاید احساس نہیں ہوپارہا ہے کہ چین مدد کے نام پراس کے ساتھ کس طرح دھوکہ دہی کرتا رہا ہے۔ ایک پاکستانی تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ چین پاکستان کی مدد تو کرتا ہے لیکن اس کی مدد ایسی ہوتی ہے کہ ڈیم بنوالو لیکن اسے چین کے پاس گروی رکھ دو۔ گوادر بنوالو لیکن اسے چین والے چلائیں گے۔ سی پیک بنوالو لیکن اس کی آمدنی چین کے کھاتے میں جائے گی۔پاکستانی عوام کو چاہئے کہ وہ اس بات کا بھی پتہ لگائیں کہ چینی کمپنیوں کی اس لوٹ کھسوٹ میں وہ کون کون سے لوگ شامل ہیں جو پاکستان سے محبت کی قسمیں کھاتے ہوئے نہیں تھکتے ہیں۔پاکستانی عوام کو چاہئے کہ ایسے لوگوں کا پردہ فاش کرنے کے لیے حکومت پر دباو ڈالیں تاکہ ایسے لوگوں کو قانونی کارروائی کے دائرے میں لایا جاسکے۔

ایسے وقت میں جب کوروناوائرس کی وبا کی وجہ سے پاکستانی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔ پاکستان کو اپنی چھوٹی چھوٹی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے عالمی مالیاتی اداروں اور دوسرے ملکوں کی طرف دیکھنا پڑر ہا ہے ایسے میں چین کی طرف سے پاکستان کی معیشت پر جو کاری ضرب لگائی گئی ہے اس کے اثرات پاکستانی عوام بہت دیر او ربہت دور تک محسوس کریں گے۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ