پاکستان میں ججز کی خفیہ نگرانی
پاکستان جمہوریت کی ایک ایسی تجربہ گاہ بنتا جا رہا ہے جہاں فوج کی بالادستی اور عوام کے حوصلوں اور امیدوں کے درمیان ایک سرد جنگ ہمیشہ جاری رہتی ہے۔ جنوبی ایشیا میں جہاں جمہوریتیں ایک فلاحی ریاست کے تانے بانے کو مضبوط کرنے کی راہ پر پیش قدمی کر رہی ہیں وہیں پاکستان میں عوام کے ذریعہ منتخب حکومتیں ہمیشہ اپنی طبعی عمر کو لے کر مشکوک رہتی ہیں۔ ابھی معاملہ کی نوعیت ایک ذرا مختلف اور پیچیدہ ہے۔ عمران خان بار بار کہتے رہے ہیں کہ کہ پاکستان میں فوج اور حکومت کے درمیان کوئی اختلاف نہیں اور دونوں ایک پیج پر ہیں۔حزب اختلاف کے رہنما ؤں کی نظر میں بھی عمران خان سیلیکٹڈ وزیر اعظم ہیں جو فوج کے رحم و کرم سے مسند اقتدار تک پہنچے ہیں۔ شاید یہی سبب ہے کہ عمران خان کے خلاف کسی بھی سرکردہ رہنما کے بیان اور فیصلے کو پاکستانی فوج یا ایجنسیاں اپنے اوپر حملہ تصور کرتی ہیں اور شد ومد سے دفاع میں لگ جاتی ہیں ۔ ایسی صورت میں خسارہ صرف اور صرف عوام کا ہے۔
یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں کہ پاکستان بڑی مشکل سے ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں شامل ہونے سے خود کو بچا پایا ہے اور یہ مہلت بھی چند ماہ کی ہے۔ دہشت گردی کو ہر طرح کی اعانت پاکستانی اسٹیبلشمنٹ سے حاصل ہوتی رہی ہے۔ یہی سبب ہے کہ بدنام زمانہ دہشت گردوں کو بھی پاکستان قرار واقعی سزا دلانے میں ناکام رہا ہے۔ اگر عدالت میں کسی جج نے جرأتمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حکومت یا فوج کو کٹگھرے میں کھڑا کرنے کی کوشش کی تو اسٹیبلشمنٹ اس کے خلاف تمام حربے استعمال کر کے سبق سکھانے پر کمربستہ ہو جاتا ہے۔ تازہ معاملہ جسٹس فائز عیسیٰ کا ہے جنھوں نے صدارتی ریفرینس کے حوالے سے فوج اور ایجنسیوں پر سنگین الزامات عائد کئے ہیں۔ واضح رہے کہ جسٹس عیسیٰ کا شمار ملک کے چند سرکردہ ایماندار، بیباک اور فرض شناس ججوں میں ہوتا ہے۔ ان کے والد محترم نے پاکستان کے لئےجد و جہد میں اہم رول ادا کیا تھا اور بلوچستان کو پاکستان میں شامل کرنے کی حمایت کی تھی لیکن اب خود انھیں اپنے بنیادی حقوق کے لئے بھی آواز اٹھانی پڑ رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں بلوچ عوام کے ساتھ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کا جو رویہ رہا ہے اس کی بھی ہر طرف سے مذمت ہو رہی ہے۔ پشتون تحفظ تحریک سے وابستہ لوگوں کی جبری گمشدگی اور قتل اب عام بات ہو چکی ہے۔ ملک سے باہر بھی ان کے رہنماؤں اور ان سے ہمدردی رکھنے والوں پر آئی اس آئی کے ذریعہ حملوں کی خبریں مسلسل آ رہی ہیں۔
پاکستان میں ایک طرف تو احسان اللہ احسان اور مسعود اظہر جیسے دہشت گردوں کو فرار ہونے کا موقعہ دیا جاتا ہے اور دوسری طرف صحافیوں اور سوشل میڈیا پر کھل کر اپنی بات کہنے والوں کو طرح طرح کی اذیتوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔جسٹس عیسیٰ کے مطابق ان کے خلاف سازشوں کا سلسلہ فیض آباد دھرنا نظرثانی کیس اور کوئٹہ دھماکے کی رپورٹ کے بعد ہی شروع ہو گیا تھا۔ جسٹس عیسیٰ نے فیض آباد دھرنا نظر ثانی کیس میں صاف صاف لفظوں میں کہا تھا کہ آئی اس آئی کو سیاسی معاملات میں مداخلت کا کوئی حق نہیں اور نہ ہی وہ کسی سیاسی جماعت کی حمایت کر سکتی ہے۔ انھوں نے صدارتی ریفرینس کے جواب میں صدر، وزیر اعظم، معاون خصوصی اور وزیر قانون کے خلاف مبینہ طور پر جاسوسی کے عمل میں ملوث ہونے کے سبب توہین عدالت کا مقدمہ چلائے جانے کی درخواست کی۔ انھوں نے صدارتی ریفرنس کے بدنیتی پر مبنی ہونے کا الزام بھی لگایا اور اسے کالعدم قرار دینے کی اپیل کی۔ جسٹس عیسیٰ نے ایف بی آر اور وفاقی تحقیقی ادارے ایف آئی اے کے ساتھ ساتھ قومی شناخت سے متعلق ادارے پر اپنے اور اہل خانہ سے متعلق ذاتی معلومات کو خفیہ طریقے سے حاصل کرنے اور حکومت کے ساتھ شیئر کرنے جیسے سنگین الزامات عائد کئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک منصوبہ بند سازش کے تحت ان کے ذاتی کوائف میڈیا مین لیک کر کے کردار کشی کی گئی۔
اس صورتحال میں جب ایک جج خود کو بے بس اور لاچار محسوس کر رہا ہو، عام شہری اور اسٹیبلشمنٹ کی مخالفت کرنے والوں کے ساتھ حکومت کے رویے کا اندازہ بآسانی لگایا جا سکتا ہے۔ عدلیہ یا مقننہ کا مضبوط اور غیر جانب دار ہونا کسی بھی معاشرے کے لئے کتنا ضروری ہے یہ بتانے کی چنداں ضرورت نہیں۔ اگر مقننہ پر دباؤ بنانے کے لئے اس طرح کی کوششیں جاری رہتی ہیں تو مملکت خداداد میں جمہوریت کا خدا ہی حافظ ہے۔
Comments
Post a Comment