ایس سی او وزراء خارجہ کی میٹنگ میں کووڈ-19 اور دہشت گردی پر تبادلۂ خیال

2017میں ہندوستان اور پاکستان کی مکمل اراکین کی حیثیت سے شنگھائی تعاون تنظیم میں شمولیت کے بعد سے اس تنظیم میں بھارت کا قد کافی اونچا ہوا ہے، کیونکہ نئی دہلی نے تنظیم کیلئے کافی خدمات انجام دی ہیں۔ ایسی صورتحال میں جب تمام دنیا کووڈ 19- جیسی وبا سے جوجھ رہی ہے۔ بہتر ہوگا اگر تمام علاقائی اور بین الاقوامی تنظیمیں اس عالمی چیلنج پر تبادلۂ خیال کرنے اور اس کا دیرپا حل تلاش کرنے کیلئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوجائیں۔

2005سے ہندوستان شنگھائی تعاون تنظیم کا ایک مشاہد تھا اور اس نے تنظیم کی وزارتی سطح کی میٹنگوں میں شرکت کی جو یوروپ اور ایشیائی علاقہ میں سیکورٹی اور معاشی تعاون کے معاملات پر اپنی توجہ مرکوز رکھتی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ اس تنظیم کا قیام روس، چین قرقیز جمہوریہ، قزاخستان،تاجیکستان اور ازبیکستان کے صدور کے ذریعہ 2001میں شنگھائی میں ایک سربراہ میٹنگ کے دوران عمل میں آیا تھا۔

ہندوستان کے وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے پچھلے ہفتے تنظیم کی وزارتی سطح کی میٹنگ میں شرکت کی، جس میں انھوں نے مہلک کووڈ 19-بیماری سے لڑنے میں تعاون کرنے اور اس سلسلہ میں طبی مہارت ساجھا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔اس میٹنگ میں چین کے وزیر خارجہ وینگ یی(Wang Yi) اور پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سمیت تنظیم ملکوں کے تمام وزارء خارجہ نے شرکت کی، جس کی صدارت روس کے وزیر خارجہ سرجئی لاووروف (Sergey Lavrov) نے کی۔میٹنگ کے دوران تمام وزراء خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ کورونا وائرس سے لڑنے کیلئے جس کے پاس جو بھی طبی مہارت ہے اسے ایک دوسرے کے ساتھ شیئر(Share)کرنا چاہئے۔ انھوں نے ایک مشترکہ اعلانیہ سے اتفاق کیا، جس میں ایک منصوبۂ کار تیار کرنے پر زور دیا گیا ہے، جسے سربراہ کانفرنس میں منظور کیا جاسکے، جو اس بیماری سے لڑنے کے طریقۂ کار اور ٹیکا تیار کرنے میں آپسی تعاون پر تبادلۂ خیال کرے گی۔

میٹنگ میں جناب جے شنکر نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ ہندوستان طبی مہارت رکن ملکوں کے ساتھ ساجھا کرنے کیلئے تیار ہے۔ ہندوستانی وزیر خارجہ نے 12مئی کو وزیراعظم نریندرمودی کی جانب سے 20 لاکھ کروڑ روپے کےمعاشی پیکیج کے اعلان کا ذکر کرتے ہوئے حکومت ہند کی جانب سے کیے جانے والے ان اقدامات پر روشنی ڈالی، جو اس نے اس عالمی وبا کے پیش نظر کیے ہیں۔ جناب جے شنکر نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان تنظیم کے رکن ملکوں کے ساتھ تجارتی اور معاشی تعاون کیلئے موزوں ماحول تیار کرنے کا پابند عہد ہے۔

اپریل کے اواخر میں برکس(Brics)وزراء خارجہ کی ویڈیو کانفرنس کے بعد شنگھائی تعاون تنظیم کے وزراء خارجہ کی یہ میٹنگ عمل میں آئی ہے۔ برکس کے وزراء خارجہ کی ویڈیو کانفرنس کے بعد تنظیم کے شعبۂ صحت کے افسران کی 7مئی کو ایک میٹنگ ہوئی، جس میں باقاعدہ اور بامعنی طورپر بات چیت کو آگے بڑھایا گیا۔ شنگھائی تعاون تنظیم میں جو فیصلہ لیا گیا وہ برکس ممالک کے افسران کی میٹنگ کے اقدامات کی توسیع تھی۔ یہ پہلی بار تھا جب ہندوستان اورپاکستان دونوں کے وزراء خارجہ کووڈ-19کے مسئلہ پر بلائی گئی میٹنگ میں ایک ساتھ تھے۔

شنگھائی تعاون تنظیم میں تین بڑی معیشتیں شامل ہیں، اس میں یوروپ اور ایشیا دونوں کے حصے موجود ہیں۔ تنظیم کی وزارتی سطح کی میٹنگ میں کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے اقدامات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ یہ ایک اتفاق کی بات ہے کہ کووڈ-19کی روک تھام اور معاشی بحالی پر تبادلۂ خیال کیلئے جی۔7کی میٹنگ کے دو دنوں کے اندر ہی ایس سی او کے وزراء خارجہ کی یہ میٹنگ عمل میں آئی۔

کووڈ۔19 کا مقابلہ کرنے کیلئے راستے تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دینے کے علاوہ ہندوستانی وزیر خارجہ نے دنیا کو درپیش سیکورٹی کے چیلنجوں کا بھی ذکر کیا۔ انھوں نے کہا کہ دہشت گردی کی سرحدیں نہیں ہوتیں۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے علاقہ کی سیکورٹی اور استحکام کو دہشت گردی سے سخت خطرہ لاحق ہے، اس لئے انھوں نے اس لعنت کے خلاف اجتماعی اقدام کی ضرورت پر زور دیا۔ جناب جے شنکر نے تنظیم پر زور دیا کہ وہ معیشت کی بحالی کیلئے بھی ضروری اقدامات کرے۔ روس کے وزیرخارجہ سرجی لاووروف(Sergey Lavrov) نے تنظیم کے دہشت گردی مخالف مینڈیٹ (Mandate)اوراس کے سیکورٹی میکینزم کو مضبوط بنانے پر زور دیا۔ پروگرام کے مطابق تنظیم کی آئندہ سربراہ میٹنگ جولائی کے اواخر میں سینٹ پیٹرس برگ(St. Peter’s burg) میں ہوگی۔

وزارتی میٹنگ میں افغانستان کی بدلتی ہویٔ صورتحال پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس بات پر سبھی کا اتفاق تھا کہ کسی بھی امن عمل میں افغانی عوام کی خواہشات اور پڑوسی ملکوں کے مفادات کا دھیان رکھنا ضروری ہے۔ اس میں کویٔ شک نہیں کہ چین کے غلبہ والی تنظیم میں ایک مکمل رکن کی حیثیت سے ہندوستان کے داخلے سے علاقایٔ سیاست میں تنظیم کا قد کافی بڑھ گیا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ