پاکستان کے بوکھلاہٹ بھرے اقدام
وہ دور کبھی کا جاچکا جب مذہب کے رشتے ملکوں کو جوڑے رکھتے تھے، یا مذہب کی بنیاد پر ملکوں کے گروپ اپنی صف بندی کرلیتے تھے۔آج اقتصادی، سیاسی اور عسکری مفادات کو فوقیت حاصل ہے۔ پاکستان دراصل یہ نہیں سمجھ پارہا ہے کہ دنیا بڑی تیزی سے بدل رہی ہے۔ نام مذہبی دوستی یا امّتِ مسلمہ کی آواز کا ہی لیا جاتا ہے لیکن اس سب کے پیچھے اصل مقصد سیاسی اور عسکری مطلب برآری کا ہی ہوتا ہے۔ پاکستان اس وقت شدید اقتصادی بحران کا شکار ہے۔ امریکہ کی بے رخی نے حالات کو اور مشکل بنا دیا ہے۔ مہنگائی اور بے روزگاری اُن حدوں کو چھو رہی ہے جن سے پاکستان کو اپنی 73سال کی تاریخ میں کبھی سابقہ نہیں پڑا تھا۔ نوجوانوں میں سخت بے چینی پائی جانے لگی ہے۔اس صورت حال میں پاکستانی حکومت کے لیے کشمیر کا معاملہ اٹھا تے رہنا ایک مجبوری بن گیا ہے تاکہ عوام کی توجہ اپنے اصل مسائل کی طرف سے ہٹی رہے۔
پاکستان اس حقیقت کوبھی قبول نہیں کرپارہا ہے کہ کشمیر میں دفعہ 370کے خاتمے کے بعد سعودی عرب کے ساتھ بھارت کے تعلقات میں تلخی نہیں بلکہ پہلے سے کہیں زیادہ پختگی، گہرائی اور پائداری آچکی ہے۔ سعودی حکام اور دوسرے کئی مسلم اور خلیجی ملک بھارت کو مستقبل کے ایک طاقت ور اقتصادی رفیق کے طور پر دیکھنے لگے ہیں۔اس وقت بھارت دنیا کی پانچویں بڑی اقتصادی طاقت ہے اور یہ ملک جان گئے ہیں کہ چند برسوں میں ہی بھارت چین کے بعد دوسری بڑی اقتصادی قوت بن کر ابھرنے والا ہے۔چنانچہ سعودی عرب اور دیگر خلیجی ملک ابھی سے ایسے منصوبے بنا رہے ہیں جن کی بدولت وہ صرف تیل کی فروخت پر ٹکی ہوئی اپنی معیشت کو تجارت و صنعت کے دوسرے شعبوں تک پھیلا سکیں جس میں بھارت ان کا مددگار ثابت ہو سکتا ہے جب کہ پاکستان ابھی تک ان کا حاجت مند بنے رہنے کے سوا اُن کے لیے کچھ نہیں کرسکا ہے!
سعودی عرب کے شہر جدہ میں اتوار 9فروری کوآرگنائزیشن آف اسلامک کو آپریشن یعنی او آئی سی کے اعلیٰ افسروں کی جو میٹنگ ہونے والی ہے اس کے تعلق سے کشمیر کے بارے میں سعودی حکومت کے رُخ سے پاکستانی حکومت کو خفت اٹھانی پڑ رہی ہے۔ یہاں تک کہ پاکستان کے وزیر اعظم کو کھل کر کہنا پڑا ہے کہ انھیں اس سے مایوسی ہوئی ہے۔ جدہ میں او آئی سی کے اعلیٰ اہلکاروں کی میٹنگ دراصل او آئی سی کی کونسل آف فارین منسٹرزکے اجلاس کی تیاریوں کے سلسلے میں ہو رہی ہے۔ پاکستان نے اس میں کشمیر کے مسئلے پر فوراً میٹنگ بلانے کی درخواست کی تھی۔ لیکن سفارتی ذرائع کے مطابق سعودی عرب اسے قبول کرنے سے گریزاں ہے۔ اس صورتِ حال سے او آئی سی کے طرزِ عمل پرپاکستان کی بے چینی بڑھتی جارہی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے ملیشیا کے حالیہ دورے میں ایک جگہ بولتے ہوئے کشمیر کے معاملے میں او آئی سی کی خاموشی پر افسوس کا اظہار کیااور کہا کہ ہماری یعنی او آئی سی کی کوئی آواز ہی نہیں ہے اور ہم پوری طرح تقسیم ہو چکے ہیں۔ پاکستان گزشتہ سال اگست سے کشمیر پر 57مسلم ملکوں کی اس تنظیم کے وزرائے خارجہ کی میٹنگ کے لیے دباؤ بناتا آرہا ہے۔ یہاں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ او آئی سی، اقوام متحدہ کے بعد دوسری سب سے بڑی بین الاقوامی تنظیم ہے۔پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے حال ہی میں کہا تھا کہ ہم اوآئی سی کی وزرائے خارجہ کونسل کی اہمیت کو اچھی طرح سمجھتے ہیں اور اس وقت ضروری ہے کہ امّتِ مسلمہ کی جانب سے کشمیر کے معاملے پر ایک واضح موقف اور پیغام سامنے آئے۔
لیکن پاکستان کے لیے مشکل یہ ہے کہ او آئی سی میں کسی بھی قرارداد کی منظوری کے لیے سعودی عرب اوراُس کے زیر اثر خلیجی ملکوں کی رضامندی ضروری ہے، کیونکہ او آئی سی میں عملاً ان ہی ملکوں کا غلبہ ہے۔ اور یہ سبھی ملک بدلے ہوئے حالات میں بھارت کے ساتھ بہترسے بہتر تعلقات برقرار رکھنے کے خواہش مند ہیں۔
Comments
Post a Comment