مستقل امن: افغان رخ پر ہند کی سوچ کا محور
دہائیوں سے خانہ جنگی کے شکار ملک افغانستان میں تازہ بہ تازہ امن عمل خوش آئند ہے کہ کئی ماہ سے جاری سیاسی بحران کے بعد دو حریف افغان سیاستدانوں صدر مملکت اشرف غنی اور سابق چیف ایگزیکٹیو عبداللہ عبداللہ نے اقتدار میں ساجھے داری کے ایک سمجھوتے پر دستخط کر دیئے ہیں۔ ابھی مارچ میں ملکی صدر کے طور پر دونوں نے علیحدہ علیحدہ حلف اٹھائے تھے۔ حالیہ دہائی میں ہند افغان تعلقات نے جو خاموش کروٹیں لی ہیں ان کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب کورونا کی وبا پھیلنے کی وجہ سے ساری بین اقوامی سر گرمیاں ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ انجام دی جا رہی ہیں، امریکہ کے خصوصی سفیر برائے افغانستان زلمے خلیل زاد نے بذات خود ہندستان کا دورہ کیا اور وزیر خارجہ ایس جے شنکر اور قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول سے ملاقات کی۔ بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے ہندستان پر ایک بار پھر یہ واضح کیا ہے کہ امریکہ چاہتا ہے کہ امن اور خوشحالی کے رخ پر علاقائی سیاست کو ایک نیا موڑ دینے کیلئے افغانستان میں استحکام کے لئے ہندستان سرگرم کردار ادا کرے۔
ہندستان نے ابتک دو دہائیوں کے دوران افغانستان کی اقتصادی ترقی اور تعمیر نو کے حوالے سے خانہ جنگی سے تباہ ملک میں بہت کچھ کیا ہے لیکن 2003 سے اب تک افغانستان میں ہندستان کے ایک سے زیادہ ٹھکانوں پر اور ہندستانی مفادات والی جگہوں پر ایک دو نہیں اڑتالیس بڑے حملے کئے جا چکے ہیں۔ ہندستان کو ان حملوں میں دخیل طاقتوں کا خوب پتہ ہے لیکن اس نے ہمیشہ فوری "ردعمل" پر "حکمت عملی" کو ترجیح دی ہے اور دشمن کو انجام کار ناکام بنایا ہے۔ اسی سال مارچ میں کابل کے گردوارے پر جو حملہ کیا گیا وہ ہر لحاظ سے منصوبہ بند تھا۔ پاکستان روز ازل سے افغانستان میں ہندستان کی ترقیاتی سرگرمیوں کو مطلق پسندیدگی کی نگاہ سے نہیں دیکھتا۔ اس حملے نے اس قدر خوف پھیلا دیا تھا کہ 650 سکھوں نے ہندستان کے لیے ویزا کی درخواست داخل کر دی تھی۔ ابھی کچھ روز پہلے افغانستان کے ایک شیعہ اکثریتی علاقے میں زچگی کے ایک اسپتال میں دہشت گردوں نے حملے کر کے دو نوزائیدہ بچوں سمیت 24 لوگوں کو ہلاک کر دیا تھا۔ ہندستان نے اس حملے کی سخت مذمت ہی نہیں کی بلکہ پاکستان سے سرگرم دہشت گردوں کے اس حملے میں ملوث ہونے کی نشاندہی بھی کی ہے۔افغانستان کے ننگرہار میں ایک علیحدہ حملے میں نماز جنازہ کے دوران دھماکے میں بھی کئی معصوم لوگوں کی موت ہوگئی اور ایک درجن سے زیادہ زخمی ہوگئے۔
وزارت خارجہ کے ایک بیان میں اسپتال کے زچگی کے شعبے اور ننگرہار میں معصوم شہریوں ، خواتین اور بچوں کے خلاف وحشیانہ حملوں کی شدید مذمت کے ساتھ کہا گیا ہے کہ ماؤں، نوزائیدہ بچوں، نرسوں اور کسی میت کے سوگواروں کیخلاف انتہائی انسانیت کش جرائم کا ارتکاب کیا گیا ہے۔ وزارت خارجہ کے بیان میں پاکستان سے سرگرم دہشت گرد گروہوں کا واضح حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس طرح کے حملوں کے ذمہ داروں کو اب مجبور کیا جانا چاہیے کہ وہ اپنے محفوظ ٹھکانوں کو خالی کریں جہاں کئی دہائیوں سے دہشت گردی کی پناہ گاہیں قائم کر رکھی گئی ہیں۔ بیان میں یہ بات بھی دوٹوک کہی گئی کہ ہندستان امن و استحکام کی کوششوں میں افغانستان کے عوام ، حکومت اور سیکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑا ہے۔
افعانستان کی قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب شیر پاؤ نے حال ہی میں کہا ہے کہ افغانستان میں امن پورے خطے کی امن سے جڑا ہو ا ہے۔ انہوں اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کے مابین معاہدے پر پورے افغان عوام کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمسایہ ممالک کو بھی افغان امن عمل میں کلیدی کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ پورے خطے میں دیرپا امن کی فضاقائم ہوسکے۔ افغان طالبان کے ساتھ مین اسٹریم کی سیاست کرنے والوں کے رابطے کا جہاں تک تعلق ہے تو اس میں کوئی اختلاف رائے نہیں کہ ہندستان بھی مین اسٹریم کا ہی حصہ ہے لیکن طالبان نے تو ابتک افغان حکومتوں سےہی کوئی واسطہ نہیں رکھا۔
افغانستان سے ہندستان کی سرحدیں ایران اور پاکستان کی طرح براہ راست نہیں ملتیں۔ افغانستان میں مابعد طالبان قائم ہونے والی حکومتوں کے ساتھ ہندستان کے دوستانہ تعلقات اس لیے بھی مضبوط ہوتے آئے ہیں کہ دونوں ہی ملکوں کی حکومتوں نے ہمیشہ اس بات سے اتفاق کیا کہ پاکستان اگر طالبان اور کشمیر میں بر سر پیکار جنگجؤوں کی مدد کے توسیع پسندانہ عزائم سے باز آ جائے تو خطے میں بین حکومتی معاملات بشمول سارک کی سرگرمیوں کو مربوط طریقے سے انسانی وسائل کے فروغ کے لئے بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔
Comments
Post a Comment