طالبان دہشت گرد کے ساتھ پاکستانی فوج کا خفیہ معاہدہ؟
پاکستان کی عمومی صورت حال پر نظر ڈالیں تو یہ بات صاف ہے کہ اسے عوام کے لئے ایک فلاحی ریاست بننے کے راستے میں سخت مشکلات در پیش ہیں۔ جمہوری اقدار کا کسی ملک یا قوم کی سرشت میں شامل ہونا کسی بھی کامیاب جمہوریت کے لئے بنیادی شرط ہے۔ بہ صورت دگر عوام مخالف ادارے اور جماعتیں اقتدار پر قابض ہونے کی تاک میں رہتےہیں اور پاکستان جیسے ملک میں آسانی سے کامیاب بھی ہو جاتے ہیں۔ لیکن پاکستان اپنے ماضی سے سبق لینے کی بجائے اسٹیبلشمنٹ کی مخالفت کرنے والوں کو ہی سبق سکھانے پر آمادہ ہو جاتا ہے۔
حالیہ دنوں میں آزاد خیال صحافیوں اور بے خوفی سے اپنی بات کہنے والے افراد اور اداروں پر جس طرح اسٹیبلشمنٹ نے سخت رخ اپنایا ہے اس پر ساری دنیا کو تشویش لاحق ہے۔ کسی بھی مہذب سماج میں پر امن طور پر اپنی بات کہنے کا اختیار ہر فرد کو ہوتا ہے خواہ وہ کسی بھی مکتب فکر کا ہو، کسی بھی جماعت یا فرقے کا ہو۔ پشتون تحفظ موومنٹ کے منظور پشتین کی گرفتاری اور ان کے رفقا کے ساتھ ایجنسی کے اہلکاروں کی بدسلوکی کا پاکستانی میڈیا نے کسی مصلحت کی بنا پر بھلے ہی خاطر خواہ نوٹس نہ لیا ہو لیکن سوشل میڈیا پر لوگوں نے کھل کر پاکستانی حکومت کے رویے کی تنقید کی۔ غیر مقیم پاکستانی صحافیوں نے بھی اس کی مذمت کی لیکن شاید عمران حکومت دیوار پر لکھی ہر تحریر کو جھٹلانے میں یقین رکھتی ہے۔اگر یہ اسٹیبلشمنٹ کی حکمت عملی ہے تو وہ اس میں بری طرح ناکام رہا ہے اسے یہ اقرار کر لینا چاہئے۔
پاکستان حکومت کی بوکھلاہٹ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اب وہ بیرون ملک آباد نڈر صحافیوں اور پشتون ادیبوں اور دانشوروں تک کو اپنے لئے خطرہ محسوس کرنے لگی ہے۔ اس کی تازہ مثال انٹرپول کی مدد سے بحرین میں پشتون کے عوامی شاعر گیلامان پشتین کی گرفتاری ہے۔ایک طرف تو پشتون تحفظ تحریک کے کارکنوں کے ساتھ اسٹیبلشمنٹ کا سخت رویہ ہے اور دوسری طرف انتہا پسند جماعتوں اور دہشت گردوں کے ساتھ دوستانہ ۔ یہ تضاد اتنا صریح ہے کہ ذرا سی سمجھ بوجھ رکھنے والا شخص بھی اس فرق کو بہ آسانی دیکھ اور پرکھ سکتا ہے۔ ایک تازہ ترین مثال تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اللہ احسان کا ہزاروں لوگوں کے قتل کی ذمہ داری قبول کرنے کے باوجود پاکستان آرمی کی حراست سے مع اہل و عیال فرار ہو جانا ہے۔ ففتھ جنریشن وارفیئر کی اصطلاح گڑھ کر اپنی پیٹھ تھپتھپانے والی پاکستانی فوج آج اپنے عوام سے ہی آنکھیں ملاتے ہوئے گھبرا رہی ہے۔ سب سے دلچسپ بات تو یہ ہے کہ وزیر داخلہ اعجاز شاہ اور وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک سے جب احسان اللہ احسان کے فرار ہونے کے بارے میں ایک نامہ نگار نے سوال کیا تو انھوں نے لاعلمی کا اظہار کر کے خود کو مذاق کا موضوع بنا لیا۔ بعض مبصرین کا تو یہ بھی کہنا ہے کہ ممکن ہے اسے بھی اسیٹریٹیجک ایسیٹ کی طرح استعمال کرنے کے مقصد سے فرار ہو جانے کا موقع دیا گیا ہو۔ فوج کے ذرائع نے اس خبر کی اب تک کوئی تردید یا تصدیق نہیں کی ہے۔ ایک آڈیو میں احسان اللہ احسان نے مبینہ طور پر یہ دعویٰ کیا ہے کہ اسے حکومت کے ساتھ ایک خفیہ معاہدے کے تحت فرار ہونے کی اجازت دی گئی ہے۔
احسان اللہ احسان کے مبینہ فرار نے اہم سوالات پیدا کئے ہیں۔ ملالہ پر قاتلانہ حملے ، آرمی پبلک اسکول کےقتل عام، اقبال پارک لاہور میں مسیحی شہریوں کے قتل عام، پیشاور ایئر پورٹ اور شیعہ عبادت گاہوں پر حملے کی ذمہ داری قبول کرنے والے اس دہشت گرد کا فرار ہو جانا کوئی معمولی بات نہیں۔ دنیا یہ جاننا چاہتی ہے کہ اس کے فرار کا ذمہ دار کون ہے اور اس کے خلاف کیا کارر وائی ہوئی؟ حیرت کی بات نہیں کہ اے پی ایس شہدا فورم نے اس سلسلے میں پشاور ہائی کورٹ میں ایک عرضداشت بھی داخل کی ہے جس میں احسان اللہ احسان کے فرار کے لئے ذمہ دار لوگوں کو، بشمول آرمی چیف اور آئی اس آئی کے دائرکٹر جنرل ، سزا دینے کی درخواست کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ پیشاور ہائی کورٹ نے حکام کو صاف لفظوں میں ہدایت دی تھی کہ احسان اللہ کو کسی بھی حال میں بری نہ کیا جائے جس پر حکام نے یقین دہانی کرائی تھی کہ اس کے مقدمے کی سماعت ملٹری کورٹ میں ہوگی اور قرار واقعی سزا دی جائے گی۔
بہرحال، اس وقت سب کی نگاہیں پاکستان پر ٹکی ہوئی ہیں اور دہشت گردی سے لڑنے کے اس کے تمام دعووں کو شک بھری نظروں سے دیکھا جا رہا ہے۔ ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے باہر نکلنے کی اس کی کوششیں بار بار ناکام ہو رہی ہیں لیکن پاکستان اپنی پرانی عادتیں چھوڑنے کو تیار نہیں۔ اب کون بتائے کہ یہ حکومت کی نا اہلی ہے یا کوئی نیا منصوبہ جس کا بھید مستقبل میں کھلنے والا ہے !
حالیہ دنوں میں آزاد خیال صحافیوں اور بے خوفی سے اپنی بات کہنے والے افراد اور اداروں پر جس طرح اسٹیبلشمنٹ نے سخت رخ اپنایا ہے اس پر ساری دنیا کو تشویش لاحق ہے۔ کسی بھی مہذب سماج میں پر امن طور پر اپنی بات کہنے کا اختیار ہر فرد کو ہوتا ہے خواہ وہ کسی بھی مکتب فکر کا ہو، کسی بھی جماعت یا فرقے کا ہو۔ پشتون تحفظ موومنٹ کے منظور پشتین کی گرفتاری اور ان کے رفقا کے ساتھ ایجنسی کے اہلکاروں کی بدسلوکی کا پاکستانی میڈیا نے کسی مصلحت کی بنا پر بھلے ہی خاطر خواہ نوٹس نہ لیا ہو لیکن سوشل میڈیا پر لوگوں نے کھل کر پاکستانی حکومت کے رویے کی تنقید کی۔ غیر مقیم پاکستانی صحافیوں نے بھی اس کی مذمت کی لیکن شاید عمران حکومت دیوار پر لکھی ہر تحریر کو جھٹلانے میں یقین رکھتی ہے۔اگر یہ اسٹیبلشمنٹ کی حکمت عملی ہے تو وہ اس میں بری طرح ناکام رہا ہے اسے یہ اقرار کر لینا چاہئے۔
پاکستان حکومت کی بوکھلاہٹ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اب وہ بیرون ملک آباد نڈر صحافیوں اور پشتون ادیبوں اور دانشوروں تک کو اپنے لئے خطرہ محسوس کرنے لگی ہے۔ اس کی تازہ مثال انٹرپول کی مدد سے بحرین میں پشتون کے عوامی شاعر گیلامان پشتین کی گرفتاری ہے۔ایک طرف تو پشتون تحفظ تحریک کے کارکنوں کے ساتھ اسٹیبلشمنٹ کا سخت رویہ ہے اور دوسری طرف انتہا پسند جماعتوں اور دہشت گردوں کے ساتھ دوستانہ ۔ یہ تضاد اتنا صریح ہے کہ ذرا سی سمجھ بوجھ رکھنے والا شخص بھی اس فرق کو بہ آسانی دیکھ اور پرکھ سکتا ہے۔ ایک تازہ ترین مثال تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اللہ احسان کا ہزاروں لوگوں کے قتل کی ذمہ داری قبول کرنے کے باوجود پاکستان آرمی کی حراست سے مع اہل و عیال فرار ہو جانا ہے۔ ففتھ جنریشن وارفیئر کی اصطلاح گڑھ کر اپنی پیٹھ تھپتھپانے والی پاکستانی فوج آج اپنے عوام سے ہی آنکھیں ملاتے ہوئے گھبرا رہی ہے۔ سب سے دلچسپ بات تو یہ ہے کہ وزیر داخلہ اعجاز شاہ اور وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک سے جب احسان اللہ احسان کے فرار ہونے کے بارے میں ایک نامہ نگار نے سوال کیا تو انھوں نے لاعلمی کا اظہار کر کے خود کو مذاق کا موضوع بنا لیا۔ بعض مبصرین کا تو یہ بھی کہنا ہے کہ ممکن ہے اسے بھی اسیٹریٹیجک ایسیٹ کی طرح استعمال کرنے کے مقصد سے فرار ہو جانے کا موقع دیا گیا ہو۔ فوج کے ذرائع نے اس خبر کی اب تک کوئی تردید یا تصدیق نہیں کی ہے۔ ایک آڈیو میں احسان اللہ احسان نے مبینہ طور پر یہ دعویٰ کیا ہے کہ اسے حکومت کے ساتھ ایک خفیہ معاہدے کے تحت فرار ہونے کی اجازت دی گئی ہے۔
احسان اللہ احسان کے مبینہ فرار نے اہم سوالات پیدا کئے ہیں۔ ملالہ پر قاتلانہ حملے ، آرمی پبلک اسکول کےقتل عام، اقبال پارک لاہور میں مسیحی شہریوں کے قتل عام، پیشاور ایئر پورٹ اور شیعہ عبادت گاہوں پر حملے کی ذمہ داری قبول کرنے والے اس دہشت گرد کا فرار ہو جانا کوئی معمولی بات نہیں۔ دنیا یہ جاننا چاہتی ہے کہ اس کے فرار کا ذمہ دار کون ہے اور اس کے خلاف کیا کارر وائی ہوئی؟ حیرت کی بات نہیں کہ اے پی ایس شہدا فورم نے اس سلسلے میں پشاور ہائی کورٹ میں ایک عرضداشت بھی داخل کی ہے جس میں احسان اللہ احسان کے فرار کے لئے ذمہ دار لوگوں کو، بشمول آرمی چیف اور آئی اس آئی کے دائرکٹر جنرل ، سزا دینے کی درخواست کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ پیشاور ہائی کورٹ نے حکام کو صاف لفظوں میں ہدایت دی تھی کہ احسان اللہ کو کسی بھی حال میں بری نہ کیا جائے جس پر حکام نے یقین دہانی کرائی تھی کہ اس کے مقدمے کی سماعت ملٹری کورٹ میں ہوگی اور قرار واقعی سزا دی جائے گی۔
بہرحال، اس وقت سب کی نگاہیں پاکستان پر ٹکی ہوئی ہیں اور دہشت گردی سے لڑنے کے اس کے تمام دعووں کو شک بھری نظروں سے دیکھا جا رہا ہے۔ ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے باہر نکلنے کی اس کی کوششیں بار بار ناکام ہو رہی ہیں لیکن پاکستان اپنی پرانی عادتیں چھوڑنے کو تیار نہیں۔ اب کون بتائے کہ یہ حکومت کی نا اہلی ہے یا کوئی نیا منصوبہ جس کا بھید مستقبل میں کھلنے والا ہے !
Comments
Post a Comment