کابل حکومت کا سیزفائر کی مدت میں توسیع کا مطالبہ

اب جب کہ افغان حکومت صدارتی انتخاب کے بعد باقاعدہ تشکیل پاچکی ہے تو امید کی جانی چاہیے کہ جو سیاسی بحران پیدا ہوگیا تھا اس کی ناخوشگوار یادیں دور ہو جائیں گی اور نئی حکومت بحسن وخوبی اس جنگ زدہ ملک میں حکومت کا نظم ونسق سنبھالے گی۔ دراصل یہ سیاسی بحران اس لیے پیدا ہوا تھا کہ صدارتی عہدے کے دو بڑے امیدوار جو ایک دوسرے کے حریف تھے، وہ انتخابات کے نتیجہ کے تعلق سے دو الگ الگ رائے رکھتے تھے۔ ڈاکٹر اشرف غنی کا یہ دعوی تھا کہ نتائج ان کے حق میں ہیں جب کہ ان کے حریف ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ اس بات سے متفق نہ تھے۔ ان کا دعوی یہ تھا کہ ان کا پلہ بھاری ہے۔ اس کشمکش میں کافی وقت ضائع ہوگیا اور حکومت سازی میں غیرمعمولی تاخیر ہوئی۔ بہرحال دونوں فریقوں کے درمیان یہ سمجھوتہ ہوا کہ دونوں مل کر حکومت چلائیں گے۔ ڈاکٹر غنی پہلے ہی کی طرح صدر رہیں گے جب کہ ڈاکٹر عبداللہ قومی مصالحتی کونسل کے سربراہ ہوں گے۔

افغانستان میں اس وقت جو سب سے بڑا مسئلہ درپیش ہے وہ یہ ہے کہ طالبان سے بات چیت کا معاملہ کس طور پر آگے بڑھایا جائے تاکہ قومی پیمانے پر افغانستان کے مستقبل کے تعلق سے کوئی سیاسی خاکہ تیار کیا جاسکے جس میں وسیع تر حلقے کی نمائندگی ہوسکے۔ 1996 سے 2001 تک کابل پر طالبان کا تسلط تھا جسے کسی بھی اعتبار سے افغان عوام کی نمائندہ حکومت نہیں کہا جاسکتا تھا۔ اس دور میں انسانی حقوق اور وقار کی بڑے پیمانے پر بے حرمتی ہوئی تھی۔ ایک سخت گیر قسم کا نام نہاد مذہبی نظام قائم کیا گیا تھا جو اسلام کی حقیقی اسپرٹ سے ہم آہنگ نہیں تھا۔ بہرحال 2001 کے اواخر میں طالبان حکومت زمیں بوس ہوگئی تھی اور امریکہ کی قیادت میں وہاں نیٹو کی اتحادی فوجیں تعینات تھیں۔ طالبان حکومت کے زوال کے بعد طالبان قیادت نے پاکستان میں پناہ لی اور وہیں سے ان کی تمام منصوبہ بندی ہوتی تھی۔ حالانکہ پاکستان سرکاری طور پر امریکہ کا اتحادی تھا لیکن پاکستان کے فوجی اسٹیبلشمنٹ اور طالبان کے مابین بڑے اٹوٹ نوعیت کے رشتے موجود تھے۔ طالبان پاکستان ہی کی سرزمین سے امریکہ کی قیادت والی فوجوں پر حملہ کی منصوبہ بندی کرتے تھے۔

امریکی قیادت نے افغانستان سے واپسی کا منصوبہ ترتیب دنیا شروع کیا۔ کوئی چھ سال قبل امریکی فوجوں کی بڑی تعداد تو افغانستان سے واپس چلی گئی لیکن ایک مخصوص تعداد رہ گئی تھی تاکہ وہ بوقت ضرورت افغان سیکورٹی فورسز کی مدد کرسکے۔ لیکن اس درمیان افغانستان میں طالبان کے حملے بڑھتے ہی گئے۔ صدر ٹرمپ نے بالآخر افغانستان سے باقی ماندہ فوجیں واپس بلانے کا فیصلہ کیا۔ قصہ مختصر یہ کہ چند ماہ قبل طالبان اور امریکی نمائندوں کے درمیان ایک سمجھوتہ ہوا جس کے تحت افغانستان سے امریکی فوجیں واپس چلی جائیں گی لیکن ان کی محفوظ واپسی کی طالبان نے گارنٹی دی تھی۔ یہ عمل اب مکمل ہونے والا ہے اور توقع یہی ہے کہ یہ مرحلہ بھی طے ہو جائے گا۔ لیکن اس کے بعد اندرون افغانستان مختلف حلقوں کے درمیان بات چیت کا وسیع تر عمل شروع کرنے کی بات ہوئی تھی۔ اس سلسلے میں طالبان کے طریقۂ کار کی وجہ سے اکثر شبہات کا ماحول پیدا ہوجاتا ہے۔ افغانستان کی آئینی حکومت کی ہر پیشکش پر ان کا رد عمل منفی رہتا ہے۔ گزشتہ ماہ طالبان نے حکومت افغانستان کے رمضان کے مقدس مہینہ میں سیز فائر نافذ کرنے کے مطالبے کو ٹھکرادیا تھا۔ صرف اتناہی نہیں بلکہ طالبان اور افغان سیکورٹی فورسز کے درمیان تصادم کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا۔ پھر افغان حکومت نے بھی فیصلہ کیا کہ اگر طالبان کے حملے جاری رہے تو افغان فورسز بھی جوابی کارروائی سے گریز نہیں کریں گی۔ اسی درمیان عیدالفطر کا تہوار بھی آگیا۔ طالبان نے اس موقع پر تین دن کے سیز فائر کا اعلان کیا تھا۔ ایک مرحلے میں دونوں فریقوں کے درمیان یہ بھی طے ہونا ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے قیدیوں کو مرحلہ وار طور پر رہا کریں گے۔ حکومت افغانستان نے طالبان سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ وہ سیز فائر کی مدت میں توسیع کرے تاکہ اس درمیان وہ طالبان کے 900 قیدیوں کو رہا کرسکے۔ یہ تعداد اب تک کی سب سے بڑی تعداد ہے جس کا اعلان حکومت کی جانب سے ہوا ہے۔ دراصل طالبان اور امریکہ کے درمیان جو سمجھوتہ ہوا تھا اسی سمجھوتے کا ایک حصہ یہ بھی ہے کہ قیدیوں کو رہا کیا جائےگا۔ تاکہ انتہاپسندوں اور افغانستان کے تکثریت پسند ڈیلی گیشن کے درمیان افغانستان کے مستقبل کےتعلق سے امن سمجھوتے کی راہ ہموار ہوسکے۔ ظاہر ہے یہ عمل اس بات کا متقاضی ہے کہ ہر فریق خاطر خواہ تحمل کا مظاہرہ کرے اور اپنے سنجیدہ رویوں کے ذریعہ یہ ثابت کرے کہ وہ واقعی افغانستان میں امن کا خواہاں ہے۔ ہندوستان، افغانستان کے اندرونی معاملات میں کسی تیسرے فریق کی مداخلت کا قائل نہیں ہے، اس کا شروع سے یہ موقف رہا ہے کہ افغانستان کے مستقبل کے بارے میں جو بھی فیصلہ ہو اس میں صرف افغانستان کے ہی مختلف حلقوں کے نمائندے شامل ہوں اور اس کی قیادت بھی افغانستان ہی کے ہاتھ میں ہو۔ طالبان کو حکومت افغانستان کی اس بات پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے کہ سیز فائر کی مدت میں توسیع کی جائے۔اگر ایسا ہوتا ہے تو بات بڑھانے میں آسانی ہوگی ورنہ تصادم اور کشمکش کے ماحول میں بات بننے کی بجائے بگڑسکتی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ