طالبان کی بڑھتی طاقت امن عالم کیلئے سب سے خطرناک

ایک رپورٹ کے مطابق ‘‘طالبان نے دنیا کے سب سے زیادہ ہلاکت خیز غیرسرکاری مسلح گروپ کے طور پر داعش (آئی ایس آئی ایس) کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے’’۔ دراصل گزشتہ چند دنوں میں افغانستان کی سرزمین پر سب سے زیادہ خون خرابہ طالبان نے ہی کیا ہے۔ اس دہشت گرد تنظیم کے مسلح کارکنان اب تک سینکڑوں بلکہ ہزارہا بے گناہ شہریوں ، افغان وامریکی فوجیوں کو خودکش بم دھماکوں اور گولی باری میں ہلاک اور زخمی کرچکے ہیں۔ اگرچہ ٹرمپ انتظامیہ نے افغانستان میں تشدد اور تباہی کو بند کرانے کے لئے طالبانی قیادت کے ساتھ راست اور بالواسطہ دونوں طریقوں سے مذاکرات کیے، لیکن طالبان کے اڑیل رویے کی وجہ سے بات چیت کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوسکی اور افغانستان میں خون خرابہ اور طالبان کی دہشت گردانہ سرگرمیوں میں مزید شدت آتی گئی۔ اسی لیے افغانستان کی صورتحال کا تجزیہ کرنے والی بین الاقوامی تنظیموں اور اداروں نے طالبان کی بڑھتی طاقت کو امن عالم کے لئے سب سے خطرناک قرار دیا ہے اور یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ خونخوار دہشت گرد تنظیم کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ درحقیقت پاکستانی فوج اور وہاں کی خفیہ ایجنسی انٹرسروسز انٹلی جنس یعنی آئی ایس آئی کی بھرپور حمایت کی وجہ سے طالبان کی طاقت میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی نہ صرف طالبان کو اخلاقی حمایت دیتی ہیں بلکہ زمینی فوجی تربیت اور اسلحہ دینے میں بھی پیش پیش رہتی ہے، کیونکہ پاکستان کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہوجائے اور امریکی افواج وہاں سے واپس چلی جائیں۔ تاہم آگے بڑھنے سے قبل ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ آخر طالبان کون ہیں اور یہ کس طرح پیدا ہوئے۔

دراصل طالبان مشرقی و جنوبی افغانستان کے پشتون علاقوں کے وہ قبائلی طلبا تھے جنہو ں نے روایتی اسلامی مدارس میں دینی تعلیم حاصل کی اور جو اپنے ملک میں شرعی قوانین نافذ کرانے کے لئے بنیاد پرست بن گئے اور بعض سخت گیر اسلام پرست ممالک کی سرپرستی کی بدولت جنہوں نے دہشت گردی اور خون خرابہ و تباہی کی راہ اختیار کی اور اپنے اس عمل کو نہایت فخر کے ساتھ اسلامی جہاد کا نام دیا۔ پاکستانی ماہر افغانستان احمد رشید کے مطابق 1992تا 1999 تقریباً 80ہزار سے لے کر ایک لاکھ تک ان پاکستانیوں کو بھی تربیت دی گئی جو افغانستان میں طالبان کی طرف سے لڑے۔ مشہور تجزیہ نگار پیٹر ٹامسن نے اپنے ایک تجزیے میں لکھا ہے کہ ”9/11 تک پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی افسران کی زیر قیادت ہزارہا پاکستانی فوجی افغانستان میں لڑے تھے“۔ بہرحال سخت گیر اسلام پرست ممالک کی فوجی و مالی مدد سے طالبان نے کابل پر قبضہ کرلیا اور افغانستان پر 1996میں ان کی حکومت قائم ہوگئی اور اس حکومت کو پاکستان کے ساتھ ساتھ سعودی عرب اور یو اے ای نے تسلیم کرلیا۔ طالبان حکومت نے اسلامی شریعت کو سختی سے نافذ کیا اور اس کے لئے انہو ں نے افغان خواتین کو خاص طور پر نشانہ بنایا۔ نوجوان لڑکیوں اور بوڑھی خواتین کے لئے بھی برقع پہننا لازمی کردیا گیا، لڑکیوں کے اسکول بند کردیے گئے۔ روشن خیال افغان شہریوں کو لبرل ہونے کی سزا دی گئی۔ طالبان نے اپنے دور اقتدار میں سرسبز کھیتیوں کو ندر آتش کیا اور قدیم تاریخی یادگاروں کو غیر اسلامی قرار دے کر انہیں تہس نہس کیا، جس کی افسوسناک مثال ڈیڑھ ہزار سال پُرانا مہاتما بدھ کا وہ بُت تھا جسے طالبان نے بامیان میں توڑ دیا تھا اور جس کی مذمت عالمی برادری نے واضح الفاظ میں کی تھی۔ یہی نہیں سعودی باشندہ اور القاعدہ کے لیڈر اُسامہ بن لادن نے ڈھائی ہزار عرب باشندوں کو اپنے ساتھ لے کر طالبان کی بنیاد پرستانہ اور دہشت گردانہ سرگرمیوں کی حمایت کی تھی اور ان سفاکانہ کارروائیوں میں شمولیت اختیار کی تھی۔ 11/ نومبر 2001 کو امریکہ میں دہشت گردانہ حملے میں اسامہ بن لادن اورطالبان کی سازش کا جواب دینے کے لئے امریکہ نے اقوام متحدہ اور ناٹو کی افوان کی اشتراک سے دسمبر 2001میں افغانستان پر زبردست حملے کیے اور طالبانی حکومت کا خاتمہ کردیا۔ تاہم امریکی کارروائی سے طالبان کی حکومت تو ختم ہوگئی مگرطالبان زندہ رہے اور انہیں پاکستان اور آئی ایس آئی سے ہر قسم کی مدد اور تعاون حاصل ہوتا رہا اور سلسلہ ہنوز جاری ہے۔

چونکہ حکومت ہند بھی افغانستان کی معاشی اور ٹیکنالوجیکل ترقی میں بھرپور تعاون دے رہی ہے، لہٰذا وہاں کام کرنے والے ہندوستانی انجینئروں اورماہرین کوبھی طالبان نے پریشان کرنا اور انہیں اغوا کرنا شروع کردیا۔ لیکن اس سب کے باوجود ہندوستان نے افغان عوام کی مدد کو بدستور جاری رکھا۔ اسی لیے آج جہاں افغانستان میں عوام پاکستان کی تخریبی کارروائیوں اور اس کی فوج اور آئی ایس آئی کے ذریعے طالبانی دہشت گردوں کے ساتھ تعاون کو نفرت و حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں وہیں وہ ہندوستان کے تعمیری تعاون کے لئے ہمارے ملک کے شکر گزار ہیں۔ تاہم پاکستانی فوج کو افغانستان میں حکومت ہند کا مثبت اور تعمیری تعاون پسند نہیں ہے اور وہ وہاں طالبان کی حکومت دوبارہ قائم کرانے کے لئے کوشاں ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ