تاریخ کے ایک انتہائی نا خوشگوار دور سے گزرتی عالمی برادری
انسانی تاریخ نے اب تک نہ جانے کیا کچھ نہیں دیکھا ہے۔ بہت سے خوشگوار اور ناگوار واقعات سے عالمی تہذیب کا کارواں گزرا۔ دنیا نے بہت سی جنگیں اور خون خرابے کے مناظر دیکھے۔ کئی انقلابات اور تغیرات سے بھی گزری۔ خود گزشتہ صدی یعنی بیسویں صدی میں بھی تاریخ عالم نے دو ہولناک جنگیں دیکھیں اور پچھلی صدی ہی میں اسپینش (Spanish) فلو نام کی وبا نے بھی دنیا کے کروڑوں انسانوں کو نگل لیا تھا۔ اب اکیسویں صدی کا بیسواں سال ہے۔ 2019 ہی کے آخری ایام میں کورونا وائرس کی دستک پہلی بار چین کے ایک علاقے ووہان میں سنائی دی، جس نے رفتہ رفتہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ایسے حالات میں مایوسی، ناامیدی اور فرسٹریشن کا دامن گیر ہونا تو ایک فطری بات ہے، لیکن اس وبا نے جتنی مایوسی اور غیر یقینی صورت حال سے اقوام عالم کو دوچار کیا ہے، اس کی مثال شاید تاریخ عالم میں دوسری نہیں ملتی۔ اب تک پوری دنیا میں کم و بیش ساڑھے تین لاکھ افراد لقمۂ اجل بن چکے ہیں اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ کہیں کہیں سے کچھ کمی بیشی کی خبریں ضرور موصول ہوتی ہیں لیکن بے یقینی کا ماحول ہر جگہ برقرار ہے۔ دنیا کے بیشتر ملکوں میں لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا گیا لیکن یہ سلسلہ بھی ایک آدھ ملکوں کو چھوڑ کرکہیں بھی پورے طور پر کامیاب ہوتا نظر نہیں آیا۔ ڈاکٹر اور طبی سائنس کے ماہرین دن رات اس کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ کوئی ایسی دوا ایجاد کی جاسکے جس سے عالمی برادری راحت محسوس کرے اور امید کی کوئی کرن نظر آئے۔ تجربات ہو رہے ہیں۔ دنیا بھر کی طبی تجربہ گاہوں میں تحقیق اور تجربات کا سلسلہ جاری ہے۔ کچھ پرانی وباؤں کی دواؤں اورتجربات کو بھی نئے سرے اور نئے انداز سے جانچنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ عالمی صحت تنظیم یعنی ڈبلیو ایچ او بھی تمام باتوں پر نظر رکھ رہی ہے اور وقتا فوقتا ضروری ہدایات بھی جاری کر رہی ہے لیکن ابھی تک حتمی نتیجہ تک پہنچنے کا کوئی مرحلہ نظر نہیں آیا۔اس وبا نے دنیا کو عجیب عجیب ناخوشگوار واقعات اور تجربات سے روشناس کرایا۔ اس سے نمٹنے کے لئے جو طریقے اختیار کئے گئے وہ بھی کچھ کم ناخوشگوارنہیں ہیں۔ اس بیماری پر قابو پانے کے لئے سماجی سطح پر دوری قائم کرنا، بھیڑ بھاڑ سے بچنا اور ایسے دیگر اقدامات کو لازمی تصور کیا گیا۔ یہ ضروری بھی ہے، حالانکہ اس کے بڑے ناخوشگوار پہلو بھی دیکھنے کو مل رہےہیں۔ ان سب اقدامات کا اثر انسانی زندگی پر بھی عجیب انداز سے مرتب ہو رہا ہے۔مشکل سے مشکل حالات میں بھی انسان، انسانی رشتوں کو نبھاتا ہے لیکن اس بیماری نے انسانی جذبات اور رشتوں کو بھی کچلنے پرمجبور کردیا۔ مثلاً ایک مثال یہی دیکھئے کہ ڈچ (Dutch) وزیر اعظم لاک ڈاؤن کی وجہ سے عائد کردہ ضابطوں کے تحت اپنی آخری سانسیں گنتی ہوئی اپنی معمر اور بیمار ماں کا آخری دیدار بھی کرنے سے محروم رہ گئے۔ ان کی والدہ ایک کیئر ہوم میں داخل تھیں۔ اتفاق سے اس کو بھی اس وبا نے اپنی لپیٹ میں لے لیاتھا۔ حالانکہ ڈچ وزیراعظم کی والدہ کورونا کا شکار نہیں تھیں لیکن کیئر ہوم میں کسی بھی بیرونی فرد کا داخلہ ممنوع قرار دے دیا گیا تھا۔ ضابطہ تو ضابطہ ہوتا ہے لہٰذا اس کی پاسداری وزیراعظم کو بھی کرنی تھی۔ سو اس ضابطے کا پاس کرتے ہوئے وزیراعظم نے وہاں جانا مناسب نہیں سمجھا اور اس طرح نہ تو وہ اپنی والدہ کا آخری دیدار کرپائے اور نہ آخری رسوم میں شرکت کرسکے۔
اسی ماحول میں پوری دنیا میں عید کا تیوہار بھی منایا گیا۔ بیشتر لوگوں نے عید کی نماز اپنے گھروں میں ہی ادا کی، نہ کہیں تقریبات کا اہتمام ہوا اور نہ تو لوگ ، دوستوں اور رشتہ داروں سے مل کر انہیں براہ راست عید کی مبارکباد پیش کرسکے۔ پاکستان کی معروف صحافی محمل سرفراز کے والد دوسرے شہر میں رہتے ہیں۔ انہوں نے عید کے بعد اس شہر کا دورہ کسی صورت کیا اور ان سے ملنے گئیں، لیکن بقول ان کے ، اپنے والد سے گلے ملنے کی خواہش کو انہوں نے دبا دیا اور ان کے قریب بیٹھنے سے بھی محروم رہیں۔ کچھ فاصلے پر بیٹھ کر ان سے بات چیت کی۔ جب واپس آنے لگیں تو ان کے والد نے اپنی بیٹی کو گلے لگانا چاہا لیکن انہوں نے درخواست کی کہ ’’ابو ایسا مت کیجئے‘‘۔ ذرا غور کیجئے اس وبا نے انسان کو کتنا مجبور کردیا۔ معلوم نہیں یہ صورت حال کب تک رہے گی؟ اگر ہندوستان اور پاکستان کی بات کریں تو یہاں تو اس وبا کے علاوہ کچھ اور بھی المناک واقعات رونما ہوئے۔ پاکستان میں ایک ہوائی حادثہ ہوا۔ لاہور سے کراچی جانے والا ایک جہاز ایک رہائشی علاقے سے جا ٹکرایا، جس کے باعث دو ایک کو چھوڑ کر باقی تمام مسافر لقمۂ اجل بن گئے، جن کی تعداد 97 تھی۔ دوسری طرف ہندوستان میں چند روز قبل ایک زبردست گردابی طوفان امفن (Amphan) آیا، جس سے مغربی بنگال اور اوڈیشہ کی ریاستیں بہت زیادہ متاثر ہوئیں۔ گاؤں کے گاؤں تباہ ہوئے۔ ریاست مغربی بنگال میں کافی تباہی آئی، خود کولکاتہ شہر میں اتنی تباہی آئی کہ ایک ہفتہ تک شہر میں بجلی اور پانی کا بحران رہا۔انٹرنیٹ اور ٹیلی فون کی سروس معطل رہی۔ یہ سب کچھ بھی کورونا کے بحران کے زمانے ہی میں ہوا۔ ایسا لگتا ہے کہ کورونا نام کی وبا زندگی کا انداز ہی بدل کر رکھ دے گی۔ پھر بھی امید ہے کہ روشنی کی کرن نمودار ہوگی۔ ہمیں اس کرن کا صبر وتحمل کے ساتھ انتظار کرنا ہوگا۔
Comments
Post a Comment