پاکستان میں دستورِزباں بندی


یوں تو پاکستان میں کبھی بھی اختلاف رائے کی حوصلہ افزائی نہیں ہوئی۔ آزادی کے بعد ملک زیادہ تر فوج کے زیر تسلط رہا ہے، جہاں اختلاف رائے اور تنقید کی کوئی جگہ نہیں ہوتی۔فوج یا انتظامیہ کے خلاف زبان کھولتے ہی ملک کی آزادی اور سالمیت خطرے میں پڑجاتی ہے۔ یہ بات آج کی نہیں بلکہ جنرل ایوب خاں کے عنان حکومت سنبھالتے ہی پاکستان کے بابائے قوم محمد علی جناح کی بہن محترمہ فاطمہ جناح ملک کی سالمیت کے لیے خطرہ بن گئی تھیں اور انہیں غیرملکی ایجنٹ قرار دے دیا گیا تھا۔ یہ سلسلہ محترمہ فاطمہ جناح تک ہی محدود نہیں رہا بلکہ جس نے بھی فوج اور حکومت کے خلاف زبان کھولنے کی جسارت کی، اس کے نام کے ساتھ غدار کا تمغہ بھی جڑدیا گیا۔پھر اس روش میں حکمرانوں نے کفر کی شق جوڑکر اپنے مخالفین اور تنقید کرنے والوں کو سلاخوں کے پیچھے پہنچادیا۔ ایسے لوگوں میں صرف سیاستداں ہی نہیں رہے بلکہ بے باک صحافیوں، مصنفوں، شاعروں، فنکاروں،وکیلوں اور انسانی حقوق کے علمبرداروں پر بھی غداری اور بغاوت کا الزام عائد کیا گیا۔

حکمرانوں نے اخبارات اور ٹیلی ویژن کا تو پہلے ہی ان طریقوں سے گلادبا رکھا تھا پھر بھی لوگوں نے سوشل میڈیاکو اظہار رائے کا وسیلہ بنالیا۔ اخبارات کو تو اشتہارات اور دوسری مراعات بند کرکے کنٹرول میں کرنے کا حربہ اپنایا گیا لیکن سوشل میڈیا پر ان کا زور نہیں چل رہا تھا۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ رہی کہ فیس بک، یوٹیوب، ٹک ٹاک، ٹوئٹر اور دوسرے ذرائع اب تک حکومت کے کنٹرول سے آزاد ہیں۔ اس میڈیا پر پاکستان کے عوام کھل کر اپنی رائے کا اظہار کرتے رہے ہیں، جس کا فائدہ خود وزیراعظم عمران خان اور ان کی پارٹی پاکستان تحریک انصاف کو بھی ملا ہے۔

ملک کے سابق حکمرانوں کی طرح اب وزیراعظم عمران خاں کو بھی سوشل میڈیا کی یہ آزادی راس نہیں آرہی ہے۔ سوشل میڈیا، جو 2011 سے لگاتاربرسراقتدار جماعت کی خامیوں اور بدعنوانیوں کو ظاہر کرتا رہا تھا۔ اس کا پورا فائدہ عمران خان کی پاکستان کی پارٹی کو بھی ملا تھا، جس کی بدولت وہ برسراقتدار جماعت کے کاموں کا احتساب کرتی رہی ہے لیکن اس کی نکتہ چینی یا تنقید حکمراں جماعت کے لیے باعث پریشانی بن رہی ہے۔ اس لیے اب یہ سوشل میڈیا کو ضابطہ بند کرنے کی کارروائیاں کررہی ہے۔ اس کے خیال میں اس طرح عوام میں جھوٹی خبروں کی تشہیر روکی جاسکے گی یا پھر ایسی خبروں اور خیالات کو پھیلنے سے روکا جاسکے گا جو ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتے ہوں یا پھر ان سے عوام کے درمیان نفرت یا دشمنی کا جذبہ پیدا ہوسکے۔

بظاہر یہ باتیں ملک کے مفاد میں نظر آتی ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ اپنے پیش روؤں کی طرح ہی عمران خان کو بھی تنقید اور اختلاف رائے برداشت نہیں۔ وہ نہیں چاہتے کہ دنیا کو یہ معلوم ہوکہ ملک کی معیشت پوری طرح تباہ ہوچکی ہے۔ دہشت گردی کی جڑیں سماج میں آج بھی کافی گہری ہیں۔ دہشت گردی کے تربیتی کیمپوں میں نہ تو کمی آئی اور نہ ہی دہشت گرد کم ہوئے ہیں۔اس لیے انہوں نے اظہار رائے کی آزادی کو کچلنے اور اختلاف رائے کو دبانے کے لیے ایک نیا قانون بنایاہے جس کی رو سے فیس بک، ٹوئٹر وغیرہ جیسے سوشل میڈیا کو اب خود کو ملک میں رجسٹرکراناہوگا اورایسے تمام مواد کو حکومت کے سامنے پیش کرنا ہوگا جنہیں حکومت دیکھنا چاہے گی تاکہ وہ ایسے عناصر کے خلاف تادیبی کارروائی کرسکے۔

لیکن اس عمل میں عمران خاں حکومت یہ بھول گئی کہ کسی بھی سیاسی پارٹی کا اقتدار دائمی نہیں ہوتا اور نہ ہی جمہوریت میں عوام کی رائے کو زیادہ دنوں تک دبایا جاسکتا ہے۔ آج انہوں نے اگر جمہوریت کے ایک اہم ستون کو کمزور کرنے کی کوشش کی ہے تو یہ برسراقتدار آنے والی دوسری پارٹی کے لیے بھی ہتھیار ثابت ہوسکتی ہے، جسے ممکن ہے خود عمران خاں کے خلاف استعمال کیا جائے جیسا کہ ان کی پیش رو پاکستان مسلم لیگ (نواز) کے معاملہ میں ہوا۔انہوں نے بھی مخالفین کو دبانے کے لیے ایسے متعدد قوانین بنائے تھے۔ آج ان قوانین پر انہیں بھی پچھتاوا ہورہا ہے۔ انہوں نے ایسے قوانین کو اپنے متعدد سیاسی حریفوں کو دبانے کے لیے استعمال کیا لیکن سوشل میڈیا ان کی دسترس سے باہر تھا کیوں کہ ان کے صدردفاتر پاکستان کے حدود سے باہر قائم ہیں ۔ اسی لیے اس ذرائع ابلاغ نے کھل کر پاکستان تحریک انصاف پارٹی اور عمران خاں کی حمایت کی تھی جس کے نتیجے میں وہ برسراقتدار آئے۔

ہوسکتا ہے عمران حکومت کو اس پابندی سے کچھ فائدہ ہواور وہ اس سے عوام کی آواز کو دبابھی لیں لیکن جب وہ اپنی باتیں دنیا کے سامنے پیش کرنا چاہیں گے تو اس قانون کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ قومی میڈیا کی ساکھ تو پہلے ہی ختم کرچکے ہیں، کون اس کی باتوں پر اعتماد کرے گا، یہ ایک بڑا سوال ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ