داعش جنوبی ایشیا کے لئے بڑا خطرہ
اقوام متحدہ کی ایک حالیہ رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ (آئی ایس ) اور اس سے متعلق دوسری دہشت گرد تنظیمیں جیسے آئی ایس آئی ایل ، خراسان ، طالبان ، تحریک طالبان پاکستان ، جماعت الاحرار، لشکر اسلامی اور جماعت الدعوۃ سے نہ صرف افغانستان اور جنوبی ایشیا میں اس کے دوسرے پڑوسی ملکوں کو بلکہ پوری دنیا کی امن و سلامتی کو شدید خطرہ لاحق ہے۔ یہ تمام تنظیمیں عالمی برادری کے شدید دباؤ اور کارروائیوں کے باوجود آج بھی نہ صرف سرگرم ہیں بلکہ ان کے حوصلے بھی کافی بلند ہیں ۔ ان کے درمیان عراق اور شام سے لے کر یمن ، افغانستان اور پاکستان تک مستحکم رابطے قائم ہیں ۔ان کی سرگرمیوں سے خطہ کے متعدد ممالک ملبوں کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکے ہیں اوربے پناہ افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں لیکن تباہ کاریاں ہیں کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہیں۔کوئی بھی دہشت گرد اچھا یا برا نہیں ہوتا بلکہ دہشت گرد خواہ وہ کسی بھی رنگ و نسل اور ملک و ملت سے تعلق رکھتا ہو، ہر صورت میں دہشت گرد ہی ہوتا ہے ۔ ہندوستان ہمیشہ ہی اس حقیقت کی جانب دنیا کی توجہ مبذول کراتا رہا ہے لیکن نائین الیون 9/11سے قبل کسی نے بھی سنجیدگی سے اس خطرے کی جانب توجہ نہیں دی تھی ۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پوری دنیا میں جاری دہشت گردی کو کسی نہ کسی ملک کی کسی نہ کسی صورت میں حمایت حاصل رہی ہے ، خواہ وہ افغانستان میں باہم دست و گریباں مجاہدین کی سرپرستی کا معاملہ ہو یا پھر القاعدہ ، دولت اسلامیہ ، داعش ، طالبان ، تحریک طالبان پاکستان ، جماعت الاحرار یا جماعت الدعوۃ کا معاملہ ہو، ان میں سے ہر ایک کو کسی نہ کسی ملک اور ادارے کی سرپرستی حاصل رہی ہے۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ میں اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے کہ آئی ایس نے پاکستان کی تحریک طالبان کے ساتھ ہاتھ ملالیا ہے۔ دونوں نے مل کر آئی ایس آئی ایل-خراسان نام کی ایک عسکری تنظیم بنا لی ہے جو افغانستان اور پاکستان کے سرحدی علاقوں میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ جہاں تک پاکستان کی تحریک طالبان اور حافظ سعید کی جماعت الدعوۃ کا تعلق ہے تو ان دونوں تنظیموں کو پاکستان کی فوج اور وہاں کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کی سرپرستی حاصل رہی ہے۔ یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ تحریک طالبان ، پاکستان کا ترجمان احسان اللہ احسان جو2012 میں ملالہ یوسف زئی پر قاتلانہ حملے اور 2014 میں پشاور کے آرمی پبلک اسکول کے طلبا پر گولی باری کا ملزم ہے اسے گذشتہ ماہ جیل سے فرار ہونے میں مدد کرنے کا الزام فوج اور آئی ایس آئی پر عائد کیا جا رہا ہے۔ گولی باری میں شہید ہوئے بچوں کے والدین کی تنظیم نے اس سلسلہ میں پشاور ہائی کورٹ میں فوج اور آئی ایس آئی کے خلاف عدالت کی حکم عدولی کا معاملہ درج کرایا ہے۔ کچھ اسی طرح کا معاملہ جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کا بھی ہے ۔ حافظ سعید ، ہندوستان میں ممبئی حملے کا ماسٹر مائنڈ ہے جس کے ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں۔ پاکستان نے بھی قبول کیاتھا کہ اس حملے کی سازش پاکستان میں ہی تیار کی گئی تھی۔ ہندوستان نے اس سلسلہ میں پاکستان اور امریکہ کو کئی ڈوزیئر سونپے تھے تاکہ ممبئی حملے کا ارتکاب کرنے والوں کو قرار واقعی سزا دلائی جا سکے اور دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد کا ماحول دوبارہ بحال ہو سکےلیکن پاکستان نے اس معاملہ میں ہمیشہ ہی ٹال مٹول کا رویہ اپنایا۔
دوسری طرف حافظ سعید آزادی کے ساتھ پورے ملک میں گھوم گھوم کر ہندوستان کے خلاف زہر افشانی کرتا رہا۔ عالمی برادری کے کافی دباؤ میں انسداد دہشت گردی طویل قانونی جنگ کے بعد اسے دہشت گردی کی مالی اعانت کا مجرم قراردے دیا ہے ۔حافظ سعید کے خلاف یہ عدالتی کارروائی درحقیقت دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے والی کارروائی ہی نظر آتی ہے۔ اس سے یہ قطعی ظاہر نہیں ہوتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں پاکستان پوری طرح سنجیدہ ہے بلکہ ایسا لگتا ہے کہ اس نے دہشت گردی کو اپنی سرکاری پالیسی کا حصہ بنا رکھا ہے ۔ ہندوستان اور عالمی برادری کی بار بار کی اپیل کے باوجود پاکستان ، ممبئی حملے کے مجرموں کو بچانے کی کوششیں کرتا رہا ہے ۔ اسے نہ تو عالمی برادری کے دباؤ کی کچھ فکر ہے اور نہ پڑوسی ملکوں کے ساتھ اپنے رشتوں کو بہتر بنانے کی خواہش ہے ۔ اس نے سرحد پار پڑوسی ملکوں کے خلاف دہشت گردی کی مدد سے پراکسی وار چھیڑرکھی ہے۔ ایسی حالت میں عالمی برادری پراب یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ دہشت گردی کی آبیاری کرنے والے ممالک کے خلاف بھی سنجیدگی سے کارروائی کرے تاکہ وقتی مفادات کے لئے کوئی بھی ملک یا ایجنسی دہشت گردی کی کسی بھی شکل میں حمایت اور عیانت نہ کرے جب دہشت گردی کے تمام ذرائع اور وسائل منقطع ہو جائیں گے تو نہ صرف خطے سے دہشت گردی کے سیاہ بادل چھٹ جائیں گے بلکہ پوری دنیا میں پائیدار قیام امن کی راہ بھی ہموار ہو جائے گی۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ میں اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے کہ آئی ایس نے پاکستان کی تحریک طالبان کے ساتھ ہاتھ ملالیا ہے۔ دونوں نے مل کر آئی ایس آئی ایل-خراسان نام کی ایک عسکری تنظیم بنا لی ہے جو افغانستان اور پاکستان کے سرحدی علاقوں میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ جہاں تک پاکستان کی تحریک طالبان اور حافظ سعید کی جماعت الدعوۃ کا تعلق ہے تو ان دونوں تنظیموں کو پاکستان کی فوج اور وہاں کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کی سرپرستی حاصل رہی ہے۔ یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ تحریک طالبان ، پاکستان کا ترجمان احسان اللہ احسان جو2012 میں ملالہ یوسف زئی پر قاتلانہ حملے اور 2014 میں پشاور کے آرمی پبلک اسکول کے طلبا پر گولی باری کا ملزم ہے اسے گذشتہ ماہ جیل سے فرار ہونے میں مدد کرنے کا الزام فوج اور آئی ایس آئی پر عائد کیا جا رہا ہے۔ گولی باری میں شہید ہوئے بچوں کے والدین کی تنظیم نے اس سلسلہ میں پشاور ہائی کورٹ میں فوج اور آئی ایس آئی کے خلاف عدالت کی حکم عدولی کا معاملہ درج کرایا ہے۔ کچھ اسی طرح کا معاملہ جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کا بھی ہے ۔ حافظ سعید ، ہندوستان میں ممبئی حملے کا ماسٹر مائنڈ ہے جس کے ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں۔ پاکستان نے بھی قبول کیاتھا کہ اس حملے کی سازش پاکستان میں ہی تیار کی گئی تھی۔ ہندوستان نے اس سلسلہ میں پاکستان اور امریکہ کو کئی ڈوزیئر سونپے تھے تاکہ ممبئی حملے کا ارتکاب کرنے والوں کو قرار واقعی سزا دلائی جا سکے اور دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد کا ماحول دوبارہ بحال ہو سکےلیکن پاکستان نے اس معاملہ میں ہمیشہ ہی ٹال مٹول کا رویہ اپنایا۔
دوسری طرف حافظ سعید آزادی کے ساتھ پورے ملک میں گھوم گھوم کر ہندوستان کے خلاف زہر افشانی کرتا رہا۔ عالمی برادری کے کافی دباؤ میں انسداد دہشت گردی طویل قانونی جنگ کے بعد اسے دہشت گردی کی مالی اعانت کا مجرم قراردے دیا ہے ۔حافظ سعید کے خلاف یہ عدالتی کارروائی درحقیقت دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے والی کارروائی ہی نظر آتی ہے۔ اس سے یہ قطعی ظاہر نہیں ہوتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں پاکستان پوری طرح سنجیدہ ہے بلکہ ایسا لگتا ہے کہ اس نے دہشت گردی کو اپنی سرکاری پالیسی کا حصہ بنا رکھا ہے ۔ ہندوستان اور عالمی برادری کی بار بار کی اپیل کے باوجود پاکستان ، ممبئی حملے کے مجرموں کو بچانے کی کوششیں کرتا رہا ہے ۔ اسے نہ تو عالمی برادری کے دباؤ کی کچھ فکر ہے اور نہ پڑوسی ملکوں کے ساتھ اپنے رشتوں کو بہتر بنانے کی خواہش ہے ۔ اس نے سرحد پار پڑوسی ملکوں کے خلاف دہشت گردی کی مدد سے پراکسی وار چھیڑرکھی ہے۔ ایسی حالت میں عالمی برادری پراب یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ دہشت گردی کی آبیاری کرنے والے ممالک کے خلاف بھی سنجیدگی سے کارروائی کرے تاکہ وقتی مفادات کے لئے کوئی بھی ملک یا ایجنسی دہشت گردی کی کسی بھی شکل میں حمایت اور عیانت نہ کرے جب دہشت گردی کے تمام ذرائع اور وسائل منقطع ہو جائیں گے تو نہ صرف خطے سے دہشت گردی کے سیاہ بادل چھٹ جائیں گے بلکہ پوری دنیا میں پائیدار قیام امن کی راہ بھی ہموار ہو جائے گی۔
Comments
Post a Comment