پاکستان میں حب الوطنی کے نام پر مظالم
حب الوطنی اور قوم پرستی یہ دونوں ایسی اصطلاحات ہیں جو ہر دور میں موضوع بحث رہی ہیں لیکن مختلف ادوار میں چاہے وہ حکمراں طبقہ ہو یا اس کا مخالف حزب اختلاف ہو یا مذہبی رہنما ہوں یا پھر سماج کے دانشور اپنے اپنے انداز سے اس کی تعریف کرتے رہے ہیں اور اپنے اپنے نظریے کے مطابق اس کو سمجھتے اور سمجھاتے رہے ہیں خصوصاً اس سماج میں اِن کی تعریف اور بھی زیادہ مشکل ہے جہاں اکثریت کسی خاص مذہب کو ماننے والی ہے یا پھر یہ موضوع ہر وقت متنازعہ بنارہتا ہے۔
اسی طرح کا ایک سوال اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے غداری کے الزامات میں ملزموں کی درخواست ضمانت پر سماعت کرتے ہوئے انتظامیہ کے وکیل سے دریافت کیا ۔ آپ کسی کی حب الوطنی کو کس طرح چیلنج کرسکتے ہیں اور اُس پر کیوں کر ملک سے غداری کا الزام لگا سکتے ہیں ملزمین پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما منظور پشتین جن پر خود ملک سے غداری کا الزام لگایا گیا ہے، اُن کی حمایت میں احتجاج کررہے تھے اور یہ احتجاج بھی پرامن تھا۔ دوسری جانب یہ امر بھی مصدقہ ہے کہ مظاہرین پرامن تھے اور انہوں نے نظم ونسق کی کوئی خلاف ورزی بھی نہیں کی تھی اور انہوں نے پورے احتجاج کے دوران اپنے جمہوری فرائض کا لحاظ رکھا تھا اِس کے باوجود ان سے اُن کی حب الوطنی کا ثبوت مانگا جارہا ہے۔
پشتون تحفظ موومنٹ مظاہروں کے دوران پورے پاکستان میں مظاہرین کو گرفتار کیا گیا تھا ان میں کچھ کو ضمانت دی جاچکی ہے اور ابھی تک ہزاروں کی تعداد میں تنظیم کے کارکنان پاکستان کی مختلف جیلوں میں صعوبتوں کی زندگی گزاررہے ہیں ان میں متعدد مظاہرین پر فرار ہونے کے الزامات بھی لگائے گئے ہیں۔ پاکستان میں آج بھی غیرملکی حکمرانوں کے بنائے ہوئے قوانین ہی رائج ہیں اور حکمراں جماعت جب اپنے مخالفین کو ہراساں کرنا چاہتی ہے تو انتظامیہ ان پر غداری جیسے الزامات لگادیتی ہے جو ان کے لئے سب سے آسان راستہ ہوتا ہے جس کے ذریعے وہ اپنے ناقدین کو پست کرتی ہے۔
جسٹس اطہر من اللہ نے حب الوطنی کی جو تعریف پیش کی اُس کا یہاں بیان کرنا ضروری ہے۔ ‘‘کوئی حب الوطنی کی وضاحت کیسے کرسکتا ہے اور کوئی شخص کسی شہری کی حب الوطنی کے بارے میں کس طرح تصدیق کرسکتا ہے۔ انہوں نے وطن سے محبت کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ مادروطن سے پیار اور وابستگی کے ساتھ ساتھ ملک کے دوسرے باشندوں سے رواداری کا اظہار کرتا ہے ہمیں اپنی حب الوطنی پر فخر ہوناچاہئے اور اس کے لئے کسی ثبوت کو پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہے’’۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے یہ الفاظ حب الوطنی کی ایک بہت ہی جامع تعریف پیش کرتے ہیں لیکن پاکستان کے سیاسی رہنماؤں کو اس پر غور کرنا ہوگا کہ ان کا سیاسی نظام اس پر کتنا عمل کرتا ہے اقتدار میں آنے کے بعد اُن کے فیصلوں پر اگر نکتہ چینی کی جاتی ہے تو اسے وہ اپنے وجود کے لئے خطرہ محسوس کرتے ہیں اور خوف زدہ ہوکر مخالفین کو غداری کے الزام میں قید کرنا شروع کردیتے ہیں جو ان کے لئے سب سے آسان ہوتا ہے۔ انصاف کا تقاضہ یہ ہے کہ انہیں اپنے جمہوری حقوق کااستعمال کرنے دیا جانا چاہئے کیونکہ عوام جب حکومت کے کسی فیصلے کی مخالفت کرتے ہیں تو یہ بھی آئین میں دیئے گئے ان کے حقوق کا استعمال ہوتا ہے۔
آج پاکستان میں ایسا سب کچھ حکومت کے ان دعوؤوں کے درمیان ہورہا ہے کہ ملک میں ایک بھی سیاسی قیدی نہیں ہے لیکن پشتون تحفظ موومنٹ کے زیادہ تر گرفتار شدگان سیاسی قیدی ہیں اور یہ سب پرامن احتجاج کررہے تھے اور بتایا یہ جارہا ہے کہ آج کے وزیراعظم عمران خان نے جب 2014 میں اسلام آباد کا محاصرہ کیا تھا اور ایک ماہ سے زیادہ ان کا دھرنا چلا تھا اور اس میں بہت سے مطالبات غیرآئینی تھے لیکن اس تنظیم کے ایک شخص نے کسی پر ایک پتھر بھی نہیں پھینکا۔ اس لئے چیف جسٹس نے اپنے ریمارک میں کہا کہ پاکستان میں آئینی عدالتوں کو اس طرح کے معاملوں کی سماعت کے دوران اپنی آنکھیں کھلی رکھنی چاہئیں اور سماج میں غلط فیصلوں کی اگر تنقید کی جاتی ہے تو ان کے خلاف ملک دشمنی اور دہشت گردی سے متعلق دفعات کا استعمال نہ کیا جائے اور عدالتوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ آئین اور قانون کی بالادستی کو مقدم رکھیں۔
Comments
Post a Comment