ہند۔یوروپی اسٹریٹجک شراکت، نمایاں اہمیت کی طرف


ہندوستانی وزیر خارجہ ڈاکٹرایس جے شنکر نے یوروپی یونین کی کاؤنسل برائے خارجہ امور کے ساتھ تبادلہ خیال کے لئے برسلز کا دورہ کیا۔ یوروپی یونین کے اعلی نمائندے اور نائب صدر برائے خارجہ امور و سلامتی پالیسی جوزف بوریل کی دعوت پر ان کا یہ دورہ عمل میں آیا تھا ۔ دسمبر 2019 میں نئے کمیشن کی تشکیل کے بعد ان کا پہلا دورہ تھا۔

یوروپی یونین کے اعلی نمائندے اور اس کے رکن ممالک کے 27 وزرائے خارجہ کے ذریعہ خارجہ امور کاؤنسل کی تشکیل کی گئی تھی۔ خارجہ پالیسی، دفاع اور سلامتی، تجارت، ترقیات، تعاون اور انسانی امداد سے متعلق یوروپی یونین کی بیرونی کارروائیاں اس کے فرائض میں شامل ہیں۔ برسلز میں خارجہ امور کاؤنسل کے ساتھ ڈاکٹر جے شنکر نے ہندوستان کی خارجہ پالیسی کی ترجیحات اور علاقائی نیز عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ اس گفتگو میں دنیا کی دو بڑی جمہوریتوں۔ ہندوستان اور یوروپی یونین کے درمیان مشترک اقدار و جمہوریت، کثیر جہتی اور اہم و مستحکم ترقی کے لئے قوائد و ضوابط پر مبنی بین الاقوامی نظام نیز عالمی تجارتی تنظیم کے ساتھ بین الاقوامی تجارت کے سلسلے میں ان کی مشترکہ وابستگیوں پر خاص توجہ مرکوز کی گئی۔

جناب جوزف بوریل نے حال ہی میں ہندوستان کا دورہ کیا تھا جس کے دوران انہوں نے رائے سینا ڈائیلاگ 2020 میں شرکت کی تھی۔ ہندوستان اور یوروپی یونین کے درمیان اشتراک پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ ایسے وقت میں جب عالمی تجارت تنظیم کے تنازعات کے حل کے میکنزم میں تعطل، یوروپ، ہندوستان نیز متعدد جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کے لئے تشویش کا باعث ہے، طرفین کے لئے قوائد و ضوابط پر مبنی کثیر جہتی نظام کا دفاع بے حد ضروری ہے،۔ اعلی نمائندے نے اس ڈائیلاگ کے دوران مطلع کیا تھا کہ یوروپی یونین نے اس تعطل کے خاتمے کے لئے تجاویز تیار کی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی دعوی کیا تھا کہ اس مسئلے کے حل کی تلاش اور عملی حل کی پیش کش، ہندوستان اور یوروپی یونین کے زبردست مفاد میں ہے۔

ایک ایسے وقت میں جب عالمی برادری کو بحری قذاقی نیز بحری وسائل کے رکھ رکھاؤ اور تحفظ جیسے متعدد چیلنجوں کا سامنا ہے، بحری سلامتی کا استحکام اہم ترین ترجیح بن گیا ہے۔ لہذا بحری سلامتی اور استحکام کے لئے مل جل کر کام کرنا لازمی ہوگیا ہے۔ قرنِ افریقہ سے دور سمندر اور مغربی بحر ہند میں ہندوستان کے ساتھ تعاون اس کی ایک اچھی مثال ہے۔ یوروپی یونین کے اعلی نمائندے نے 2025 کے تناظر میں ہند۔ یوروپی اسٹریٹجک شراکت کے لئے ایک ایسے خاکے کی تیاری پر بھی زور دیا، جس میں سلامتی سے لے کر ڈیجیٹل یا ماحولیاتی تبدیلی تک کے شعبوں کا احاطہ کیا گیا ہو۔

توقع ہے کہ طرفین اپنے روابط کو وسیع کریں گے۔ خصوصاً ماحولیاتی تبدیلی، کثیر جہتی تحفظ نیز دفاع، سلامتی، باہمی میل جول، ڈیجیٹل معیشت، تجارت و سرمایہ کاری کے علاوہ دفاعی سلامتی اور دہشت گردی کی لعنت کی بیخ کنی جیسے شعبوں میں مشترکہ ترجیح پر روابط میں توسیع ہوگی۔ اس پس منظر میں، ہندوستانی وزیر خارجہ نے یوروپین گرین ڈیل کے ایگزیکیوٹو نائب صدر ، فرینس ٹمرمینس، کمشنر برائے تجارت فل ہوگن اور کمشنر برائے بین الاقوامی شراکت محترمہ جٹا اُر پیلینن سے ملاقات کی۔

ڈاکٹر جے شنکر نے یوروپی یونین کے 27 ارکان کے سربراہان مملکت کی کاؤنسل کے صدر چارلس مائیکل سے بھی ملاقات کی اور ان کو خارجہ امور کاؤنسل کے ساتھ اپنے تبادلہ خیال سے آگاہ کیا۔

وزیر خارجہ نے اپنے بیلجیم ہم منصب فلپ گوفن سے ملاقات کی اور ان کو فروری کے لئے بیلجیم کے ذریعے اقوام متحدہ سلامتی کاؤنسل کی پریسی ڈنسی سنبھالنے پر مبارکباد دی۔ دونوں رہنماؤں نے باہمی تعلقات کے تناظر میں ہند۔ بیلجیم تعاون نیز کثیر جہتی فورموں اور علاقائی و عالمی امور میں مشترکہ مفادات پر سیر حاصل گفتگو کی۔

برسلز کے ایک روزہ دورے میں ہندوستانی وزیر خارجہ نے یوروپی یونین کے ارکان کے گروپ سے بھی تبادلہ خیال کیا جو نئی یوروپی پارلیمان کے رکن ممالک اور سیاسی گروپوں پر مشتمل ہے۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ مارچ 2020 میں ہند۔ یوروپی یونین سربراہ اجلاس، باہمی تعلقات کو ایک نئی سمت دینے کا نقیب ثابت ہوگا۔ ہند۔ یوروپی اسٹریٹجک شراکت 2025 کے لئے مذاکرات پہلے ہی سے جاری ہیں اور جن کے بعد توقع ہے کہ اس آئندہ اجلاس میں منظوری کے لئے کوئی معاہدہ تیار کرلیا جائے گا۔ توقع ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی اس سربراہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔ مابعد بریگزٹ ای یو میں، 27 رکنی یوروپی یونین کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات کو کافی اہمیت حاصل ہورہی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ