افغانستان صدارتی انتخابات میں اشرف غنی فتحیاب
پانچ ماہ کی تاخیر کے بعد 28 ستمبر 2019 کو منعقدہ افغانستان کے متنازع صدارتی انتخابات کے نتیجے کا اعلان کردیاگیا اور صدارتی عہدے کے امیدوار، موجودہ صدر کو فتحیاب قرار دے دیا گیا۔تاہم ان کے اہم حریف عبداللہ عبداللہ نے ان نتائج کو قبول کرنے سے انکار کردیا ہے۔ انہوں نے انتخابی کمیشن پر دھوکہ دہی کاالزام لگاتے ہوئے دعوی کیا کہ وہی نئی حکومت بنائیں گے۔ ان انتخابات میں رائے دہندگان کی تعداد کم رہی تھی اور جب ابتدائی ووٹ شماری سے ظاہرہوا کہ اشرف غنی آگے ہیں تو ان کے حریفوں نے ووٹ فیصد پر تنازعہ کھڑا کردیاجس کے نتیجے میں 15 فیصد ووٹوں کے آڈٹ کا فیصلہ کیا گیا۔ اشرف غنی نے بہت کم ووٹوں سے فتح حاصل کی تھی۔ ان کو 50 اعشاریہ چھ چار فیصد ووٹ ملے تھے۔
آخری نتائج کے اعلان کے بعد ہندوستان نے اشرف غنی کو دوبارہ صدر منتخب ہونے پر مبارکباد دی ہے۔ حکومت ہند نے افغان عوام کی جمہوری توقعات کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ نئی حکومت اور جمہوری نظام کے ساتھ کام کرنے کے لیے پرعزم ہے تاکہ بیرون ملک اعانت یافتہ دہشت گردی کی لعنت کے خلاف لڑائی اور افغان عوام کی زیرقیادت، ان کی ملکیت اور زیر کنٹرول پائیدار قوی امن ومصالحت کے لیے باہمی اسٹریٹجک شراکت کو استحکام بخشا جاسکے۔
ایسا پہلی بار نہیں ہوا ہے جب افغانستان کے صدارتی انتخابات میں تنازعہ پیدا ہوا ہے۔ کسی حد تک دیکھا جائے تو یہ دوہزار چودہ کے صدارتی انتخابات کی تکرار ہے جن میں اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ دونوں ہی امیدوارتھے۔ 2014 میں نہ صرف ووٹوں کی دوبارہ گنتی کرائی گئی تھی بلکہ انتخابات کے نتائج پر دونوں امیدواروں کے درمیان تنازعہ بھی پیدا ہوگیا تھا اور دونوں میں سے کوئی بھی ان کو قبول کرنے کو تیار نہیں تھا۔ تاہم انتخابات کے بعد ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کے لیے اختیارات کی تقسیم کا فارمولہ تیار کیا گیا اورچیف ایگزیکٹیو کا عہدہ تشکیل دیا گیا جو آئین سے منظور شدہ نہیں تھا۔ تاہم اس کو پارلیمان سے منظوری لازمی تھی۔ پارلیمان کا اجلاس ستمبر دوہزار اٹھارہ میں چار سال کی تاخیر کے بعد منعقد کیا جاسکاتھا۔ چوں کہ حکومت ان دو خیموں میں تقسیم ہوجانے کے وجہ سے معطل رہی تھی اس لیے انتخابی اصلاحات اور قومی متحدہ حکومت کے ایجنڈے کے ایک حصے کے طور پر طے شدہ خصوصی انتخابی اصلاحاتی کمیشن کا قیام بھی عمل میں نہیں آسکا تھا۔
گزشتہ پانچ برس کے دوران افغانستان کی متحدہ حکومت ان دونوں متحارب امیدواروں کے درمیان پوری طرح سے منقسم ہوکر رہ گئی تھی ،نتیجتا دونوں رہنما اپنے اپنے حامیوں کے ساتھ بیوروکریسی کرتے رہے جو زیادہ تر ان کے اپنے نسلی گروپوں پر مشتمل تھے۔ لہذا ان کے ساتھ دیگر چھوٹے چھوٹے نسلی گروپ بھی شامل ہوگئے۔ دونوں حریفوں کے درمیان تلخی کا خمیازہ انتظامیہ کو بھگتنا پڑا اور جو خیمے ان کی دسترس سے باہر رہ گئے تھے ان پر طالبان کے ہمدردوں اور حکومت مخالف دوسرے گروپوں کا قبضہ ہوگیا۔
گزشتہ صدارتی انتخابات کے نتائج کا اعلان ایسے وقت میں کیاگیا ہے جب افغانستان، ٹرمپ انتظامیہ اور طالبان کے درمیان امن معاہدے کی تیاری کررہا ہے۔ اس معاہدے کو حتمی شکل دینے سے قبل سات دن کی جنگ بندی کی سخت آزمائش رکھی گئی ہے جس کے دوران طرفین تشدد میں کمی کی کوششیں کریں گے۔ حتمی امن معاہدے کے تحت افغانستان سے امریکی افواج کی مرحلہ وار واپسی کی جائے گی۔ تاہم اس امن معاہدے کی حقیقی آزمائش اس وقت ہوگی جب طالبان، افغان حکومت کے ساتھ بات چیت شروع کریں گے جس نے اب تک اس میں شمولیت سے انکار کیا ہے۔ اس کے باوجود طالبان اور افغان حکومت کے نمائندوں کے درمیان بات چیت کے کئی غیررسمی دور ہوچکے ہیں جب کہ طالبان نے یہ واضح کردیا ہے کہ یہ رہنما ذاتی حیثیت سے ان مذاکرات میں شامل ہورہے ہیں۔ صدراشرف غنی نے امن کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے امن معاہدے کی تکمیل کے لیے طالبان کی خواہش کو ٹروجن ہارس اسٹریٹجی سے تعبیر کیا ہے۔
اب تک طالبان نے افغان حکومت کی قانونی جواز کو تسلیم نہیں کیا ہے۔ اب جب کہ انتخابات پر تنازعہ اٹھ کھڑا ہوا ہے تو اور بھی غنی حکومت کے قانونی جواز پر سوال اٹھ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ انتخابات کا پورا عمل اور افغانستان میں مغربی حمایت یافتہ جمہوریت بھی سوالات کے دائرے میں آسکتی ہے ۔ واضح ہو کہ اس مغربی حمایت یافتہ جمہوریت کی مخالفت طالبان شروع ہی سے کرتے رہے ہیں۔ ایسے وقت میں جب امن معاہدے کی تکمیل قریب ہے، صدارتی انتخابات کے نتائج پر تنازعہ سے قیام امن عمل متاثر ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ صدراشرف غنی کے حریف کے ذریعے انتخابی نتائج کو چیلنج سے حکومت پر طویل مدتی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں جس سے ملک میں سیاسی عدم استحکام اور تشدد میں اضافہ ہوسکتا ہے اور وہ بھی اس وقت جب طالبان امریکہ کے زیر سایہ معاہدہ امن سے متفق ہوتے جارہے ہیں۔
Comments
Post a Comment