5ٹریلین معیشت کی جانب ہندوستان کے بڑھتے قدم


نریندر مودی حکومت نے اپنی دوسری مدت میں 2025 تک ہندوستان کی معیشت کو مزید ترقی دے کر پانچ ٹریلین ڈالر تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے اپنی بجٹ تقریر میں کہا تھا کہ ہندوستان کی معیشت اس سال تین ٹریلین ڈالر کی ہوجائے گی اور 2025تک ہم پانچ ٹریلین ڈالر کی معیشت بن جائیں گے۔

ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ ہندوستان اقتصادی ترقی کی راہ پر جس تیزی سے گامزن ہے اسے دیکھتے ہوئے یہ ہدف حاصل کرنا مشکل نہیں ہے۔ماضی میں امریکہ اور چین سمیت کئی ممالک بہت کم وقفے میں یہ ہدف حاصل کرچکے ہیں۔امریکہ نے پانچ ٹریلین ڈالر کی معیشت کا ہدف نو سال میں‘ جاپان نے آٹھ سال میں اور چین نے صرف تین سال میں حاصل کرلیا تھا۔ایسے میں ہندوستان پانچ سال میں یہ ہدف حاصل کیوں نہیں کرسکتا۔ ہندوستان اس وقت دنیا کی سب سے تیز ترین معیشت ہے اور کچھ عرصہ کے لئے تو یہ چین کو بھی پیچھے چھوڑ چکا ہے۔2016-17میں ہندوستان کی معیشت میں جتنا اضافہ ہے وہ دنیا کے 158ملکوں کے مجموعی جی ڈی پی سے زیادہ ہے۔ پانچ ٹریلین ڈالر کی معیشت بنتے ہی ہندوستان جرمنی کو پیچھے چھوڑ تے ہوئے دنیا کی چوتھی سب سے بڑی معیشت بن جائے گا۔ اس وقت امریکہ‘ چین اور جاپان بالترتیب دنیا کی پہلی‘ دوسری اور تیسری سب سے بڑی معیشتیں ہیں۔

پانچ ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانے کے لئے حکومت نے ان شعبوں کا انتخاب کرلیا ہے جن میں وسائل لگائے جائیں گے‘ پالیسیاں اور قوانین بدلے جائیں گے اور موجودہ ضابطوں میں ترامیم کی جائیں گی۔حکومت نے اس ہدف کو حاصل کرنے کے لئے اقدامات شرو ع کردئے ہیں۔ اس کے تحت ہر سال 20لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری حاصل کرنے کا نشانہ مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ حکومت نے تمام پروجیکٹوں کو مقررہ وقت پر پورا کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔اور اس کی نگرانی کے لئے ایک خصوصی ٹاسک فورس قائم کی جائے گی۔

ماہرین اقتصادیات کہتے ہیں کہ اگر مارکیٹ میں سرمایہ کاری میں حسب توقع اضافہ ہوا اور تمام پروجیکٹ وقت پر پورے ہوئے تو ملک کی معیشت میں مزید تیزی یقینی ہے اور پانچ ٹریلین ڈالر کی معیشت کا ہدف حاصل کرنا آسان ہوجائے گا۔ حکومت کے چیف اکنامک ایڈوائزر کرشنا مورتی سبرامنیم کا خیال ہے کہ 2025 تک ہندوستان کو پانچ ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانے کے لئے صرف اس امر کو یقینی بنانا ہوگا کہ ملک میں اقتصادی ترقی کی شرح آٹھ فیصد رہے۔ ماہر معاشیات سبرامنیم کے مطابق یہ ممکن ہے کیوں کہ اس وقت ہندوستان میں جو سیاسی استحکام ہے وہ غیر معمولی ہے اور کسی بھی ملک میں اقتصادی ترقی میں اضافہ کرنے میں سیاسی استحکام کا بہت اہم رول ہوتا ہے۔

ماہر اقتصادیا ت اور سینٹر فار ڈیجیٹل اکنامی پالیسی ریسرچ کے صدر جے جیت بھٹاچاریہ بھی ہندوستان کو 2025 تک پانچ ٹریلین ڈالر کی معیشت بننے کے تئیں کافی پرامید ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس ہدف کو حاصل کرنے کیلئے حکومت نے موجودہ بجٹ میں کئی اقدامات کئے ہیں۔اس میں سبھی کے لئے کچھ نہ کچھ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس ہدف کو حاصل کرنے کے لئے سب کو بااختیار بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ حکومت اس سلسلے میں انت ادے پروگرام پر پوری توجہ دے رہی ہے اور اس کے تحت کئی محاذوں پر ایک ساتھ قدم اٹھائے جائیں گے۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی پورے اعتماد کے ساتھ کہا ہے کہ پانچ ٹریلین ڈالر کی معیشت کا ہدف حاصل کرنا کچھ مشکل نہیں ہے۔ انہوں نے البتہ اس کے لئے منفی سوچ اور مایوسی سے بچنے کا مشورہ دیا ہے۔ انہوں نے پچھلے دنوں اپنی ایک تقریر میں معیشت کی مثال کیک سے دیتے ہوئے کہا کہ کیک کا سائز اہم ہوتا ہے۔ کیک کا سائز جتنا بڑا ہوگا لوگوں کو اتنا ہی زیادہ حصہ ملے گا۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ حکومت نے اسی لئے ہندوستان کی معیشت کو پانچ ٹریلین ڈالر کا بنانے کا ہدف رکھا ہے۔ معیشت کا سائز جتنا بڑا ہوگا ملک کے لئے اتنی ہی زیادہ خوشحالی کا سبب بنے گا۔

دراصل جن ملکوں نے ترقی پذیر سے ترقی یافتہ ہونے کی جانب چھلانگ لگائی ہے وہ فی کس آمدنی کی بنیاد پر لگائی ہے۔ ہندوستان بھی ایسا کرسکتا ہے۔ جب فی کس آمدنی میں اضافہ ہوگا تو لوگوں کے کام کرنے کی صلاحیت بھی بڑھے گی۔ اس سے مانگ میں بھی اضافہ ہوگا اور مانگ کو پورا کرنے کے لئے پیداوار میں اضافہ کرنا اور خدمات میں توسیع کرنی ہوگی۔ ان سب سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے او ر فی کس آمدنی میں اضافہ ہونے سے بچت میں بھی اضافہ ہوگا۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے اسی اقتصادی منطق کو ملحوظ رکھتے ہوئے کہا ہے کہ پانچ ٹریلین ڈالر کی معیشت کے ہدف کو حاصل کرنے کے طریقہ کار پر تو سوالات کئے جاسکتے ہیں لیکن اس ہدف پر سوال کرنا مایوسی کی علامت ہے۔اور اس مایوسی سے بچنے کی ضرورت ہے۔

ہندوستان نے ماضی میں ترقی کی جو منزلیں طے کی ہیں اور نئے نئے سیاروں پر کمندیں ڈالنے میں جس طرح کامیابی حاصل کی ہے اس کے مدنظر پانچ ٹریلین ڈالر کی معیشت کا ہدف حاصل کرنا کوئی مشکل نہیں ہے۔ اور اسی لئے وزیر خزانہ نرملاسیتارمن نے اپنی بجٹ تقریر میں پورے یقین کے ساتھ کہا تھاکہ”ہمیں اپنے شہریوں پر اعتماد ہے اور ان کے عزم اور ہمت او رآگے بڑھنے کے جذبے پر بھی۔ مودی حکومت کی قیادت میں ہم اس ہدف کو ضرو ر حاصل کریں گے۔“

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ