امریکی وزیر دفاع کے مطابق طالبان کی ‘‘جنگ بندی’’ خطرے سے خالی نہیں


پچھلے دنوں ناٹو کے وزرائے دفاع کی جو میٹنگ برسلز میں ہوئی اس میں امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر نے یہ اطلاع دی کہ طالبان سے ہونے والی بات چیت کا حاصل یہ ہے کہ طالبان اس بات کے لئے راضی ہیں کہ وہ سات دن کے لئے پرتشدد کارروائیوں سے گریز کریں گے۔ اس سے ایک روز قبل افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی نے بھی یہ اشارہ کیاتھا کہ امریکی اور طالبان نمائندوں کے مابین ہونے والی بات چیت میں کچھ ‘‘قابل ذکر’’ پیش رفت ہوئی ہے۔ مسٹر ایسپر نے برسلزمیں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ امریکہ اور طالبان نے اس تجویز پر غور کیا کہ 7دن تک تشدد کی کارروائیوں پر روک لگائی جائے گی۔ ساتھ ہی انہوں نے اس بات کی بھی وضاحت کی کہ امریکہ کا ہمیشہ سے یہی کہنا رہا ہے کہ افغانستان کی صورت حال میں تبدیلی لانے کا اگر واحد حل نہیں تو بہترین طریقہ یہی ہوگا کہ کسی طرح کا سیاسی سمجھوتہ ہو۔ سو اسی جانب کام ہوا ہے اور امید ہے کہ جلد ہی کوئی حل نکلے گا تاہم اس وقت انہوں نے نہیں بتایا تھا کہ ‘‘جنگ بندی’’ کا وقفہ کب سے شروع ہوگا۔ لیکن طالبان کے ایک نمائندے نے یہ بتایا تھا کہ جمعہ یعنی 14فروری سے پرتشدد کارروائیوں پر روک لگ سکتی ہے۔ دوسری طرف امریکی وزیر دفاع نے یہ بھی کہا کہ فی الحال ہمارے خیال سے سات دن کا وقت کافی ہے لیکن اس کے باوجود ہر ہر قدم پر ہمارا موقف یہ رہا ہے کہ ہم جو بھی گریں گے وہ مشروط نوعیت کا ہوگا۔ مسٹر ایسپر نے بار بار اس بات پر زور دیا کہ ہم جو بھی رویہ اختیار کریں گے وہ بہرحال مشروط نوعیت کا ہی ہوگا۔ طالبان نمائندوں اور امریکی حلقوں کے بیانات سے نتیجہ اخذ کرتے ہوئے ممتاز اخبار نیو یارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں یہ کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان سے امریکی فوجیوں کی واپسی کے لئے طالبان سے مشروط نوعیت کی بات چیت کرنے کی منظوری دی ہے۔ 

اس کے بعد گزشتہ سنیچر کی واپسی کے لئے طالبان سے ہونے والی بات چیت بہتر امکانات کا اشارہ تو کر رہی ہے ۔ لیکن یہ بہرحال خطرے سے خالی نہیں ہے۔ سات دن کی ‘‘جنگ بندی’’ کے باقاعدہ اعلان سے قبل انہوں نے یہ کہا کہ وقت کا تقاضہ ہے کہ افغانستان میں امن کو ایک موقع دیا جانا چاہئے اور امن کو موقع دینے کا بہتر طریقہ یہی ہوسکتا ہے کہ سیاسی مذاکرات کا سہارا لیا جائے۔ ان کے اس بیان سے ایک روز قبل ایک اعلیٰ امریکی افسر نے یہ اعلان کیا تھا کہ سمجھوتے کا خاکہ تیار ہوچکا ہے جس کا اعلان جلد ہی کردیا جائے گا۔ میونخ میں وزیر دفاع ایسپر اور وزیر خارجہ مائیک پامپیونے جمعہ کو افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی سے بھی ملاقات کی تھی۔ اشرف غنی اس معاملے میں زیادہ کچھ کہنے سے گریز کرتے رہے ہیں۔ بہر حال کچھ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ امریکی فوجیوں کی واپسی کا سلسلہ شروع ہونے والا ہے۔ 

یہ بھی سننے میں آرہا ہے کہ اس کے بعد دس دن کے اندر اندر آل افغان امن مذاکرات بھی شروع ہوسکتے ہیں جو اسی پلان کا ایک حصہ ہے۔ اگر جوڑ گھٹا کر ان تمام باتوں کا جائزہ لیا جائے تو یہی اندازہ ہوتا ہے کہ کوئی ایسا واضح نقشہ نظر نہیں آتا کہ آنے والے دنوں میں افغانستان میں قطعیت کے ساتھ کیا ہونے والا ہے ۔ اگر امریکی وزیر دفاع اور دیگر امریکی افسران کی باتوں اور اعلانات پر نظر ڈالی جائے تو کوئی بھی وثوق سے کچھ کہنے کو تیار نہیں ہے۔ خود وزیر دفاع کا بار بار یہ کہنا کہ سمجھوتہ تو ہونے جارہا ہے لیکن یہ خطرے سے خالی نہیں ہے۔ یہی ظاہر کرتا ہے کہ امریکہ کو خود بھی یقین نہیں ہے کہ طالبان کے وعدوں پر بھروسہ کیا جاسکتا ہے۔ اسی لئے وزیر دفاع کو بار بار یہ صفائی دینی پڑ رہی ہے کہ جو بھی پیش رفت ہو رہی ہے اس میں خطرے کا امکان بھی موجود ہے اور یہ کہ یہ سب کچھ مشروط نوعیت کا ہے۔ گویا ‘‘پرتشدد کارروائیوں سے پاک’’ سات دن اورامریکی فوجیوں کی واپسی کا معاملہ۔ یہ وہ باتیں ہیں جن پر اب بھی سوالیہ نشان ہیں! خود افغان صدر بھی مطمئن نظر نہیں آتے۔ 

اب ایسے میں انتظار کرنے کے سوا اور کیا بھی کیا جاسکتا ہے! گزشتہ سال تو افغان اور امریکی نمائندوں کے درمیان مذاکرات کا لمبا دور چلا اور سننے میں آیا کہ عنقریب سمجھوتے کا خاکہ بھی سامنے آنا ہے لیکن عین وقت پر سلسلہ ٹوٹ گیا اور صدر ٹرمپ نے بات چیت کے پورے عمل کو منسوخ کردیا تھا۔ وجہ بھی ظاہر تھی، طالبان نے تشدد کا راستہ کبھی ترک ہی نہیں کیا حتیٰ کہ آخری لمحوں تک وہ نہ صرف حملے کرتے رہے بلکہ امریکی فوجیوں کو بھی ہلاک کیا اور صرف اتنا ہی نہیں بلکہ فخر کے ساتھ اپنے ان ‘‘کارناموں’’ کا کریڈٹ بھی لیا۔ 

یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب دنیا کی سب سے بڑی طاقت کے ساتھ طالبان والے اس طرح کاکھیل کھیل رہے ہیں تو پھر امریکی فوجیوں کی واپسی کے بعد ان کا کیا رویہ ہوگا!کیا وہ افغانستان کے مختلف حلقوں کے ساتھ پرامن بات چیت کے لئے تیار ہوں گے ۔ وہ افغانستان کی آئینی حکومت کو تو خاطر میں بھی نہیں لاتے، ایسے میں یہ امید کرنا تو فضول ہے کہ افغانستان میں تکثیریت پر مبنی کوئی سیاسی ڈھانچہ آسانی سے قائم ہوسکتا ہے۔ 



****

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ