ٹرمپ کا دعوی ناقابلِ یقین اور تکلیف دہ
وزیراعظم پاکستان عمران خان کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ٹرمپ نے وزیراعظم نریندر مودی کے بارے میں جو بات کہی وہ نہ صرف ناقابل یقین تھی بلکہ تکلیف دہ بھی تھی کیونکہ ہندوستان اور ہندوستانی عوام کے لئے یہ ایک انتہائی حساس معاملہ ہے۔ کشمیر کے تعلق سے انہوں نے یہ کہا کہ جی۔20 کانفرنس کے موقع پر جاپان میں جب وزیراعظم مودی سے ان کی بات چیت ہوئی تھی تو انہوں نے ان سے کہا تھا کہ وہ کشمیر کے معاملے میں ثالثی کا رول انجام دیں۔ یہ ایک ایسا بیان تھا جس کا ہندوستان میں تو کیا خود امریکہ میں بھی کسی کو یقین نہ آیا ہوگا کیونکہ دہائیوں سے ہندوستان کا یہ اٹل موقف رہا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جو بھی متنازعہ معاملات ہوں گے، وہ دونوں ملک باہمی گفت و شنید کے ذریعہ سلجھائیں گے۔ نہ تو اس میں کسی تیسرے فریق کی ثالثی قابل قبول ہوگی اور نہ ہی کسی کی مداخلت۔ ایسے میں باہمی معاملات کو بین الاقوامی پلیٹ فارم پر اٹھانے سے بھی گریز کیا جائے گا اور یہ صرف ہندوستان کا اٹل موقف ہی نہیں ہے بلکہ 1972 میں جو شملہ معاہدہ ہوا تھا، اس میں یہ بات واضح طور پر درج ہے کہ باہمی معاملات بشمول کشمیر باہمی بات چیت کے ذریعہ ہی نمٹانے کی کوشش کی جائے گی۔ یہ معاہدہ اس وقت کی ہندوستان کی وزیراعظم اندرا گاندھی اور پاکستان کے سربراہ حکومت ذوالفقار علی بھٹو کے درمیان ہوا تھا۔ صرف شملہ معاہدہ ہی نہیں بلکہ 1999 میں لاہور اعلامیہ بھی جاری ہوا تھا جس پر وزرائے اعظم اٹل بہاری واجپئی اور نواز شریف کے دستخط تھے۔ دراصل پاکستان کا سیاسی ڈھانچہ کچھ ایسا ہے کہ سیویلین حکمرانوں کی جانب سے ہند۔پاک رشتوں کو سدھارنے کی ہر کوشش کو فوجی ایسٹیبلشمنٹ خاک میں ملانے کی کوشش کرتا رہا ہے ۔ لہذا ان دونوں معاہدوں کی دھجیاں اڑائی گئیں۔ دہشت گردی کو فوج نے اپنی حکمت عملی کا ایک خاص حصہ بنایا جس کے باعث ہند۔ پاک تعلقات ہمیشہ کشیدہ رہے لیکن ہندوستان اپنے اس موقف پر ہمیشہ قائم رہا کہ کشمیر کے سوال پر کسی بھی تیسرے فریق کی مداخلت یا ثالثی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ہندوستان کے اس موقف سے پوری دنیا واقف ہے اور سب جانتے ہیں کہ ہندوستان اپنے اس موقف پر کبھی کوئی سمجھوتہ نہیں کرسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ خود امریکہ کے متعدد سینئر سیاست دانوں اور قانون سازوں نے مسٹر ٹرمپ کے اس بیان پر حیرت ظاہر کی ہے بلکہ ان کی تنقید بھی کی ہے کہ انہوں نے سفارتی اور سیاسی آداب کا خیال رکھے بغیر اس قسم کی بات کہہ دی۔ ظاہر ہے کہ ہندوستان ایک فعال جمہوریت ہے لہذا اس قسم کے بیان پر یہاں کے سیاسی حلقوں میں بھی سوال اٹھائے گئے۔ لیکن قابل ذکر بات یہ ہے کہ یہاں کسی نے اس بات کا یقین نہیں کیا کہ وزیراعظم مودی نے ایسی کوئی بات کہی ہوگی۔ سب سے اہم بات یہ ہوئی کہ وزارت خارجہ کے ترجمان نے ٹرمپ کے بیان کے بعد بغیر تاخیر کے یہ وضاحت پیش کی کہ وزیراعظم مودی نے قطعی ایسی کوئی بات نہیں کہی تھی جو ہندوستان کے بنیادی موقف سے متصادم ہو۔ بعد ازاں وزیر خارجہ نے بھی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے قانون سازوں کو یہ یقین دہانی کرائی کہ حکومت ہند کا موقف اٹل ہے اور وزیراعظم نے ایسی کوئی بات نہیں کہی تھی۔
Comments
Post a Comment