ایف اے ٹی ایف کی جانب سے پاکستان کو جون تک کی مہلت
اگر کوئی ملک اپنے اوپر عاید الزامات کو غلط او ربے بنیاد ثابت کرنا چاہے تو اسے سنجیدگی سے قدم اٹھانے ہوں گے۔ اسے اپنے اقدامات سے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ اس کا دامن بے داغ ہے اور اس کے بارے میں جو کچھ کہا جا رہا ہے اس میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ لیکن اگر وہ صرف زبانی دعوے کرے اور عملی طور پر کوئی قدم نہ اٹھائے تو اس کی باتوں پر کسی کو یقین نہیں آئے گا۔ کچھ ایسی ہی صورت حال پاکستان کی ہے۔ پاکستان اور دہشت گردی لازم و ملزوم بن گئے ہیں۔ جہا ں کہیں بھی دہشت گردی کے واقعات پیش آتے ہیں تو انگلیاں فطری طور پر پاکستان کی جانب اٹھ جاتی ہیں۔ اور جب تحقیقات ہوتی ہے تو مذکورہ واقعہ سے پاکستان کا کوئی نہ کوئی تعلق نکل ہی آتا ہے۔ پاکستان کا دعویٰ ہے کہ وہ دہشت گردی کا مخالف ہے اور وہ اپنی سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ لیکن ہوتا اس کے برعکس ہے۔یہی وجہ ہے کہ پوری دنیا اس سے یہ مطالبہ کرتی ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف کارروائی کرے۔ ہندوستان ایک عرصے سے اس سے یہ مطالبہ کرتا آیا ہے۔ پاکستان کا اصرار ہے کہ ہندوستان اس سے مذاکرات کا آغاز کرے لیکن ہندوستان کا موقف یہ ہے کہ دہشت گردی اور بات چیت ساتھ ساتھ نہیں چل سکتی۔ اگر پاکستان بات چیت کے حق میں ہے تو اسے چاہیے کہ وہ ماحول کو سازگار بنائے۔ اور ماحول اسی وقت سازگار ہوگا جب وہ انسداد دہشت گردی کے لئے موثر اور ٹھوس اقدامات کرے گا۔ صرف دنیا کو یہ دکھانے کے لیے کہ وہ دہشت گردی کا مخالف ہے نمائشی اقدامات کرتا ہے تو اس سے بات بننے والی نہیں ہے۔ اب تک اس نے اس محاذ پر جو کچھ کیا ہے وہ نمائشی ہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کو ا سکی باتوں پر کوئی یقین نہیں ہے۔ دنیا میں دہشت گردی کو سرمایہ کی فراہمی یعنی منی لانڈرنگ کو روکنے کے لیے پیرس میں قائم ادارے فائنانشیل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کو بھی اس کی باتوں پر یقین نہیں ہے۔ یہی وجہ ہےکہ اس نے پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈال رکھا ہے۔ اس کا مطالبہ ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف ٹھوس اور موثر کارروائی کرے اور دہشت گرد تنظیموں کو کی جانے والی فنڈنگ روکے۔اگر وہ ایسا کرنے میں ناکام رہتا ہے تو ایف اے ٹی ایف اس کو بلیک لسٹ کر دے گا۔ ایف اے ٹی ایف کی جانب سے کسی بھی ملک کو بلیک لسٹ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کو نہ تو کوئی ملک مالی مدد دے سکتا ہے اور نہ ہی کوئی ادارہ۔ اسے کسی ادارے جیسے کہ ورلڈ بینک وغیرہ سے کوئی قرض بھی نہیں مل سکتا۔ اس وقت ایف اے ٹی ایف کا ایک اجلاس پیرس میں چل رہا ہے جس میں اس معاملے پر غور کیا گیا ہے۔ ابھی تک ہندوستان، امریکہ اور بعض دوسرے ممالک ہی پاکستان پر زور دیتے آرہے تھے کہ وہ انسداد دہشت گردی کے ٹھوس اور موثر اقدامات کرے۔ چین اس کی مدد کرتا رہا ہے۔ لیکن ایف اے ٹی ایف کے مذکورہ اجلاس میں چین نے بھی اس کا ساتھ چھوڑ دیا اور سعودی عرب نے بھی۔ ان دونوں ملکوں نے ہندوستان، امریکہ اور یوروپین ممالک کی حمایت کرتے ہوئے پاکستان سے کہا ہے کہ وہ دہشت گردی کی فنڈنگ اور منی لانڈرنگ روکنے کے سلسلے میں ایف اے ٹی ایف سے کیے گئے اپنے وعدے پورے کرے۔ اس کےساتھ ہی تمام دہشت گرد تنظیموں کے اعلیٰ رہنماؤں کے خلاف قانونی کارروائی کرکے ان کو انصاف کے کٹہرے تک لائے۔ سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ ترکی واحد ملک ہے جس نے پاکستان کا ساتھ دیا۔ اس وقت چین پاکستان کا سب سے بڑا دوست ملک ہے۔ وہ ہر معاملے میں پاکستان کا ساتھ دیتا آیا ہے۔ اس سے قبل ہندوستان نے جب بھی پاکستان سے سرگرم جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر کو بین الاقوامی دہشت گرد قرار دلوانے کی سلامتی کونسل میں کوشش کی تو چین ہمیشہ ویٹو کرتا رہا ہے۔ لیکن بہر حال اس معاملے میں اسے ہندوستان کا ساتھ دینا پڑا۔ حالانکہ وہ ہر ایسے معاملے میں پاکستان کے ساتھ کھڑا ہو جاتا تھا جس کی وجہ سے اس کی حوصلہ افزائی ہوتی تھی اور وہ دہشت گرد گروپوں کے خلاف کارروائی سے بچ جاتا تھا۔ سعودی عرب بھی پاکستان کا ایک دیرینہ دوست ہے۔ وہ بھی تقریباً ہر معاملے میں اس کا ساتھ دیتا آیا ہے۔ لیکن دہشت گردی کے معاملے میں اب وہ بھی اس کا ساتھ دینے کو تیار نہیں ہیں۔ جب پاکستان نے حافظ سعید کے خلاف کارروائی کی تو ایک بار پھر اسے یہ امید تھی کہ ایف اے ٹی ایف نہ صرف یہ کہ اسے بلیک لسٹ نہیں کرے گا بلکہ اسے گرے لسٹ سے بھی نکال دے گا۔ لیکن اس کے ان نمائشی اقدامات کا اس پر کوئی اثر نہیں پڑا اور ا س نے اگر چہ اسے بلیک لسٹ نہیں کیا لیکن گرے لسٹ سے بھی نہیں نکالا۔ پاکستان سے کہا گیا ہے کہ وہ جون میں ہونے والے اجلاس سے قبل تمام دہشت گرد گروپو ں کے اعلیٰ رہنماؤں کے خلاف کارروائی کرے اور انھیں سزا دے اور اس نے اس ادارے سے جو وعدے کیے ہیں ان کو پورا کرے۔ اگر ا س نے جون میں ہونے والے اجلاس سے قبل ایف اے ٹی ایف کو مطمئن نہیں کیا تو اسے بلیک لسٹ بھی کیا جا سکتا ہے۔ اب اس کو بچانے والا کوئی نہیں ہے۔ نہ چین اور نہ سعودی عرب۔ ترکی کو چھوڑ کر ایف اے ٹی ایف کے تمام ممبر ملکوں نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ ایف اے ٹی ایف سے کیے گئے باقی تمام 13 وعدے پورے کرے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتا ہے تو اسے نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
Comments
Post a Comment