پاکستان کے ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ پر رہنے کا امکان
دہشت گرد گروپوں کی فنڈنگ اور منی لانڈرنگ کے حوالے سے پاکستان کے بارے میں ایف اے ٹی ایف اپنا فیصلہ سنانے والا ہے۔یاد رہے کہ فائنانشیل ایکشن ٹاسک فورس نے پاکستان کو یہ وارننگ دی تھی کہ اگر اس نے فروری تک دہشت گرد گروپوں کی منی لانڈرنگ پر روک لگانے اور ان کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا نشانہ پورا نہیں کیا تو اس کے خلاف سخت کارروائی ہوسکتی ہے اور اسے گرے لسٹ سے بلیک لسٹ میں منتقل کیا جاسکتا ہے۔ پیرس میں ایف اے ٹی ایف کی پلینری میٹنگ کئی روز قبل شروع ہوئی تھی اور وہ اختتام پذیر ہورہی ہے۔ پاکستان نے اس سلسلے میں بڑے پیمانے پر کوشش کی کہ وہ بلیک لسٹ میں شامل ہونے سے بچ جائے۔ اس کا دوست اور اتحادی ملک چین اس وقت اس عالمی واچ ڈاگ کا سربراہ ہے لہذا چین اور بعض دوسرے ملکوں کے حمایت حاصل کرکے پاکستان نے بڑے پیمانے پر لابنگ کی۔اندرون پاکستان حافظ سعید اور ان کے معاونین کے خلاف کچھ عدالتی اور قانونی کارروائیاں بھی ہوئیں جن کا مقصد یہی تھا کہ عالمی برادری اور ایف اے ٹی ایف کے ممبر ممالک میں یہ پیغام جائے کہ پاکستان واقعی سنجیدہ کارروائیاں کررہا ہے۔
بہرحال اس وقت صورت حال یہ ہے کہ ایف اے ٹی ایف کے انٹرنیشنل کوآپریشن گروپ نے گزشتہ منگل کو یہ سفارش کی تھی کہ چونکہ پاکستان نے 27 نکاتی ایکشن پلان کا نشانہ کلی طور پر پورا نہیں کیا اس لیے اسے فی الحال گرے لسٹ میں برقرار رکھا جائے۔ تاہم قطعی فیصلہ آنا باقی ہے اور امید ہے کہ اس کا اعلان ایف اے ٹی ایف کی طرف سے کردیا جائے گا۔ خبر ہے کہ ایف اے ٹی ایف کے بیشتر ممبران اس بات کے حق میں نظر آئے کہ پاکستان پر لگاتار دباؤ پڑتے رہنا چاہیے کہ وہ دہشت گردوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھے اور فنڈ اکٹھا کرنے سے متعلق ان کے سرگرمیوں پر روک لگانے کی نہ صرف لگاتار کوشش کرے بلکہ ایف اے ٹی ایف کی ہدایت کے مطابق اسے وہ تمام کارروائیاں کرنی چاہییں جن کا نشانہ پورا کرنے کے لیے اس سے کہا گیا ہے۔خاص طور سے ان گروپوں کے خلاف کارروائی کرنا ضروری ہے جنہیں اقوام متحدہ کے ذریعہ خطرناک عالمی دہشت قرار دیا گیا ہے اور وہ اپنی سرگرمیوں کے لیے پاکستان کی سرزمین استعمال کررہے ہیں۔حالانکہ ترکی اور ملیشیا نے کھلم کھلا پاکستان کی حمایت کی اور ایف اے ٹی ایف کے ممبر ممالک سے اس بات کی سفارش کی کہ پاکستان کو گرے لسٹ سے باہر کیا جائے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان کے وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور حماد اظہر نے ایف اے ٹی ایف کے ممبران کو یہ یقین دلانے کی بھرپور کوشش کی کہ اس سال جون تک پاکستان تمام نشانے پورے کرلے گا اور ایف اے ٹی ایف کے 27 نکاتی ایکشن پلان کے تمام مقاصد پورے ہوجائیں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایف اے ٹی ایف کی پچھلی پلینری میٹنگ کے بعد ہی سے پاکستان نے مؤثر کارروائیاں شروع کردی تھیں اور دہشت گردوں کی منی لانڈرنگ روکنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے۔ اس ضمن میں انہوں نے بطور خاص حافظ سعید اور ان کے ساتھیوں کے خلاف ہونے والی کارروائیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نہ صرف لشکر طیبہ سے وابستہ افراد کے خلاف مؤثر کارروائیاں ہوئیں بلکہ اس درمیان متعدد دہشت گردوں کے خلاف کامیاب قانونی کارروائیاں بھی ہوئیں۔انہوں نے یہ بھی یقین دلایا کہ باقی کارروائیاں بھی عنقریب مکمل ہوجائیں گی۔ تاہم ہندوستان اور بعض دوسرے ممالک پاکستان کی یقین دہانیوں پر پورے طور پر بھروسہ نہیں کرتے کیوں کہ ان کا خیال ہے کہ حالیہ دنوں میں پاکستان نے جو کارروائیاں کی ہیں ان کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ایف اے ٹی ایف کے مزید سخت قدم سے محفوظ رہا جاسکے۔ ہندوستان کا یہ بھی ماننا ہے کہ جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کے بارے میں پاکستان جو یہ کہہ رہا ہے کہ وہ اس وقت پاکستان میں موجود نہیں ہے، وہ قابل اعتبار نہیں معلوم ہوتا کیوں کہ جیش کی تخریب کارانہ کارروائیاں اب بھی جاری ہیں۔
پلینری سے پہلے بیجنگ میں ایف اے ٹی ایف کے ایشیا پیسفک گروپ کی بھی ایک میٹنگ ہوئی تھی جس میں پاکستان کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات کا جائزہ لیا گیا تھا۔ اس سے یہ پتا چلا تھا کہ پاکستان نے 27 نکاتی ایکشن پلان کے سلسلے میں پہلے کے مقابلے کچھ زیادہ نکات کا احاطہ کرلیا ہے یعنی پچھلی رپورٹ کے مطابق جہاں اس نے صرف پانچ نکات ہی پر کام کیا تھا وہاں اب چودہ نکات کا نشانہ پورا کرلیا ہے۔ گزشتہ 6 ماہ کی کارروائیاں اور پاکستان کی جانب سے کیے گئے اقدامات کا جائزہ لینے سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ایف اے ٹی ایف بھلے ہی پاکستان کو بلیک لسٹ میں شامل نہ کرے لیکن پاکستان کی یہ کوشش کامیاب ہوتی نظر نہیں آتی کہ گرے لسٹ سے اسے فی الحال نجات مل جائے۔ بہرحال اس سلسلے میں قطعی فیصلہ آنے کی توقع ہے۔
Comments
Post a Comment