چوتھی ویسٹ ایشیا کانفرنس

ہندوستان کے اہم تھنک ٹینک، منوہرپاریکر انسٹی ٹیوٹ فارڈیفنس اسٹڈیز اینڈ اینالسز نے نئی دہلی میں چوتھی ویسٹ ایشیا کانفرنس کا انعقاد کیا،جس کا عنوان تھا ‘‘مغربی ایشیا میں سیاسی اورمعاشی تبدیلی- چنوتیاں، نتائج اورمستقبل کے رجحانات’’۔ اس کانفرنس میں لبنان کے سابق وزیراعظم فواد سینیورا اورمصر کے سابق وزیر خارجہ نبیل فہمی سمیت متعدد ہندوستانی بین الاقوامی ماہرین نے شرکت کی اور مختلف اہم علاقائی امورپر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اس دو روزہ کانفرنس میں علاقائی سلامتی کا تناظر ،بیرونی طاقتوں کا کردار، معیشت، تنازعات کا تغیر پذیر کردار اورمغربی ایشیا کےساتھ ہندوستان کے فروغ پذیر روابط جیسے متنوع عنوانات کے تحت 6 اجلاس منعقد کیے گئے۔

ہندوستان کے وزیر مملکت برائے سڑک، نقل وحمل اور شاہراہ سبکدوش جنرل وجے کمار سنگھ نے کلیدی خطبہ دیا جس میں گزشتہ دہائی میں علاقےکو درپیش نشیب وفراز اورعلاقائی امور کو ہندوستان کے ذریعے دی گئی اہمیت کو اجاگر کیاگیا تھا۔ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر جنرل سجان آر چنائے نے اپنی تقریر میں زور دے کر کہا کہ مسلسل غیر یقینی صورت حال کی وجہ سے علاقے کی معیشت بری طرح متاثرہوئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ علاقے کے متعدد ممالک کے ساتھ ہندوستان نے اسٹریٹجک روابط کو مستحکم کیا ہے جس کی وجہ سے سلامتی کی صورت حال، تجارت اور سرمایہ کاری اشتراک کواستحکام حاصل ہوا ہے۔

مختلف مقررین نے گزشتہ دہائی کے دوران علاقائی نشیب وفراز پر روشنی ڈالی اور علاقائی ممالک، ان کے رہنماؤں اور عوام پر اپنے مسائل کا حل تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ یہ حقیقت بھی زیر غور آئی کہ دسمبر دو ہزار دس میں تیونس میں عرب شورش کے آغاز کے بعد سے علاقے میں سلامتی کی صورت حال ابتر ہوگئی ہے اور اس کی وجہ سے جغرافیائی و سیاسی مسابقت میں شدت آنے کے ساتھ ساتھ معیشت بھی متاثر ہوئی ہے۔ مقررین نے اس بات پر بھی اظہار خیال کیا کہ حالانکہ شمولیت پر مبنی اور قابل احتساب انتظامیہ کے لیے عرب شورش کا آغاز، آمریت سے جمہوریت کاری تک کے نعرے سے ہوا تھا مگر ایک دہائی گزرنے کے بعد بھی ممالک کی اکثریت کو یہی مسائل درپیش ہیں۔ شمولیت پر مبنی سیاست کی طرف منتقلی کا عمل تکلیف دہ اور غیر فیصلہ کن رہا ہے۔ کیونکہ متعدد ممالک کو سنگین اندرونی تنازعات کا سامنا ہے۔ ان میں شام، یمن، عراق اور لیبیا جیسے ممالک بھی شامل ہیں جن کوغیر مثالی انسانی بحران اور انتقال آبادی کے مسائل کا سامنا ہے۔ اس کی وجہ سے ایسی صورت حال پیدا ہوگئی ہے جس میں گزشتہ برسوں میں الجیریا، سوڈان، لبنان اور ایران جیسے ممالک میں عوامی شورش کی ایک لہر پیدا ہوئی ہے۔ اس کا اظہار اس حقیقت سے ہوتا ہے کہ نوجوانوں کی اکثریت کی بنیادی سیاسی اور معاشی توقعات پوری نہیں ہوئی ہیں ۔ اس مسلسل غیر یقینی صورت حال کی وجہ سے معاشی ترقی پراثر پڑا ہے۔ آج مغربی ایشیا میں بے روزگاری کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ فی کس کل گھریلو پیداور کی شرح نمو بھی سست ہے۔ خاص طور سے اس آبادی کے لیے جو نوجوان طبقے پر مشتمل ہے۔اس علاقے میں معاشی ترقی مسلسل انحطاط پذیرہے۔

خلیجی علاقے میں جاری عدم استحکام ، بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر ہندوستان، جاپان، جنوبی کوریا اور چین جیسے تیل کے درآمد کنندگان کے لیے توانائی سلامتی کا معاملہ حد درجۂ اہمیت کا حامل ہوگیا ہے۔

ہندوستان کے تناظر میں یہ علاقہ بے حد اہمیت رکھتا ہے۔ اس علاقے میں ہندوستان کی باہمی تجارت دوسو بلین ڈالر تک پہنچ گئی ہے اور وہ اس علاقے سے اپنی 60 فیصد سے زیادہ توانائی کی ضروریات درآمد کے ذریعے پوری کرتا ہے۔ خلیجی علاقے میں نو ملین سے زیادہ ہندوستانی شہری رہتے ہیں، جن کی سلامتی اور تحفظ نئی دہلی حکومت کے پیش نظر ہے۔ مغربی ایشیا میں علاقائی سلامتی کو درپیش کسی چنوتی سے یا معاشی صورت حال کے کمزور ہونے سے ہندوستان کی معیشت اور سلامتی پر براہ راست اثر پڑتا ہے۔ معاشی اور اسٹریٹجک مفادات کے تحفظ کے لیے ہندوستان نے دوہزار چودہ سے سرگرم سفارت کاری شروع کی ہے۔

وزیر اعظم نریندرمودی کی خارجہ پالیسی کے تحت اہم ترین پیش قدمی اس علاقے کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات کے استحکام کو اہمیت سے سرفراز کرنا ہے۔ ہندوستان کی پالیسی لک ویسٹسے ایکٹ ویسٹ کی طرف منتقل ہوئی ہے، جس کا اظہار اس علاقے کے ساتھ اس کے زیادہ سے زیادہ روابط سے ہوتا ہے۔ اس کے سیاسی ، معاشی ، سلامتی اور دفاعی تعلقات میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ علاقائی ممالک کے ساتھ ہندوستان کے روابط میں استحکام آیاہے اور وہ مختلف سطحوں پر بھی ان روابط میں اضافہ کررہا ہے۔ 



شرکا نے اس امید کا اظہار کیا کہ گزشتہ دس برس کے روابط سے نوجوان آبادی کے توقعات کے پیش نظر پالیسیوں کی تشکیل میں مدد ملے گی۔ ہندوستان، تمام ملکوں کے عوام کی ترقی اور فروغ کے لیے مغربی ایشیا کے ساتھ شراکت جاری رکھے گا۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ