وعدوں اور باتوں کے علاوہ پاکستان میں کوئی تبدیلی نہیں
پاکستان میں اس وقت بنیادی مسائل عمران خان کی حکومت کے لئے سر درد بنے ہوئے ہیں لیکن آج صورت حال یہ ہے کہ حکومت سے وابستہ افراد ان مسائل پر بات کرنے یا توجہ دینے کی ضرورت نہیں سمجھتے ۔ بنیادی مسائل کی پردہ پوشی کے لئے ایک طرح سے مذہب پرستی کو عام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ اس کی آڑ میں اصل مسائل پر لوگوں کی توجہ مرکوز نہ ہو سکے۔ یہی وجہ ہے کہ جب وزیر اعظم تقریر کرنے کھڑے ہوتے ہیں تو ان کی پوری کوشش یہی ہوتی ہے کہ ملک کے عوام کو در پیش مسائل کا کوئی ذکر نہ ہو بلکہ پوری توجہ عملی اقدام سے زیادہ لوگوں کو مذہب اور اخلاقیات کی بھول بھلیوں میں الجھانا ہوتا ہے۔ وزیر اعظم اصل موضوعات سے ہٹ کر ایسی باتوں کو زور و شور سے اٹھاتے ہیں کہ بقول شاعر:‘ کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی‘
یہ بات روز اول سے ہی کہی جا رہی ہے کہ عمران خاں فوج کے پسندیدہ وزیر اعظم ہیں خود عمران خاں بھی اس کا اقرار کرتے رہے ہیں کہ ان کی حکومت کو فوج کی مکمل حمایت ہے اور سیاسی قیادت اور فوجی قیادت میں کوئی فرق نہیں رہ گیا۔ ایسے میں یہ بات فطری ہے کہ حکومت کا مقصد اعلیٰ طبقوں کا خاتمہ نہیں بلکہ اپوزیشن کو پوری طرح کچلنے کا ہوتا ہے ۔ ایسے میں ملک کا آئین ایک کاغذ کے ٹکڑے کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ ساتھ ہی ساتھ پوری کوشش یہ بھی ہوتی ہے کہ ایک مستحکم سول ۔ملٹری حکومت کا قیام عمل میں آ جائے تاکہ مخالفین کو سختی سے کچلا جا سکے۔
سول –ملٹری حکومت کی ایک سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ اس میں عوام کے حقوق کو فراموش کردیا جاتا ہے ۔ حکومت جس طرح سے روحانی تعلیمات کو موجودہ مسائل پر ترجیح دے رہی ہے اس کا نتیجہ یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ پاکستان میں ایک بار پھر مذہبی اور روحانی لیڈر بڑے طمطراق سے میدان میں آ گئے ہیں اور ان کو عوام کی حمایت بھی حاصل ہے۔ ان روحانی لیڈروں کو اقتصادی نظام کو بہتر بنانے یا جمہوری قدروں کو مستحکم کرنے کی کوئی فکر نہیں ہوتی بلکہ سارا زور اسی پر صرف ہوتا ہےکہ کسی طرح حکومت کے ہر اقدام کو صحیح قرار دیا جائے۔ ایسی صورت حال میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ عوام کے بنیادی حقوق ایک طرح سےکچل کر رکھ دیئے گئے۔ خواتین کس طرح سے گھریلو تشدد کی شکار ہیں ، ناموس کے نام پر کس طرح سفاکانہ جرائم ہو رہے اور کس طرح لوگوں کے مذہب کو زبر دستی بدلا جا رہا ہے اس پر کوئی توجہ نہیں ہے۔ ایک اندازہ کےمطابق اب تک سیکڑوں لڑکیوں کو ان کی مرضی کے خلاف زبر دستی انکےمذہب کو تبدیل کرنے پرمجبور کیا گیا۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ بے شمار کم سن بچے اوربچیوں کو مذموم جنسی کا روبار میں ڈھکیل دیا گیا۔ حیرت اور تعجب کی بات یہ ہےکہ ایسے معاملوں میں پاکستانی پولیس محض تماشائی بنی رہتی ہے یا پھر قصور واروں کا کھل کر ساتھ دیتی ہے۔
پاکستان میں تمام مذاہب کے ماننے والوں کے لئے مساوی حقوق کی بات زور و شور سے کی جاتی ہے لیکن اس بات میں کتنی سچائی ہے اس کا اندازہ اس بات سےلگایا جا سکتا ہے کہ وہاں اقلیتوں کے لئے ابھی تک کمیشن قائم نہیں ہو سکا ہے اور انسانی حقوق کمیشن اور خواتین کے لئے کمیشن کی ترتیب نو کے لئے ابھی جائزہ لیا جانا ہے۔ پاکستان میں یہ کیسی ستم ظریفی ہے کہ وہاں اپوزیشن کے لئے پر امن احتجاج اور مظاہروں کی اجازت نہیں۔ عوام ایک طرح سے حکومت کے غلام بن کر رہ گئے ہیں۔ ان کو جو پریشانیاں اور دقتیں ہیں اس کے لئے وہ کہاں آواز اٹھائیں یہ سب سے بڑا سوال ہے۔ پاکستان میں وسائل کی کمی نہیں ہے لیکن وسائل پر چند مخصوص لوگوں کا قبضہ ہے جبکہ عوام کو طرح طرح کی مصیبتوں اور پریشانیوں کا سامنا ہے۔کہنے کو تو پاکستان میں کئی مرتبہ الیکشن ہوئے اور وہاں مسنداقتدار پر چنی ہوئی حکومتیں براجمان ہوتی رہی ہیں۔ لیکن یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پاکستان کی فوج کو روز اول سے ہی اقتدار کا چسکا لگ گیا ہے۔ حکومت کوئی بھی ہو وہ فوج کے اثر و رسوخ سے نبرد آزما نہیں ہو سکتی اگر جمہوری حکومت نے فوج کو آنکھ دکھانے کی کوشش کی تو وہ حکومت زیادہ دنوں تک قائم نہیں رہ سکی۔ لگتاہےکہ پاکستان کے موجودہ وزیر اعظم عمران خاں نے اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیا ہے ، اس لئے وہ فوج سے کوئی ٹکراؤ مول لینا نہیں چاہتے۔ یہ الگ بات ہے کہ فوج اور سیاسی قیادت کے اس تال میل میں پاکستان کے عوام کو خسارہ اٹھانا پڑتا ہے۔ تمام زور اسی بات پر صرف ہوتا ہے کہ وعدوں اور باتوں سے عوام کو بہلائے رکھا جائے۔
یہ بات روز اول سے ہی کہی جا رہی ہے کہ عمران خاں فوج کے پسندیدہ وزیر اعظم ہیں خود عمران خاں بھی اس کا اقرار کرتے رہے ہیں کہ ان کی حکومت کو فوج کی مکمل حمایت ہے اور سیاسی قیادت اور فوجی قیادت میں کوئی فرق نہیں رہ گیا۔ ایسے میں یہ بات فطری ہے کہ حکومت کا مقصد اعلیٰ طبقوں کا خاتمہ نہیں بلکہ اپوزیشن کو پوری طرح کچلنے کا ہوتا ہے ۔ ایسے میں ملک کا آئین ایک کاغذ کے ٹکڑے کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ ساتھ ہی ساتھ پوری کوشش یہ بھی ہوتی ہے کہ ایک مستحکم سول ۔ملٹری حکومت کا قیام عمل میں آ جائے تاکہ مخالفین کو سختی سے کچلا جا سکے۔
سول –ملٹری حکومت کی ایک سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ اس میں عوام کے حقوق کو فراموش کردیا جاتا ہے ۔ حکومت جس طرح سے روحانی تعلیمات کو موجودہ مسائل پر ترجیح دے رہی ہے اس کا نتیجہ یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ پاکستان میں ایک بار پھر مذہبی اور روحانی لیڈر بڑے طمطراق سے میدان میں آ گئے ہیں اور ان کو عوام کی حمایت بھی حاصل ہے۔ ان روحانی لیڈروں کو اقتصادی نظام کو بہتر بنانے یا جمہوری قدروں کو مستحکم کرنے کی کوئی فکر نہیں ہوتی بلکہ سارا زور اسی پر صرف ہوتا ہےکہ کسی طرح حکومت کے ہر اقدام کو صحیح قرار دیا جائے۔ ایسی صورت حال میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ عوام کے بنیادی حقوق ایک طرح سےکچل کر رکھ دیئے گئے۔ خواتین کس طرح سے گھریلو تشدد کی شکار ہیں ، ناموس کے نام پر کس طرح سفاکانہ جرائم ہو رہے اور کس طرح لوگوں کے مذہب کو زبر دستی بدلا جا رہا ہے اس پر کوئی توجہ نہیں ہے۔ ایک اندازہ کےمطابق اب تک سیکڑوں لڑکیوں کو ان کی مرضی کے خلاف زبر دستی انکےمذہب کو تبدیل کرنے پرمجبور کیا گیا۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ بے شمار کم سن بچے اوربچیوں کو مذموم جنسی کا روبار میں ڈھکیل دیا گیا۔ حیرت اور تعجب کی بات یہ ہےکہ ایسے معاملوں میں پاکستانی پولیس محض تماشائی بنی رہتی ہے یا پھر قصور واروں کا کھل کر ساتھ دیتی ہے۔
پاکستان میں تمام مذاہب کے ماننے والوں کے لئے مساوی حقوق کی بات زور و شور سے کی جاتی ہے لیکن اس بات میں کتنی سچائی ہے اس کا اندازہ اس بات سےلگایا جا سکتا ہے کہ وہاں اقلیتوں کے لئے ابھی تک کمیشن قائم نہیں ہو سکا ہے اور انسانی حقوق کمیشن اور خواتین کے لئے کمیشن کی ترتیب نو کے لئے ابھی جائزہ لیا جانا ہے۔ پاکستان میں یہ کیسی ستم ظریفی ہے کہ وہاں اپوزیشن کے لئے پر امن احتجاج اور مظاہروں کی اجازت نہیں۔ عوام ایک طرح سے حکومت کے غلام بن کر رہ گئے ہیں۔ ان کو جو پریشانیاں اور دقتیں ہیں اس کے لئے وہ کہاں آواز اٹھائیں یہ سب سے بڑا سوال ہے۔ پاکستان میں وسائل کی کمی نہیں ہے لیکن وسائل پر چند مخصوص لوگوں کا قبضہ ہے جبکہ عوام کو طرح طرح کی مصیبتوں اور پریشانیوں کا سامنا ہے۔کہنے کو تو پاکستان میں کئی مرتبہ الیکشن ہوئے اور وہاں مسنداقتدار پر چنی ہوئی حکومتیں براجمان ہوتی رہی ہیں۔ لیکن یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پاکستان کی فوج کو روز اول سے ہی اقتدار کا چسکا لگ گیا ہے۔ حکومت کوئی بھی ہو وہ فوج کے اثر و رسوخ سے نبرد آزما نہیں ہو سکتی اگر جمہوری حکومت نے فوج کو آنکھ دکھانے کی کوشش کی تو وہ حکومت زیادہ دنوں تک قائم نہیں رہ سکی۔ لگتاہےکہ پاکستان کے موجودہ وزیر اعظم عمران خاں نے اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیا ہے ، اس لئے وہ فوج سے کوئی ٹکراؤ مول لینا نہیں چاہتے۔ یہ الگ بات ہے کہ فوج اور سیاسی قیادت کے اس تال میل میں پاکستان کے عوام کو خسارہ اٹھانا پڑتا ہے۔ تمام زور اسی بات پر صرف ہوتا ہے کہ وعدوں اور باتوں سے عوام کو بہلائے رکھا جائے۔
Comments
Post a Comment