ملیشیا کا سیاسی بحران
کہتے ہیں کہ سیاست میں کوئی مستقل دوست یا دشمن نہیں ہوتا اور یہ بھی سیاست کی ایک کڑوی حقیقت ہے کہ کب ہوس اقتدار کسی ملک کو سیاسی یا کسی اورنوعیت کے بحران کی بھٹی میں جھونک دے کہا نہیں جاسکتا۔ اس کی ایک تازہ مثال جنوب مشرقی ایشیا کے ایک ملک ملیشیا میں دیکھنے میں آئی جہاں چند روز قبل وہاں کے وزیر اعظم مآثر محمد نے اچانک استعفی دے دیا۔ حالانکہ 2018 میں ہی یہاں ایک مضبوط کولیشن حکومت قائم ہوئی تھی جس نے اصلاحات کا کام بڑی تیزی سے شروع کیا تھا۔ حکومت تو بحسن وخوبی چل رہی تھی لیکن سیاسی تجزیہ کاروں کی بات مانی جائے تو جناب مآثر محمد نے اپنے موجودہ اتحادی اور سابق حریف انور ابراہیم کو اقتدار سے دور رکھنے کے لیے یہ اچانک قدم اٹھایا ہے۔ دراصل موجودہ حکمراں کولیشن 2018 میں قائم ہوئی تھی۔ مآثر محمد کے سابق رفیق کار انور ابراہیم جو پہلے انہی کی کابینہ میں شامل تھے اور بعد میں ان کے حریف بن گئے تھے، وہ بھی دوہزار اٹھارہ میں بننے والی اس کولیشن میں شامل ہوگئے تھے۔ اسی سال اس اتحاد نے یونائٹیڈ ملیشیا نیشنل آرگنائزیشن یعنی یوایم این او نے ملیشیا پر کم وبیش 6 دہائی تک حکومت کی تھی۔ پاکستان ہراپن کولیشن میں متعدد گروپ کولیشن میں متعدد گروپ شامل تھے جن میں قوم پرست سینٹرسٹ اور نسلی چینی گروپ بھی شامل ہیں جو ملیشیائی سماج کے مختلف حلقوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ دوہزار اٹھارہ میں اس کولیشن نے حیرت انگیز کامیابی حاصل کی تھی۔ مآثر محمد وزیراعظم بنے تھے اور انہیں انور ابراہیم کی پیپلز جسٹس پارٹی کی حمایت بھی حاصل تھی۔ ایک مفاہمت حکومت کی تشکیل کے وقت یہ ہوئی تھی کہ پہلے مآثر محمدوزیر اعظم بنیں گے لیکن بعد ازاں وہ اقتدار انور ابراہیم کو سونپ دیں گے، لیکن 94 سالہ مہاتر محمد کی نیت خراب ہوگئی اور انہوں نے واضح طور پر یہ نہیں بتایا کہ وہ کب تک وزارت عظمی چھوڑیں گے۔ادھر انور ابراہیم کے گروپ کی طرف سے دباؤ بڑھنے لگا۔ دوسری طرف مآثر محمد کے مسٹرابرہیم پر یہ الزام لگانے کے لیے وہ مآثر محمد کو اقتدار سے بے دخل کرنے کی سازش کررہے ہیں۔ الزامات اور جوابی الزامات کے پس منظر میں بحران نے شدت اختیار کرلی اور پھر مآثر محمد نے اسی درمیان استعفی دے دیا۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ ان کی پارٹی ملیشیائی یونائیٹیڈ انڈیجینس پارٹی بھی کولیشن سے الگ ہوگئی ، اس کا مطلب یہ ہوا کہ‘ پکتن ہارپن’ کولیشن زمیں دوز ہوگئی۔ اب خاصا کنفیوژن پیدا ہوگیا کہ ان دونوں لیڈران کا اگلا قدم کیا ہوگا؟دونوں میں سے کسی کے پاس اتنی بڑی تعداد نہیں ہے کہ اپنے طور پر حکومت قائم کرسکیں۔ 222 رکنی پارلیمنٹ میں جس پارٹی یا کولیشن کو 112 ممبران کی حمایت حاصل ہوگی وہی حکومت بناسکے گی۔ مآثر محمد کے ممبران کی تعداد 26 ہے جب کہ انورابراہیم کی پارٹی کے پاس 39 سیٹیں ہیں۔ لیکن یہ بات مشکوک ہے کہ آیا انہیں اپنی پارٹی کے تمام ممبران کی حمایت حاصل ہوگی۔ اگر کسی بھی فریق کو اکثریت نہ ملی تو قدرتی طورپر نئے انتخابات کرائے جائیں گے اور اس بات کا بھی امکان ہے کہ گندی سیاست بھی شروع ہوجائے اور کچھ دن سیاسی اٹھاپٹخ کا ماحول قائم رہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ملیشیا میں 2018 میں قائم ہونے والے اس کولیشن نےایک اچھی مخلوط حکومت کا تجربہ کیا تھا اور عوام سے بڑے دلکش دعوے بھی کیے گئے تھے۔ اقتدار میں آنے کے بعد جو اصلاحی قدم اٹھائے گئے ان سے وہاں کے عوام کسی حد تک مطمئن بھی نظر آرہے تھے لیکن ہوس اقتدار اتنی بری چیز ہوتی ہے کہ ذاتی مفاد کبھی کبھی قومی اور اجتماعی مفادات پر غالب آجاتے ہیں جس کے باعث تخریب کارانہ سرگرمیوں کو بھی بڑھاوا ملتا ہے اور کبھی کبھی بنابنایا کھیل بھی بگڑ جاتا ہے۔
تازہ ترین صورت حال یہ ہے کہ دونوں فریق یعنی مآثر محمد اور انور ابراہیم خم ٹھونک کر میدان میں آگئے ہیں او ر اقتدار کی رسہ کشی شروع ہوگئی ہے۔ مآثر محمد نے ایک متحدہ انتظامیہ کی تجویز پیش کی ہے جو کسی سیاسی پارٹی یا گروپ سے وابستہ نہ ہو بلکہ قومی مفاد کو سامنے رکھی ۔ جب کہ انور ابراہیم نے ان پر الزام لگایا ہے کہ وہ چور دروازے سے حکومت بنانا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق سابق کولیشن کی تین پارٹیوں نے وزارت عظمی کے لیے ان کا نام بادشاہ کو بھیجا ہے۔ انہوں نے ایک پریس کانفرنس میں یہ بتایا کہ اب بادشاہ کے فیصلے کا انتظار ہے۔ ان کے حامیوں کو امید ہے کہ ان کی پارٹی کے ممبران کے علاہ 62 دوسری پارٹیوں کے ممبران کی حمایت بھی حاصل ہوسکتی ہے۔ دوسری طرف مآثر محمد کے لیے متعدد سیاست دانوں نے کھلم کھلا حمایت کا اعلان کیا ہے لیکن یہ واضح نہیں ہوپارہا ہے کہ کیا انہیں مطلوبہ حمایت مل پائے گی۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ اس صورت حال سے بچاجاسکتا تھا اگر سابق وزیر اعظم نے کولیشن کا فرض نبھایا ہوتا اوراقتدار منتقل کیے جانے سے متعلق مفاہمت کا پاس کیا ہوتا تو یہ بے وجہ کی مشق کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ وہ ایک پختہ کار سیاست داں ہیں لمبی مدت تک حکومت بھی کی ہے۔ 94 سال کی عمر کو پہنچ چکے ہیں۔ اگر وہ وقار کے ساتھ وعدے کے مطابق جناب انورابرہیم کے لیے راہ ہموارکردیتے تو ان کی عزت اور بڑھ جاتی۔
Comments
Post a Comment