موضوع: ہندوستان پچاس کھرب ڈالر کی معیشت بننے کی راہ پر گامزن
وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے 2019 کے بجٹ میں ان تمام طور طریقوں کا ذکر کیا ہے جن کے ذریعہ ملک کی معیشت کو 2024 تک 50 کھرب ڈالر کی بنائی جا سکتی ہے ۔ انہوں نے اگلی دہائی کیلئے پالیسی اقدامات کا اعلان کیا جن کی تمام تر توجہ سرمایہ کاری اور معاشی ترقی پر ہوگی۔ ان پالیسی اقدامات میں تمام بنیادی ڈھانچوں کو مضبوط بنانا، ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچہ کے ذریعہ معاشی شمولیت کو فروغ دینا، خواتین اور بچوں کو اچھی صحت فراہم کرنا ، پانی کے انتظام کو بہتر بنانا اور بحری معیشت پر توجہ مرکوز کرنا، خلائی پروگرام کو مضبوط بنانا،اناج اور دالوں کی پیدوار میں خود کفالت حاصل کرنا اور میک ان انڈیا اور آیوشمان بھارت پرگراموں کو مزید مستحکم کرنا شامل ہیں۔ اس سلسلہ میں وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ اس عمل میں ہر ہندوستانی شریک ہوگا۔
معاشی ترقی کیلئے مودی حکومت کی اس وقت ساری توجہ سرمایہ کاری کے فروغ پر ہے۔ یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ اگر سرمایہ کاروں کو اس بات کا اعتماد ہو کہ ملک کی معیشت میں استحکام ہے تو وہ سرمایہ کاری کیلئے آگے قدم بڑھائیں گے ۔ کسی بھی ملک میں معاشی استحکام سرمایہ کاری کیلئے نہایت ضروری ہوتا ہے ۔ اس لئے معاشی استحکام کے بارے میں ہندوستان کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ معاشی ترقی کیلئے محصول کی ادائیگی ایک طاقتور ذریعہ ہے۔ ٹیکسیشن کے محاذ پر اگر دیکھا جائے تو کارپوریٹ ٹیکس کو معقول بنانا ایک اہم قدم ہے۔ بجٹ میں ان تمام کمپنیوں کے لئے جن کا کاروبار 400 کروڑ روپئے کاہے ، کارپوریٹ ٹیکس میں کمی کر کے 25 فیصد کر دیا گیا ہے۔ جہاں تک جی ایس ٹی کا تعلق ہے تو ریٹرن داخل کرنے کےعمل کو اور آسان بنایا جانا چاہئے تاکہ زیادہ سے زیادہ ریوینیوحاصل ہو سکے ۔
زراعت کے شعبہ میں موجود بحران کو حل کرنے کیلئے ملک کو پالیسیاں مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔ ملک میں آج بھی فصلوں کو بارش کے پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر بارش اچھی ہوئی تو فصلیں بھی اچھی ہونگی اور اگر بارش نے ساتھ نہیں دیا تو کسانوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وہ قرض لے کر بیج اور کھاد لاتے ہیں اور اگر فصل نہ ہوئی تو ان کا قرض ادا کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اور قرض کے بوجھ تلے دبے کسان کوئی بھی قدم اٹھا سکتے ہیں ۔ اسلئے زراعت کے شعبے کیلئے مختص مجموعی فنڈ کو فوری طور پر بڑھانے کی ضرورت ہے۔ ملک کی معاشی ترقی کیلئے زرعی شعبہ کی ترقی کافی اہمیت کی حامل ہے۔ جہاں تک سماجی بہبود کی بات ہے تو اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ جو بھی پالیسیاں وضع کی جائیں ان میں تعلیم اور صحت پر زیادہ توجہ دی جائے کیونکہ سماج تعلیم یافتہ اور صحت مند ہوگا تو وہ معاشی ترقی میں کافی مددگار ثابت ہوگا۔ وزیر خزانہ نے ماہرین کی ایک کمیٹی تشکیل دینے کا بھی اعلان کیا ہے جو اس بات کا پتہ لگائے گی کہ گذشتہ 15 برسوں کے دوران بجٹ میں عورتوں اور مردوں کیلئے کتنے فنڈ مختص کئے گئے ۔ اس پالیسی کے اعلان سے ثابت ہوتا ہے کہ مودی حکومت سب کی ترقی چاہتی ہے۔ وہ نہیں چاہتی کہ ترقی کی دوڑ میں کوئی پیچھے رہ جائے۔
مرکزی حکومت ملک کے دور دراز علاقوں کو بھی سڑکوں کے ذریعے جوڑنے کی پوری کوشش کر رہی ہے تاکہ غریب طبقہ بھی اس سہولت سے فیض یاب ہو سکے اور سڑکوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے اسے جو پریشانیاں ہوتی ہیں وہ دور ہو سکیں ۔ حکومت نے اجولا پروگرام کے تحت غریب لوگوں کو گیس کنکشن فراہم کیا ہے۔ اس سے خواتین کو کافی آرام ملا ہے۔ غریب عورتوں کے تئیں مودی حکومت کا یہ ایک اہم قدم ہے۔ دوسری جانب اودےپروگرام کے تحت سو فیصد گھرانوں کو بجلی مہیا کرانے کا کام زور و شور سے جاری ہے۔
شہری ہوا بازی سمیت اہم شعبوں میں غیر ملکی راست سرمایہ کاری سے بھی معاشی ترقی میں مدد ملے گی۔ جہاں تک تجارت کے شعبے کا تعلق ہے تو بجٹ میں کسٹمس ڈیوٹی میں بعض اضافوں کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس وقت امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی جنگ تیز ہو گئی ہے۔اس لئے ہندوستان کو اپنی تجارتی پالیسی کو بڑی احتیاط اور سمجھداری کے ساتھ وضع کرنے کی ضرورت ہے۔ ہندوستان اس وقت 20 اعشاریہ آٹھ سات کھرب ڈالر کی معیشت کی ہے۔ اس لئے اگر ہمیں 2024 تک پچاس کھرب ڈالر کی معیشت بننا ہے تو ہمیں سالانہ دس فیصد سے زیادہ کی شرح ترقی حاصل کرنی ہوگی۔
Comments
Post a Comment