امریکی صدر کے دورۂ ہند سے باہمی اسٹریٹجک شراکت کو فروغ



امریکی صدر ڈونل ٹرمپ کا چھتیس گھنٹے کا سرکاری دورۂ ہند نہ صرف شاندار استقبال اور رنگا رنگی بلکہ قدروقیمت سے بھی عبارت تھا۔ وہ ہندوستان کا دورہ کرنے والے امریکہ کے ساتویں صدر ہیں۔ ان سے قبل گزشتہ دو دہائیوں میں امریکہ کے چار صدور یہاں کا دورہ کرچکے ہیں جس سے ہند-امریکہ تعلقات کے بام عروج کی طرف گامزن ہونے کا اشارہ ملتا ہے۔ صدرٹرمپ کے ہمراہ امریکہ کی خاتون اول ملانیا ٹرمپ (Melania Trump)، ان کی دختر اوانکا اور داماد جیرڈ کشنر (Jared Kushner) بھی تھے۔

صدر ٹرمپ کی احمدآباد آمد پر ہزاروں لوگوں نے ان کا غیرمعمولی خیرمقدم کیا، سابرمتی کے دورے کے بعد، انہوں نے وزیراعظم نریندرمودی کے ساتھ موٹیرا اسٹیڈیم میں منعقدہ ‘نمستے ٹرمپ’ تقریب میں موجود سوالاکھ افراد سے خطاب کیا۔ خیال رہے کہ پانچ ماہ قبل صدر ٹرمپ اور وزیراعظم مودی نے ہاؤڈی مودی ریلی کے دوران ہند نژاد امریکی برادری کے ایک زبردست اجتماع سے خطاب کیا تھا۔ موجودہ دورے میں صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب کے دوران وزیر اعظم مودی کی شاندار شخصیت اورقیادت نیز ہندوستان کی عظیم کامیابیوں کی ستائش کی۔ انہوں نے کہا کہ صرف 70 برس میں ہندوستان نے ایک معاشی طاقت، پہلے کے مقابلے کہیں زیادہ مستحکم جمہوریت اور دنیا کےایک حیران کن ملک کی حیثیت حاصل کرلی ہے۔ اس پوری تقریب کے دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان شاندار رابطہ نظر آیا۔ تاج محل کے دیدار کے لیے آگرہ کے مختصر دورے کے بعد صدر ٹرمپ اور ان کا قافلہ راجدھانی دہلی پہنچا۔

دہلی میں ان کی سرکاری مصروفیات کا آغاز راشٹرپتی بھون میں شاندار رسمی تقریب اور خاتون اول کے ساتھ بابائے قوم مہاتماگاندھی کو خراج عقیدت پیش کیے جانے کے ساتھ ہوا۔علاقائی اور عالمی امور پر تبادلۂ خیال کے دوران وزیراعظم نریندرمودی اور صدرٹرمپ نے پاکستان پر زور دیا کہ وہ اپنے زیر نگین علاقے کے کسی بھی حصے کو دہشت گردانہ سرگرمیوں کے استعمال پر قدغن کو یقینی بنائے اور چھبیس الیون کے ممبئی، نیز پٹھان کوٹ سمیت مختلف علاقوں پر اس طرح کے حملوں کے ذمہ دار افراد کو کیفرکردار تک پہنچائے۔ امریکی صدر نے افغانستان کی ترقی اورسلامتی کے لیے ہندوستان کی مسلسل امداد کا خیرمقدم اور تعریف کی،جس کا مقصد اس ملک کی رابطوں کی فراہمی اور استحکام ہے۔ اجتماع کے بعد دونوں رہنماؤں نے اخباری بیانات جاری کیے۔ اس موقع پر تجارتی رہنماؤں کے ساتھ ایک میٹنگ بھی ہوئی۔ امریکی صدر اور ان کے وفد نے صدرجمہوریہ رام ناتھ کووند کےذریعہ دیئے گئے سرکاری استقبالیہ میں شرکت کی۔

اس ہائی پروفائل دورے سے دونوں ممالک کے درمیان مربوط عالمی اسٹریٹجک شراکت کے اہم شعبوں میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ دفاعی اورسلامتی تعاون کے شعبوں میں صدرٹرمپ نے بطور ایک دفاعی شراکت دار کے ہندوستان کی حیثیت کا اعادہ کیا جو خریداری اور ٹیکنالوجی منتقلی کے مقاصد پر شدید غوروخوض کا متحمل ہے۔ انہوں نے ایم ایچ 60 آر بحری اور اے ایچ 64 ای اپاچے ہیلی کاپٹروں کی خریداری کے لیے ہندوستان کے حالیہ فیصلے کا بھی خیرمقدم کیا۔

اس دورے میں ہند-بحرالکاہل علاقے میں اسٹریٹجک ارتکاز پر بھی زور دیاگیا۔ ہندوستان میں قابل تجدید توانائی کے لیے 600 ملین ڈالر کی مالی سہولت کے لیے یو ایس انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ فائنانس کارپوریشن کا فیصلہ اس سلسلے میں ایک خوش آئند قدم ہے۔ صدرٹرمپ اور وزیراعظم مودی نے بلیو ڈاٹ نیٹ ورک کے نظرئیے میں بھی دلچسپی کا اظہار کیا جس کا تعلق عالمی معیار کے بنیادی ڈھانچے کی فروغ کے لیے کثیر شراکتی پیش قدمی سے ہے۔ اس موقع پر اندرونی سلامتی کے شعبے میں تعاون کو مزید تقویت دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ قابل غور ہے کہ دونوں ممالک کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان ایک نیا انسداد منشیات ورکنگ گروپ تشکیل دیا جاچکا ہے۔

اس دورے میں باہمی تجارت میں شامل متنازعہ امور پر بھی پیش رفت ہوئی اور طرفین نے فیصلہ کیا کہ محدود سودے اوراس کے بعد دونوں معیشتوں کی مکمل صلاحیتوں کے مظہر کہیں زیادہ مربوط باہمی تجارتی معاہدے کی طرف پیش قدمی کے لیے جاری مذاکرات کو جلد از جلد تکمیل تک پہنچایا جائے۔ امریکہ سے ہندوستان کے ذریعے تیل اورگیس کی درآمدات نیز امریکہ کی پیٹرولیم صنعت میں ہندوستانی کمپنی کی سرمایہ کاری میں حالیہ برسوں میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ توقع ہے کہ ان اقدامات سے دونوں ممالک کے درمیان توانائی کے شعبے میں مزید اضافہ ہوگا۔ اس دورے سے جن دیگر شعبوں میں تعاون میں اضافے کی توقع ہے ان میں خلا، تعلیم اور صحت شامل ہیں۔



امریکہ کے صدر نے اصلاحات کے بعد اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں ہندوستان کی مستقل رکنیت نیز نیوکلیئر سپلائرس گروپ میں شمولیت کے لیے، واشنگٹن کی حمایت کا بھی اعادہ کیا ہے۔ درحقیقت یہ ایک تعمیری اوریادگار دورہ تھا۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ