چندر یان -2 خلائی سائنس میں ہندوستان کی پیش رفت
ہمارا ملک عالمی خلائی کلب میں چوالیس سال پہلے تبھی داخل ہو گیا تھا جب 19اپریل1975کو اس وقت کے سوویت یونین کی مدد سے ہم نے اپنا پہلا مصنوعی سیارہ آریہ بھٹ خلا میں بھیجا تھا۔ لیکن خلائی ٹیکنالوجی میں عالمی سطح پر ہماری حیثیت 10اگست1979کو تب تسلیم کی گئی جب ہم نے اپنی سرزمین سے اپنا تجرباتی سیارہ روہنی آندھر پردیش کے ستیش دھون خلائی مرکز سری ہری کوٹا سے کامیابی کے ساتھ خلا میں بھیجا۔ اس کے بعد بھارت نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔خلائی تحقیق و جستجوکے علاوہ خلائی ٹیکنالوجی کے دفاعی، مواصلاتی اور تجارتی استعمال میں بھارت نے ایک سے بڑھ کر ایک نئے ریکارڈ قائم کیے ہیں۔اب ہماری نظر کرۂ ارض کے خلائی مداروں سے باہر نکل کر نظامِ شمسی کے دیگر سیاروں کی طرف ہے۔ حالیہ دور میں بھارت نے اپنی خلائی تحقیقات میں چاند اور مریخ سیارے کو خاص اہمیت دی ہے اور اس سمت میں ایک بڑا اہم قدم پیر کے روز تب اٹھے گا جب دوپہر بعد دو بج کر تینتالیس منٹ پر چندر یان ٹو، چاند پر اترنے کے لیے اپنا سفر شروع کرے گا۔
بھارت کے خلائی تحقیق کے پروگراموں کی سب سے بڑی خوبی یہ رہی ہے کہ وہ پوری طرح سے ہر قسم کی سیاست سے الگ رہتے ہیں۔ ہمارے لایق سائنس داں پوری آزادی اور یک سوئی سے اپنے کام میں جُٹے رہے ہیں اور آزادی کے بعد سے اب تک متعدد بڑے کارنامے خلائی سائنس کے مختلف شعبوں میں سر انجام دے چکے ہیں۔
چندریان مشن کے تحت چاند تک پہنچنے کا یہ بھارت کا پہلا سفر نہیں ہے۔ اس سے پہلے 22اکتوبر2008کو پہلا چندر یان، چاند کے مدار میں گردش کے لیے روانہ ہواتھا اورپھر 14نومبر2008کو وہ تاریخی لمحہ آیاجب چندر یان کی تحقیقاتی مشین، چندر یان سے الگ ہو کرپہلے سے طے شدہ طریقے پر چاند کے جنوبی قطبی حصے سے جا ٹکرائی۔
مشین نے اس مقام پر جسے جواہر پوائنٹ کا نام دیا گیا تھا بھارتی پرچم نصب کیا اور پھر یہ پتہ لگا کر پوری دنیا کو چونکا دیا کہ چاند کے سرد حصے پر برف کی شکل میں پانی موجود ہے۔بھارتی خلائی ایجنسی اسرو کے تحت کی گئی اس بھارتی دریافت کو حال ہی میں امریکی خلائی ایجنسی ناسا نے بھی درست مانا ہے۔
پہلے چندر یان مشن کی کامیابی کے بعد 5نومبر2013کو بھارت نے مریخ سیارے پر کمند ڈالنے کے لیے پہلا منگل یان سری ہری کوٹا سے خلا میں بھیجاجو زمینی مدار میں ایک ماہ تک کئی اہم تجربے کرنے کے بعدمریخ کے سفر پر روانہ ہوا اور 24ستمبر2014کو مریخ کے مدار میں داخل ہو کر اس کے چکّر لگانے لگا۔ اس طرح منگل یان کو سری ہری کوٹا سے مریخ تک پہنچنے میں گیارہ مہینے لگے۔ اور اب ہمارے سائنسداں دوسرا منگل یان بھیجنے کی تیاری میں لگے ہوئے ہیں جسے2024میں بھیجا جانا ہے۔ اس دوران ہمارے سائنس دانوں نے ایک ہی بڑے راکٹ کے ذریعے ایک سو سے زیادہ سیارے زمینی مدار میں پہنچانے کا کا رنامہ بھی انجام دیا ہے جو کہ ایک عالمی ریکارڈ ہے۔ بھارت کے لیے فخر کی بات یہ ہے کہ اس میں کئی امریکی اور یوروپی ملکوں کے سیارے بھی شامل تھے۔ اس طرح بھارتی خلائی تحقیق کا شعبہ ملک کے لیے زرِ مبادلہ حاصل کرکے بین الاقوامی خلائی تجارت کے میدان میں بھی داخل ہوگیاہے۔ جلد ہی بھارت خلا میں خود اپنی سرزمین سے انسانی مشن بھیجنے کے منصوبے بنا رہا ہے جس کے بعد چاند پر کسی بھارتی خلاباز کو بھی اتارا جاسکے گا۔
چندریان ٹو کی خاص اہمیت یہ ہے کہ یہ چاند کی سطح پر دھیرے سے اترے گا اور تب بھارت روس، امریکہ اور چین کے بعد چاند پر اپنا خلائی راکٹ اتارنے والا دنیا کا چوتھا ملک بن جائے گا۔یہی نہیں اگر مشن کامیاب رہا، جس کی پوری امیدہے تو بھارت دنیا کا پہلا اور اکیلا ملک ہوگا جو پہلی ہی کوشش میں چاند کے جنوبی قطب کے دوردراز علاقے میں اترنے میں کامیاب ہوگا۔
چندر یان-2 کو پہلے 14جولائی کی رات خلائی سفر پر بھیجا جانا تھا اور اس کے لیے الٹی گنتی بھی شروع ہوگئی تھی لیکن بعض تکنیکی وجوہ کی بنا پر روانگی ملتوی کردی گئی اور اب چندریان ٹوکو خلامیں لے جانے والا راکٹ پیر کو دوپہر بعد پونے تین بجے سے کچھ پہلے داغا جائے گا۔اگر سب کچھ ٹھیک رہا تو چندریان ٹوستمبر کے پہلے ہفتے میں چاند کے مدار میں پہنچنے کے بعد اس کی سطح پر اتر جائے گاجو بھارت کی خلائی تحقیق کی تاریخ کاایک اور اہم واقعہ ہوگا۔
Comments
Post a Comment