موضوع: عمران-ٹرمپ ملاقات سے قبل پاکستان میں ہر طرف قیاس آرائیاں ، کنفیوژن اور سنسر شپ

کل سوموار کو وہائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کے درمیان کیا اور کس نوعیت کی با تچیت ہوئی، اس کی تفصیل تو بعد ہی میں سامنے آئے گی، لیکن اس سے قبل پاکستان میں پریس سنسرشپ اور دانشوروں، تجزیہ کاروں اور تھنک ٹینک وغیرہ کو بلیک لسٹ میں شامل کرنے اور ان کی کردار کشی کرنے کا سلسلہ جاری رہا۔ اتفاق سے عین اسی وقت پاکستان کے شمال مغربی علاقے میں ایک چیک پوائنٹ اور اس کے بعد ایک اسپتال پر بھی خودکش حملہ ہوا، جس کے نتیجے میں 9 افراد ہلاک ہوئے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ حملہ پاکستانی طالبان نے کیا تھا۔ حملے سے ایک روز قبل صوبۂ خیبر پختون خوا کے ان قبائلی اضلاع میں پہلی بار انتخابات ہوئے تھے، جنہیں حال ہی میں اس صوبے میں ضم کیا گیا ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں 6 پولیس مین بھی شامل ہیں، جبکہ 40 افراد زخمی ہوئے، جن میں سے کچھ کی حالت انتہائی نازک بتائی جاتی ہے۔ زخمیوں کو جس اسپتال میں داخل کرایا گیا وہیں ایک نقاب پوش خاتون پہلے ہی سے موجود تھی، جس نے خودکش بم سے حملہ کیا۔ یہ دونوں واقعات ڈیرا اسماعیل خان ضلع میں پیش آئے۔ خاتون بمبار کے ہاتھوں 4 پولیس والے اور تین سویلین ہلاک ہوئے۔ پاکستانی فوج نے بڑے دعوے کئے تھے کہ کئی آپریشن شروع کر کے اس نے ان دہشت گردوں کی کمر توڑ دی ہے، جو اندرون پاکستان حملے کر تے تھے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اب بھی گھات لگاکرپاکستانی طالبان والے حملے کرتے ہی رہتے ہیں اور پولیس اہلکاروں اور سیکورٹی والوں کو بطور خاص نشانہ بناتے ہیں۔ بہر حال اسٹیبلشمنٹ کے دعووں کے باوجود اندرون پاکستان ہونے والے حملے بھی رکے نہیں ہیں، لیکن اس طرح کے واقعات پاکستان کے لیے کوئی نئی بات نہیں ہیں اور یہ خبر بھی لوگوں کی توجہ اپنی جانب کچھ زیادہ مبذول نہ کراسکی کیونکہ ہر طرف عمران خان کے دورۂ امریکہ اور ٹرمپ سے ان کی مجوزہ ملاقات کا چرچہ تھا۔ حکومت نواز حلقوں کی طرف سے یہ تاثر دیا گیا کہ یہ ملاقات پاک امریکہ تعلقات کا ایک نیا باب وا کرے گی۔ بہر حال جیسا کہ پہلے کہا گیا کہ تفصیلات تو بعد ہی میں سامنے آئیں گی اور اسی وقت یہ اندازہ کیا جاسکے گا کہ عمران خان کتنے کامیاب یا ناکام ہوکر امریکہ سے پاکستان واپس گئے۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ گفتگو کے خاص موضوع افغانستان میں قیام امن دہشت گردی کی روک تھام اور پاکستان کو ملنے والی فوجی امداد جیسے معاملات ہوں گے۔ امریکہ کے جانکار حلقوں کا کہنا ہے کہ امریکہ اس بات پر زور دے گا کہ پاکستان ان گروپوں کے خلاف انتہائی سخت کارروائی کرے جو پاکستان کی زمین کو دہشت گردی کیلئے استعمال کرتے رہے ہیں، لیکن عمران خان کے دورے سے قبل اور اس دورے کے درمیان میڈیا تجزیہ کاروں اور امریکہ میں مقیم پاکستان کے ان تجزیہ کاروں، تھنک ٹینک سے وابستہ لوگوں، پاکستانی فوج کی تنقید کرنے والوں اور ان غیر ملکی تجزیہ کاروں کی تحریروں پر بھی پورے طور پر نہ صرف پابندی لگائی گئی، بلکہ چن چن کر سب کو بلیک لسٹ بھی کیا گیا۔ عمران خان کے دورے سے قبل ناول نگار اور سماجی تجزیہ کار محمد حنیف نے امریکہ کے معتبر اخبار نیویاک ٹائمز میں ایک تبصرہ لکھا، جسے پاکستان میں سنسر کردیا گیا۔ اس کا عنوان تھا‘‘ عمران خان کا نیا پاکستان بھی بالکل پرانے پاکستان جیسا ہے’’۔ تبصرے کے مطابق، لگتا ہے کہ یہ ملک اب بھی ڈکٹیٹر شپ سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ عمران خان کی حکومت نے انتقامی کارروائیوں کا ایک جال بچھا رکھا ہے۔ غیر ملکی امداد کے تعلق سے وہ بڑی خود داری اور غیرت کی باتیں کیا کرتے تھے، لیکن اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد پہلا کام انھوں نے یہ کیا کہ عرب شہزادوں کے گرد آسان قرضوں کےلئے چکر لگانے لگے اور یہ بات تو ہر کسی کو معلوم ہے کہ عوامی جلسوں تک میں وہ کہا کرتے تھے کہ عالمی اداروں کے پاس کاسۂ گدائی لے کر جانے کے مقابلے وہ خود کشی کرنا پسند کریں گے، لیکن لوگوں نے دیکھا کہ عالمی مالیابی فنڈ سے 6 بلین ڈالر کے پیکچ کے لئے وہ اس کی تمام شرطیں ماننے پر مجبو رہوئیے، جس کے باعث پاکستان کے عام لوگوں پر ناقابل برداشت حد تک ٹیکس کا بوجھ بڑھ رہا ہے۔ صرف ایک سال کے عرصے میں پاکستان کی حالت یہ ہوگئی ہے کہ عمران خان کے بہت سے حامی بھی یہ کہنے لگے ہیں کہ انھوں نے نئے پاکستان کےلئے کیا خواب دکھائے تھے اور کیا کچھ سامنے آنے لگا ہے۔ اپوزیشن کے خلاف انتقامی کارروائیاں سخت قسم کی سنسر شپ اور ہر معاملے میں فوج سے اپنی دوستی نبھانے کے باعث عمران خان کی پوزیشن مضحکہ خیز ہوکر رہ گئی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ