پاکستان میں ذرائع ابلاغ پر سخت پابندی


اکیسویں صدی میں جب دنیا کے بیشتر ممالک عصری تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئےنئے خطوط پر اپنےسماج کی تشکیل کر رہے ہیں، پاکستان میں قدامت پسندی اور بنیاد پرستی کی جڑیں مزید گہری ہوتی جا رہی ہیں۔پاکستان میں چند ادارے اور افراد ہیں جو سماج کو جدید طرز پر فروغ دینا چاہتے ہیں لیکن انہیں کام کرنے کی آزادی نہیں دی جاتی ۔ ملک میں اس وقت اظہار رائے کی آزادی کی صورتحال انتہائی ناگفتہ بہ ہے۔ صحافی حضرات، حقوق انسانی کے کارکنان، وکلاء اور مرکزی دھارے کی سیاسی پارٹیاں، کسی کو بھی اپنی مرضی سے کام کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ تمام افراد اب اس بندش کے خلاف ایک پلیٹ فارم پر نظر آ رہے ہیں۔ حکومت نے میڈیا اور صحافیوں کو منضبط کرنے کیلئے کئی ادارے تجویز کئے،جن میں سے بیشتر کی مخالفت کی گئی لیکن کئی ادارے اور کمیٹیاں وجود میں بھی آئیں۔ ایسانہیں ہے کہ میڈیا کو کنٹرول کرنے کی کوشش صرف عمران خان کی پاکستان تحریک انصاف نے کی ہے بلکہ یہ سلسلہ پاکستان مسلم لیگ نواز کے دور سے ہی شروع ہو گیا تھا۔ اب یہ دیگر بات ہے کہ آج خود ان کی پارٹی اور رہنماؤں کو اسی طرح کی پابندیوں کا سامنا ہے۔ جہاں تک پاکستان میں میڈیا کی آزادی کا سوال ہے تو ایسے کئی بین الاقوامی ادارے ہیں جنہوں نے یہاں کی صورتحال پر تشویش ظاہر کی ہے۔ انسٹی ٹیوٹ فار ریسرچ ایڈوکیسی اینڈ ڈیولپمنٹ نے سال 2019 کے لئے اپنی سالانہ رپورٹ میں پاکستان میں میڈیا کو منضبط کرنے کی کچھ مثالیں دی ہیں۔ جن میں پبلی کیشنز، الیکٹرانک چینلوں اور ڈیجیٹل میڈیا کو کنٹرول کرنے کیلئے پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کے میڈیا کے لئے خصوصی عدالتیں، انسداد دہشت گردی عدالت کے ذریعے صحافی نصراللہ کو پانچ سال جیل کی سزا، رضوان الرحمن اور شاہ زیب جیلانی کے خلاف سائبر جرائم قانون کا استعمال ایسی مثالیں ہیں جو پاکستان میں میڈیا کی صورتحال بیان کرنے کیلئے کافی ہیں۔ یہی نہیں 2019میں ہی میڈیا نگرانی کے عالمی ادارے ‘رپورٹر وِد آؤٹ بارڈر(آر ایس ایف )نے صحافتی آزادی کے حوالے سے ممالک کی درجہ بندی کی فہرست جاری کی تھی جس کے مطابق پاکستان اپنے پرانے درجے سے تین درجے تنزلی کا شکار ہوگیا تھا۔ پاکستان میں گذشتہ چھ برسوں میں تقریباً 33صحافیوں کا قتل ہوا اور سال 2019میں ہی سات صحافی قتل ہوئے۔ انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والے اداروں اور وکلاء کو بھی اسی طرح کی دشواریوں کا سامنا ہے۔ آسیہ بی بی اور جنید حفیظ کو توہین رسالت اور توہین مذہب کے الزام میں سزائیں دی گئیں ۔ اگر چہ آسیہ بی بی کو کافی جدوجہد کے بعد عدالت نے رہا کر دیا۔ ان دونوں کے مقدموں میں نہ صرف وکلاء کو دھمکیاں دی گئیں بلکہ ججوں کو بھی انجام بھگتنے کی دھمکی دی گئی ۔ ایسے حالات میں پاکستان میں انصاف کی امید کرنا بے معنی ہے۔ اسی طرح سے پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما اور پاکستان کی قومی اسمبلی کے اراکین محسن داوڑ اور علی وزیر کو لوگوں کے حقوق کیلئے آواز بلند کرنے پر شمالی وزیرستان میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔ بلوچستان میں پاکستانی فوج کی ظلم و زیادتی کسی سے پوشیدہ نہیں ہے وہاں سیکڑوں نوجوان اب بھی لاپتہ ہیں جن کے عزیز ان کی راہ دیکھ رہے ہیں۔ اگر لاپتہ ہونے والے افراد کے حق میں کوئی بھی آواز بلند کرتا ہے یا ان کے مقدمے کی پیروی کرتا ہے تو انہیں بھی سرکاری اداروں کی طرف سے نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اسی طرح سے اگر دیکھا جائے تو سماج کا کوئی بھی حلقہ حکام کے ظلم و جبر سے بچا نہیں ہے یہاں تک کہ رہنما بھی اس کی زد میں ہیں۔پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما اور سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کے خاندان کے افراد کے تئیں جس طرح کا سلوک روا رکھا گیا وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے ۔ کسی بھی ملک میں اپوزیشن کا ہونا لازمی ہے کیونکہ یہ صحت مند جمہوریت کی علامت ہے۔ حزب اختلاف یا حکومت کے خلاف اٹھنے والی آواز کو دبانے سے خود حکومت اور اداروں کے اندر پائی جانے والی خامیوں کی نشاندہی نہیں ہوتی۔ اسی طرح سے اگر میڈیا حکومت اور سماج میں پائی جانے والی بدعنوانیوں اور برائیوں کو نمایاں نہیں کرے گا تو عوام اس سے ناواقف رہیں گے اور ان خامیوں کو درست کرنے کی کوشش نہیں ہوپائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ نہ صرف ایک صحت مند ملک و سماج کو تعمیر میں میڈیا کی آزادی انتہائی ضروری ہے بلکہ روشن خیال اور دانشور طبقے کے اظہار رائے کی آزادی بھی اتنی ہی ضروری ہے تاکہ برائی کی نشاندہی کر کے اس کے تدارک کی متحدہ طور پر کوشش کی جا سکے ۔ جب تک پاکستان ان حقائق کو تسلیم نہیں کرے گا اور اس سمت سنجیدگی سے کوشش نہیں کرے گا تب تک اس کا موجودہ بحران سے نکل پانا مشکل ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ