ایف اے ٹی ایف کی پاکستان پر کڑی نظر
پاکستان یہ سوچ کر بھلے ہی کچھ دیر کے لئے خوش ہو لے کہ وہ فی الحال مزید چند ماہ کے لئے ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں شامل ہونے سے بچ گیا لیکن اگر وہ یہ خوش فہمی پال لے کہ وہ ایف اے ٹی ایف یا عالمی برادری کی آنکھوں میں دھول جھونکنے میں کامیاب ہو جائے گا اور اسی طرح ہر بار وہ بچتا رہے گا تو یہ اس کی بہت بڑی بھول ہوگی۔شاید اس کا خیال ہے کہ چین، ملیشیا اور ترکی کی حمایت سے وہ فروری میں بلیک لسٹ پر آنے سے بچ گیا لیکن ایک بہت بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ چند ماہ کی رعایت جو اسے ملی ہے اس میں سب سے بڑا ہاتھ خود امریکہ کا ہے کیونکہ عین اسی مرحلے میں اسے پاکستان کی مدد درکار تھی تاکہ طالبان سے افغانستان سے امریکی فوجوں کی واپسی کے معاملے میں سمجھوتہ ہو سکے ۔ طالبان سے امکان اسی بات کاہے کہ عنقریب یہ سمجھوتہ ہونے والا ہے ۔ بہر حال یہ ایک الگ معاملہ ہے لیکن دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنے اور ان کی فنڈنگ اور منی لانڈرنگ سے متعلق سر گرمیوں کو روکنے یاموثر کا رروائیاں کرنے کا جہاں تک سوال ہے اس پر عالمی برادری کی کڑی نظر ہے اور ایف اے ٹی ایف نے قطعی پاکستان کی کار کردگی پر اظہار اطمینان نہیں کیا ہے ۔اس نے اب بھی پاکستان کو گرے لسٹ پر رکھنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ اس کی کار کردگیوں کا جائزہ لیتا رہے۔ اس نے جون2018 میں پاکستان کو 27 نکاتی ایکشن پلان پیش کیا تھا اور اس پر عمل کرنے کی ہدایت کی تھی لیکن پاکستان نے بڑی سست روئی کا مظاہرہ کیا اور محض چند نکات پر پیش رفت کی تھی ۔ اسے ستمبر۔اکتوبر 2019 کی ڈیڈ لائن دی گئی تھی تاکہ وہ اس درمیان باقی کارروائیاں بھی مکمل کرلے۔ چند ماہ قبل بیجنگ میں ایف اے ٹی ایف کی ایک میٹنگ ہوئی تھی جس میں پاکستان کی کار کردگی کا جائزہ لینے سے یہ پتہ چلا تھا کہ 27 میں سے 14 نکات تک کا احاطہ پاکستان نے کر لیا ہے ۔ لہذا حال ہی میں اختتام پذیر ہونے والی ایف اے ٹی ایف کی پلینری میں39 ممبران پر مشتمل اس کثیر قومی فورس نے جون 2020 تک کی مہلت پاکستان کو دی ہے کہ وہ اس درمیان تمام کارروائیاں مکمل کر لے ورنہ اسے قطعی طور پر بلیک لسٹ کر دیا جائے گا۔ پاکستان سے واضح لفظوں میں کہا گیا ہے کہ وہ قوانین اور ضابطوں میں موجود ان خامیوں کو دور کرے جن کا فائدہ اٹھا کر دہشت گرد گروپ فنڈ تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں۔ اس ضمن میں ایف اے ٹی ایف نے طالبان ،القاعدہ،لشکر طیبہ اور جیش محمد جیسے گروپوں کا بطور خاص ذکر کیا ہے او رکہا ہے کہ پاکستان ان پر کڑی نظر رکھے اور انہیں ضابطوں کی کسی خامی کا فائدہ اٹھانے کا موقع نہ دے۔ پاکستان سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ جلد از جلد اقوام متحدہ سے دہشت گرد قرار دیئے گئے افراد کو کیفر کردار تک پہنچانے کی کوشش کرے اور وہ تمام پابندیاں ان پر عائد کرے جوناگزیر ہیں۔
پاکستان خود اس بات کو محسوس کرے کہ کسی بھی دوست ملک یاا س کے ہر موسم کے دوست چین کی حمایت کی بھی کچھ حدیں ہونگی۔ اور اس حد سے آگے جا کر کوئی کچھ نہیں کر سکتا ۔ مثال کے لئے اسے یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ اس کے سب سے قریبی دوست چین نے جو اس وقت اتفاق سے ایف اے ٹی ایف کے چیئر مین کے منصب پر بھی فائز ہے ، اس نے بھی اپنے قطعی تبصرے میں یہی کہاہے کہ وہ تمام کے تمام 27 نکات کے مطابق کام کرے جن میں سے ابھی اس نے 14 نکات پر پیش رفت کی ہے ۔ اگر اس نے آنے والے چار مہینوں کے درمیان یعنی جون 2020 تک یہ کام مکمل نہیں کیا تو اس پر سخت پابندیاں عائد کی جائیں گی اور وہ بلیک لسٹ کردیا جائے گا۔
بہر حال اب جبکہ ایف اے ٹی ایف کی پلینری میٹنگ کے بعد یہ قطعی فیصلہ آ چکا ہے کہ پاکستان کو مزید چار ماہ کی مہلت دی جائے تاکہ وہ اس درمیان 27 نکات میں سے باقی کے 13 نکات کا بھی احاطہ کر لے تو یہ امید کی جانی چاہئے کہ پاکستان موقع کی نزاکت کومحسوس کرے گا اور از خود وہ تمام کاروائیاں کرے گا جن کے تحت خطرناک دہشت گردوں کا قلع قمع کیا جا سکے جب پاکستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں پورے طور پر مسمار ہو جائیں گی اور ان کے فنڈ اور منی لانڈرنگ وغیرہ پر روک لگے گی تو خود بخود ان کی کمر ٹوٹ جائے گی اور نہ صرف اس خطے میں پائیدار امن کی راہیں ہموار ہوں گی بلکہ پاکستان خود ایک انتہائی محفوظ ملک بن سکتا ہے ۔ پاکستان کو یہ بھی محسو س کرنا چاہئے کہ دہشت گردی کی حمایت اور اعانت نے پاکستان کو خود کتنا نقصان پہنچایا ہے۔ اکثر پاکستانی حکمراں یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ دہشت گردوں کے ہاتھوں سب سے زیادہ پاکستانی شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ لیکن وہ اس بات پر غور نہیں کرتے کہ اس کی بنیادی وجہ بھی یہی ہے کہ خود انہی کی سر زمین پر وہ دہشت گرد پروان چڑھائے گئے تھے ۔ تحریک طالبان پاکستان کہیں اورسے نہیں در آمد کی گئی تھی۔ وہ پاکستان ہی میں پھولی پھلی اور پھر پاکستان ہی کے لئے دہشت بن گئی۔
غرضیکہ اب زبانی جمع خرچ کے دن رخصت ہوئے اور پاکستان کو ٹھوس کارروائیاں کرنی ہوں گی۔ اگر پاکستان کو جون تک کا موقع ملاہے تو اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ سب کچھ درست کر لے۔ ورنہ اگر ایف اے ٹی ایف نے بلیک لسٹ میں شامل کر لیا تو پاکستان اقتصادی بحران کے ایسے بھنور میں پھنس سکتا ہے کہ اس سے باہر نکلنا اس کے لئے تقریباً نا ممکن ہو جائے گا۔پاکستان کی اقتصادی حالت اس وقت بھی کچھ کم نازک نہیں ہے اور اگرایسے میں مالیاتی اداروں نے بھی اس پر پابندی لگا دی تو خود پاکستانی حکمراں غور کریں کہ صورت حال کیا ہو سکتی ہے۔
Comments
Post a Comment