بدنام زمانہ حافظ سعید کو سزا

ممبئی حملوں کے ماسٹر مائنڈ اور اقوام متحدہ کی جانب سے عالمی دہشت گرد قرار دیئے گئے بدنام زمانہ جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کو لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے ساڑھے پانچ سال کی قید کی سزا سنائی۔ مذکورہ عدالت کے مطابق حافظ سعید ممنوعہ دہشت گرد تنظیم سے وابستہ رہا ہے اور اس نے ناجائز طور پر املاک بھی حاصل کی ہیں۔ سزا پانے والوں میں نہ صرف حافظ سعید بلکہ اس کے کچھ قریبی معاونین بھی شامل ہیں۔ گزشتہ سال جولائی میں حافظ سعید اور اس کے معاونین کے خلاف صوبہ پنجاب کے گوجرانوالہ ضلع میں محکمہ انسداد دہشت گردی کے دفتر میں اولین اطلاعاتی رپورٹ درج کرائی گئی تھی۔ اس پر الزام تھا کہ اس نے دہشت گردوں کو فنڈ فراہم کیا تھا۔ اس کے دوسرے معاونین کا نام ہے عبدالغفور، حافظ سعود، امیر حمزہ اور ظفر اقبال۔ ان سب کے خلاف دسمبر 2019 میں فرد جرم عائد کی گئی تھی۔ یہ پہلا موقع ہے جب حافظ سعید کو پاکستان میں کسی جرم کے لئے سزا سنائی گئی۔ ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ حافظ سعید اور اس کے ساتھی اس فیصلہ کو ہائی کورٹ میں چیلنج کرسکتے ہیں لیکن بہرحال انہیں جیل بھیج دیاجائیگا۔ اس وقت وہ لاہور کی کوٹ لکھ پت جیل میں قید ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ حافظ سعید اور ان کے ساتھیوں کو سزا ایک ایسے وقت میں سنائی گئی ہے جب چند روز بعد ہی بین حکومتی ادارہ فائنینشیل ایکشن ٹاسک فورس یعنی ایف اے ٹی ایف پاکستان کی کارکردگی کا جائزہ لینے والا ہے کہ آیا اس نے دہشت گردوں کی فنڈنگ اور منی لانڈرنگ جیسی سرگرمیوں کو روکنے کے لئے مؤثر اقدامات کئے یا نہیں! یاد رہے کہ ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو گزشتہ سال ایک بار پھر سے گرے لسٹ میں شامل کیا تھا اور ساتھ ہی یہ وارننگ بھی دی تھی کہ اگر پاکستان نے مطلوبہ کارروائی نہیں کی تو اسے بلیک لسٹ میں شامل کیا جاسکتا ہے۔ بلیک لسٹ میں شامل کئے جانے سے پاکستان شدید ترین قسم کے مالی بحران کا شکار ہوسکتا ہے کیونکہ اس صورت میں عالمی مالیاتی ادارے پاکستان کو کسی طرح کی رعایت یا قرضے دینے کے لئے تیار نہیں ہونگے۔ پاکستان پہلے ہی سے اقتصادی سطح پر بحران کے دور سے گزر رہا ہے۔ دراصل بلیک لسٹ میں شامل کئے جانے کی وارننگ پاکستان کو پہلے ہی مل چکی تھی اور گزشتہ اکتوبر تک کا اسے وقت دیا گیا تھا تاکہ وہ اس دوران 27 نکاتی ایکشن پلان کا نشانہ پورا کرلے لیکن پاکستان اس معیار پر پورا نہیں اترا۔ چین اور بعض دوسرے ممالک کی مدد سے اکتوبر میں تو اسے بلیک لسٹ میں شامل نہیں کیا گیا لیکن اب اسی ماہ چند روز بعد ایف اے ٹی ایف کی پلینری (Plenary) میٹنگ پیرس میں ہونے والی ہے اور اسی میں اس بات کا فیصلہ کیا جائیگا کہ پاکستان کے تعلق سے اگلا قدم کیا ہوگا۔ گزشتہ ماہ ایف اے ٹی ایف کے ایشیا پیسیفک گروپ کی میٹنگ بیجنگ میں ہوئی تھی۔ پتہ یہ چلا تھا کہ پاکستان نے 27 نکاتی ایکشن پلان کے کچھ اور نشانے پورے کرلئے ہیں۔ شاید 14 نکات پر اس نے نمایاں کام کئے ہیں۔ اگر ایسا ہے تو یہ ایک مثبت خبر ہوسکتی ہے۔ مقصد تو یہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان مؤثر کارروائی کرے اور صرف عالمی برادری کے مطالبات کے پیش نظر ہی نہیں بلکہ اپنی بین الاقوامی ذمہ داری سمجھ کرکرے۔

حافظ سعید اور اس کے ساتھیوں کو سزا سنائے جانے کا وقت کچھ ایسا ہے کہ اس پر تبصرے اور قیاس آرائیاں یقینا ہونگی۔ تجزیہ کاروں کا ایک بہت بڑا حلقہ یہ محسوس کرتا ہے کہ حافظ سعید کے خلاف محکمہ انسداد دہشت گردی کو جو فعال بنایا گیا اور سنجیدہ کارروائیوں کا جو مظاہرہ ہوا ہے اس کا بنیادی مقصد یہ نظر آتا ہے کہ پاکستان نہیں چاہتا کہ ایف اے ٹی ایف اسے بلیک لسٹ میں شامل کرے۔ چونکہ چین اس وقت ایف اے ٹی ایف کا سربراہ ہے اس لئے اس بات کی پوری امید ہے کہ اس کی یہ پوری کوشش ہوگی کہ پاکستان کو کسی سخت کارروائی کا نشانہ بننے سے بچائے۔ دوسری طرف یہ بھی محسوس کیا جارہا ہے کہ حافظ سعید کو سزا دلوانے کے پیچھے یہ حکمت عملی بھی کام کررہی تھی کہ پاکستان کے ارباب اختیار چاہتے تھے کہ عالمی برادری میں یہ پیغام جائے کہ واقعی پاکستان سنجیدہ ہے اور کارروائی کررہا ہے۔ ورنہ اس سے پہلے بھی کئی موقعوں پر حافظ سعید کو نظر بند کیا گیا یا حراست میں لیا گیا لیکن وہ سب کچھ انتہائی غیرسنجیدہ طور پر کیا گیا اور صرف دکھاوے کے لئے کچھ قانونی رسمیں ادا کی گئیں۔ حافظ سعید ہر بار بہت آسانی سے رہا کردیا گیا ۔ اس کے خلاف کوئی ثبوت ہی نہیں پیش کیاجاسکا۔ موجودہ معاملے میں بھی ابھی ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے مرحلے باقی ہیں۔ لہٰذا کچھ کہا نہیں جاسکتا کہ آگے چل کر کیا ہوتا ہے۔

پاکستان اگر دہشت گردی سے متعلق معاملات میں سنجیدہ ہوتاتو ابھی تک 2008 کے ان ملزموں کا مقدمہ کب کا نمٹ چکا ہوتا جو ممبئی حملوں میں ملوث تھے۔ بہرحال یہ الگ بحث ہے۔ لیکن جہاں تک لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت کے فیصلے کا سوال ہے تو یقیناً آنے والے وقتوں میں عالمی برادری بڑی دلچسپی کے ساتھ اس بات کا مشاہدہ کرے گی کہ کیا حالیہ کارروائی صرف اس بات کو ذہن میں رکھ کر کی گئی کہ دہشت گردوں کی منی لانڈرنگ کے سوال پر کسی صورت ایف اے ٹی ایف کے عتاب سے فوری طور پر بچا جاسکے یا واقعی پاکستان دہشت گردی کے معاملے میں عالمی برادری کے خیالات سے اتفاق کرتا ہے اور سنجیدہ کارروائی کئے جانے کے حق میں ہے۔ اس کا اندازہ بہرحال آنے والے وقتوں میں ہوگا۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ