پاکستان نہیں چاہتا افغانستان میں امن

افغانستان میں کئی دہائیوں کی خونریزی نے تمام دنیا کو اپنی طرف متوجہ کیا ۔ اور اس کا حل ڈھونڈنے کے لئے اقوام متحدہ سے لے کر تمام عالمی اداروں نے حتی المقدور کوششیں کیں۔ یہ کوششیں آج بھی جاری ہیں اور امید کی ایک کرن نظر آنے لگی ہے۔ امریکہ اس صورتحال سے باہر نکلنے کے لئے کافی عرصے سے کوشاں اور سرگرداں ہے۔ امن کے مکمل قیام میں کئی طرح کی مشکلیں درپیش ہیں لیکن سب سے بڑا مسئلہ یہ ہےکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ سے اب تک اربوں ڈالر کی امداد حاصل کرنے کے باوجود دہشت گردی کے تئیں پاکستان کا رویہ ہمیشہ سے مشکوک رہا ہے۔ پاکستان کے حکمراں اپنے بلند بانگ دعووں کے باوجود دنیا کو یہ باور کرا پانے میں ناکام رہے ہیں کہ وہ واقعی خطے میں امن قائم کرنے کے لئے سنجیدہ ہیں۔ امریکہ بھی اپنے شکوک شبہات اور پاکستان پر عدم اعتماد کا اظہار صاف صاف لفظوں میں کئی بار کر چکا ہے۔ اس اعتماد کو سب سے بڑا جھٹکا تب لگا تھا جب اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں موجودگی کا پتہ امریکی حکام کو لگا تھا۔

افغانستان میں سوویت یونین کا راستہ روکنے کے لئے امریکہ سے حاصل کی گئی امداد ان شدت پسند جنگجو گروہوں پر کھلے دل سے لٹائی گئیں جو پاکستانی فوج اور آئی اس آئی کےمنظور نظر تھے۔ امریکہ کی مجبوری یہ تھی کہ اسے افغانستان تک رسائی کے لئے پاکستان کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا۔ وسط ایشیائی ممالک سوویت یونین کا حصہ تھے اور ایران نے امریکی باشندوں کو اس وقت یرغمال بنا رکھا تھا۔ امریکہ کی اسی مجبوری کا پاکستان نے بھرپور فائدہ اٹھایا اور آج بھی اٹھا رہا ہے۔ پاکستان کا واحد مقصد افغانستان میں ایک کمزور شدت پسند حکومت کا قیام ہے جو اپنی خود مختاری کو ترک کر کے پاکستان کے اشاروں پر کام کرے۔ ایک مدت سے پاکستان کی یہ بھی کوشش رہی ہے کہ افغانستان ہندوستان سے دوستانہ روابط ترک کر دے اور اپنی سرزمین کو ہندوستان کے خلاف دہشت گردانہ کارروائیوں کو انجام دینے میں مدد کرے۔

وہ آج بھی بدنام زمانہ دہشت گردوں کو اپنے ناپاک منصوبوں کے حصول کے لئے اچھے اور برے دہشت گردوں کے خانے میں تقسیم کرنے میں یقین رکھتا ہے۔ افغانستان اور ہندوستان میں تباہی پھیلانے والے دہشت گردوں کے تئیں اس کا رویہ آج بھی ہمدردی کا ہے۔ اتنا ہی نہیں اب تو وہ اپنے ہی فوجیوں کے بچوں کے قاتل سینکڑوں معصوم افراد کے قتل کا جرم قبول کرنے والے احسان اللہ احسان کو بھی سزا دینے کے بجائے کسی خفیہ ڈیل کے تحت فرار ہو جانے دیتا ہے۔ احسان اللہ احسان جیسے دہشت گرد کو قید کے نام پر بھی عیش و آرام کے تمام سامان مہیا کرنے والا پاکستانی اسٹیبلشمنٹ ہی تھا۔ آرمی پبلک اسکول میں مارے گئے بچوں کے والدین نے بجا طور فوج اور آئی اس آئی کو اس کے فرار کے لئے ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔ جیش محمد کا سرغنہ اور ممبئی دہشت گردانہ حملے کا ماسٹر مائنڈ مسعود اظہر بھی احسان اللہ احسان کی طرح ہی مع اہل و عیال اب پاکستان سے فرار ہو چکا ہے ایسی اطلاع خود پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کو دی ہے۔ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کاؤنسل نے بھی مسعود اظہر کو دہشت گرد قرار دیا تھا۔

پاکستان کا دعویٰ ہے کہ اقوام متحدہ کے ذریعے نشان زد 16 دہشت گردوں میں سے 9 پاکستان میں موجود ہیں جن میں لشکر طیبہ کا سرغنہ حافظ سعید بھی شامل ہے۔ پاکستان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ اس نے دہشت گردوں کو فنڈ فراہم کرنے والے ۲۲۲ لوگوں کو سزا دی ہے لیکن یہ بات نہیں بتائی کہ دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے انھیں محض چند دنوں کی قید کے بعد رہا کر دیا گیا۔ پاکستان اس بات کا بھی کوئی معقول جواب نہ دے سکا کہ آخر مسعود اظہر، ذکی الرحمان لکھوی اور حقانی نیٹ ورک کے خلاف دہشت گردوں کی مالی معاونت کے ضمن میں کوئی تفتیش کیوں نہیں کی۔

پلوامہ حملے کے ماسٹر مائنڈ حافظ سعید کو بھی پاکستان نے محض اسلئے گرفتار کرنے کا تماشہ کیا ہے کہ ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں شامل ہونے سے بچنے کا اب یہی واحد راستہ ہے۔ دہشت گردتنظیم لشکر طیبہ کے خلاف سخت کارروائی تو کجا پاکستان لشکر طیبہ اور اس جیسی دوسری دہشت گرد تنظیموں کی اقوام متحدہ میں وکالت کرتا نظر آتا ہے۔ اس سے زیادہ افسوس کی بات اور کیا ہو سکتی ہے۔ یہی سبب ہے کہ پلوامہ حملے کے بعد بھارت کو بالاکوٹ میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملے کرنے پڑے۔ دہشت گردی کےخلاف جنگ کے تمام کھوکھلے دعوؤں کی قلعی تب کھل جاتی ہے جب دنیا کو پتہ چلتا ہے پاکستان کی کسی بھی بڑی دہشت گرد تنظیم کے سرغنہ کو قرار واقعی سزا دینے میں پاکستان بری طرح ناکام رہا ہے۔ حقانی نیٹ ورک، القاعدہ، اسلامک اسٹیٹ یا لشکر طیبہ جیسی تنظیمیں فوج کے آپریشن ضرب عضب کے باوجود کسی بھی بڑے نقصان سے محفوظ رہیں تو صرف پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے نرم رویے کے سبب۔ صدر ٹرمپ کو پتہ ہونا چاہئے کہ پاکستان کی پشت پناہی نہ ہوتی تو طالبان کا وجود کب کا خاک میں مل چکا ہوتا۔ پشتون تحفظ موومنٹ کے سرکردہ رہنما افراسیاب خٹک نے ابھی گزشتہ دنوں ایک مجمع کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو افغانستان میں مداخلت سے باز آنا چاہئے اور اس کا استعمال کسی بھی پڑوسی ملک کے خلاف ہر گز نہ ہو۔اگر امریکہ پاکستان کے جھانسے میں آکر اسے ایف اے ٹی ایٖ کی بلیک لسٹ سے بچانے کی کوشش کرتا ہے تو یہ بہت بڑی بھول ہوگی

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ