افغانستان سے موصول ہونےو الی ایک اچھی خبر

افغانستان ایک ایسا جنگ زدہ ملک ہے جہاں چار دہائیوں سے بھی زیادہ عرصہ سے افرا تفری، انتشار، خون خرابے، خانہ جنگی اور دہشت گردی کا ماحول قائم ہے۔ 1996 میں اندرونی کشمکش اور خون خرابے کے بعد ایک جنگجو گروپ طالبان کا اقتدار قائم ہوا تھا۔ اس نے ایک سخت گیر جارحانہ اور خود ساختہ قسم کا نام نہاد اسلامی نظام قائم کرنے کا دعویٰ کیا تھا جس میں خواتین کو بطور خاص دوسرے درجے کی مخلوق تصور کیا جاتا تھا۔ انہیں تعلیم سے محروم اور چہار دیواری کے اندر محصور کرنا اس نظام کا طرہ امتیازتھا۔ مردوں پر بھی مذہب کے نام پر زیادتی کرنا عام بات تھی۔ انسانی وقار اور حقوق کی گویا کوئی اہمیت ہی نہیں تھی لیکن اس سے بہت پہلے جب افغانستان میں سوویت فوجیں داخل ہوئی تھیں تو اس کے خلاف مزاحمت کی ایک لہر آئی تھی چونکہ وہ سرد جنگ کا زمانہ تھا اس لئے افغانستان، دو بڑی طاقتوں یعنی سوویت یونین اور امریکہ کی آپسی رقابت اور طاقت آزمائی کا بھی اکھاڑا بن گیا تھا۔ مقامی مزاحمتی تحریک کو امریکہ کی پوری حمایت حاصل تھی اور اس معاملے میں افغانستان کے پڑوسی ملک پاکستان نے بھی امریکہ کی بھرپور حمایت کی تھی۔ پاکستان امریکہ کا غیرناٹو اتحادی بھی تھا لہٰذا امریکی ایجنسی سی آئی اے اور پاکستان کی بدنام زمانہ خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے اشتراک سے ‘‘مجاہدین’’ کی کھیپ تیار ہونے لگی اور انہیں عسکری ٹریننگ اور ہتھیار بھی خوب مہیاکرائے گئے۔ پاکستان کے بہت سے مدرسے ٹریننگ کیمپ بن گئے جہاں بڑے پیمانے پر دنیا بھر سے جنگجوؤں کو بلاکر ٹریننگ دی گئی۔ بالآخر سوویت فوجیں پسپا ہوگئیں اور سوویت یونین کچھ ہی دن بعد بکھر گیا۔ گویا یہ سرد جنگ کا خاتمہ تھا۔ امریکہ کی دلچسپی اس خطے سے کم ہوگئی لیکن افغانستان کو اس کے بعد امن واستحکام میسر نہ آیا۔خانہ جنگی اور اقتدار کی کشمکش میں مختلف گروپ ایک دوسرے سے دست گریباں ہوئے اور War lords کا بھی اپنا کھیل تھا۔ بہرحال کافی اتھل پتھل کے بعد طالبان نے بزور بازو اقتدار سنبھالا جسے پاکستان اور اس کی فوج اور ایجنسیوں کی پوری حمایت ہی نہیں بلکہ سرپرستی بھی حاصل رہی۔ طالبان حکومت کو پاکستان سمیت صرف تین ملکوں نے تسلیم کیا تھا۔

سوویت یونین کے خلاف مزاحمت تو ختم ہوچکی تھی جس کے بعد جنگجو ‘‘بے روزگار’’ ہوگئے تھے۔ پاکستانی ایسٹبلشمنٹ نے ان میں سے بہت سے گروپوں کو دہشت گردی کو فروغ دینے کے لئے کشمیر میں بھی استعمال کیا۔ ایک بڑی عالمی دہشت گرد تنظیم القاعدہ کا مسکن بھی افغانستان ہی بن چکا تھا جس پر 11/9 کے حملے کا الزام ہے۔ امریکہ پر ہونے والے ان حملوں کے بعد امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف افغانستان میں عالمی جنگ چھیڑ دی۔ اس جنگ میں بھی پاکستان نے بہ ظاہر تو امریکہ کا ہی ساتھ دیا لیکن درپردہ طالبان کی حمایت کی اور دہشت گردی سے لڑنے کے نام پر امریکہ سے جاری امداد اور اسلحے بھی حاصل کئے۔ امریکہ نے رفتہ رفتہ یہ بات پورے طور پر محسوس کرلی کہ پاکستان نے اسے دھوکہ دیا اور درپردہ وہ طالبان کی حمایت اور پشت پناہی کرتا ہے خود صدر ٹرمپ نے پاکستان پر براہ راست دھوکہ اور فریب کاالزام لگایا لیکن وہ افغانستان سے امریکی فوجوں کو جلد از جلد واپس بھی بلانے کی تیاری کرنے لگے اور اسی لئے انہوں نے طالبان سے بات چیت کا سلسلہ بھی شروع کردیا۔ ایک بار تو بات چیت کا سلسلہ ٹوٹ بھی گیا تھا لیکن دوبارہ یہ سلسلہ شروع ہوااور اس بار ایک سمجھوتہ بھی ہوا جس کی رو سے طالبان نے یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ امریکی فوجوں کی محفوظ واپسی کو یقینی بنائیں گے۔

یہ سمجھوتہ تو ہوا۔ ممکن ہے وہ امریکی فوجوں کی محفوظ واپسی کی گارنٹی دینے کا عہد پورا بھی کریں لیکن آثار تو یہی بتاتے ہیں کہ وہ خود اپنے ملک میں امن کے کاز کو فروغ دینے کی کوئی گارنٹی نہیں دینا چاہتے۔ اسی لئے وہ افغانستان کی آئینی طور پر قائم ہونے والی حکومت کو کوئی اہمیت نہیں دیتے۔ حالانکہ تاثر یہی دیا گیا تھا کہ امریکہ اور طالبان کے مابین سمجھوتہ ہوجانے کے بعد اندرون افغانستان مختلف حلقوں کے درمیان بات چیت کا سلسلہ بھی شروع ہوگا اور کوئی سیاسی سمجھوتہ ہوگا۔

افغانستان کا صدارتی الیکشن گزشتہ سال ستمبر ہی میں منعقد ہوا تھا۔ یہ وہ دور تھا جب امریکی اور طالبان نمائندوں کے درمیان بات چیت کا سلسلہ چل رہا تھا۔ اُس درمیان طالبان کے حملے بھی ہوتے ہی رہے۔ لیکن الیکشن کا مرحلہ بہرحال مکمل ہوگیا لیکن نتیجہ کے اعلان میں کافی تاخیر ہوئی تھی۔

نتیجہ اشرف غنی کے حق میں جاتا دکھائی دیا اور وہاں کے الیکشن کمیشن نے بھی یہی اشارہ کیا تھا لیکن دوسرے صدارتی امیدوار ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ یہ نتیجہ ماننے پر تیار نہیں ہوئے جس کی وجہ سے غیریقینی کا ماحول پیدا ہوگیا تھا۔گزشتہ صدارتی انتخابات کے بعد بھی کچھ یہی صورتحال پیدا ہوئی تھی جس میں اقتدار کی ساجھیداری اس طور پر ہوئی تھی کہ ڈاکٹر اشرف غنی صدر بنائے گئے تھے اور ڈاکٹر عبداللہ سی ای او بنے تھے۔ اس بار بھی دونوں لیڈروں کے درمیان اسی طور پر ٹھنی ہوئی تھی۔ ظاہر ہے یہ بات کسی کے حق میں نہ تھی خاص طور سے اس صورت میں جب طالبان کی نہ صرف سوچ الگ ہے بلکہ وہ افغانستان کی موجودہ آئینی حیثیت کو ہی نہیں تسلیم کرتے۔ بہرحال، اسی غیریقینی ماحول میں ایک اچھی خبر یہ سننے میں آئی کہ دونوں لیڈروں کے درمیان سمجھوتہ ہوگیا ہے۔ حکومت میں دونوں کی شراکت داری ہوگی ڈاکٹر اشرف غنی ایک بار پھر صدر ہونگے جبکہ ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ قومی مصالحت سے متعلق اعلیٰ اختیاراتی کونسل کے سربراہ ہونگے اور ان کے کچھ ساتھی غنی حکومت میں بطور وزیر بھی شامل ہونگے۔ موجودہ صورتحال میں اسے ایک فال نیک سمجھا جانا چاہئے۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ