موضوع: برصغیر میں حالیہ دنوں کے کچھ خوشگوار واقعات

بدقسمتی سے ہند-پاک رشتوں میں اکثر کشیدگی کا ماحول قائم رہتا ہے۔ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی ہندوستان کے تعلق سے ایک خاص حکمت عملی کی وجہ سے تمام کوششوں کے باوجود صورتحال بدل نہیں پاتی۔ اس بات سے سبھی واقف ہیں اور یہ دائمی حقیقت بھی ہے کہ دو پڑوسیوں کا اس طرح ایک دوسرے سے ہمیشہ دست و گریباں رہنا، دونوں میں سے کسی کے حق میں نہیں ہوتا۔ اس سے صرف نقصان ہی پہنچتا ہے، اس کے برعکس بہتر تعلقات کا فروغ پانا، نہ صرف دونوں کی سیکورٹی کے اعتبار سے استحکام عطا کرتا ہے، بلکہ اقتصادی طور پر بھی دونوں کو بہتر مواقع فراہم کرتا ہے۔ تجارتی رابطے بڑھتے ہیں، اقتصادی سرگرمیوں کو بڑھاوا ملتا ہے اور عوام کے درمیان آپسی رابطے بھی تعلقات کو مضبوط بناتے ہیں اور یکجہتی اور یگانگت کا احساس فروغ پاتا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ رشتوں کو سدھارنے کی کوششیں نہیں ہوئیں۔ کوششیں کئی بار ہوئیں، لیکن سرحد پار کی فوجی حکمت عملی کی منفی سوچ نے’ جس کا ایک عنصر دہشت گردی کو فروغ دینا بھی ہے، ان کوششوں کو کبھی کامیابی سے ہمکنار نہیں ہونے دیا۔ بہر حال یہ ایک لمبی داستان ہے، جس کی تفصیل کی یہاں نہ کوئی ضرورت ہے اور نہ گنجائش۔ بہر حال اب اسے ایک المیہ کے سوا اور کیا کہا جاسکتا ہے، ایسے میں بعض چھوٹے چھوٹے واقعات بھی کبھی کبھی قابل ذکر ہوجاتے ہیں، جنہیں نیک شگون کہا جاسکتا ہے۔ مثلاً حالیہ دنوں میں دو واقعات ہند-پاک میں ایسے بھی پیش آئے، جو محدود پیمانے پر ہی سہی قدرے سکون کا باعث بنے۔ مثلاً ایک بات تو یہ ہوئی کہ پاکستان میں واقع کرتار پور صاحب گرودوارے تک بغیر ویزا کے جانے کے لیے ہندوستانی زائرین کی راہ ہموار ہوگئی۔ ہفتہ میں ساتوں دن وہاں بغیر ویزا کے ہندوستانی پاسپورٹ اور OCI کارڈ ہولڈر افراد جاسکتے ہیں۔ عام دنوں میں 5000افراد تک اور خاص موقعوں پر 10000 افراد آسانی سے یہ مسافت طے کرسکتے ہیں۔ یاد رہے کہ کرتار پور صاحب سکھ فرقہ کےلئے خاص طور سے ایک اہم اور مقدس مقام ہے، جہاں بابا گرونانک دیوجی نے اپنی زندگی کے آخری اٹھارہ سال گزارے تھے اور یہ ہندوستان کی سرحد سے چند میل کی دوری پر واقع ہے، جہاں پیدل بھی جایاجاسکتا ہے اور گاڑی سے بھی۔ اس ضمن میں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ نہ صرف روزانہ 5000زائرین تک کے جانے کی پاکستان نے اجازت دی، بلکہ ہندوستان کی یہ شرط بھی مان لی کہ پاکستان سکھ گرودوارہ پر بندھک کمیٹی سے خالصتان نواز رکن کو ہٹادیا جائے، اگرچہ اس ایک واقعہ سے ہند-پاک تعلقات پر کوئی بہت بڑا فرق نہیں پڑنے والا ہے، لیکن ایسے مثبت واقعات دعوت فکر کی ضرورت دیتے ہیں۔ اس سے دونوں ملکوں کے بعض حلقے بطور خاص سکھ فرقہ کے لوگوں نے راحت ضرور محسوس کی ہوگی۔

ایک دوسراواقعہ یہ ہوا کہ بالآخر کئی ماہ بعد پاکستان نے اپنے ایئربیس پر تمام ایئرلائنوں اور مغربی ملکوں تک جانے والے ہوائی جہازوں کی اڑانوں پر عائد کردہ پابندی ہٹالی، جس کے بعد نارمل سروس شروع ہوگئی ہے۔ در اصل یہ پابندی پلوامہ میں سی آر پی ایف ( CRPF (جوانوں کی شہادت اور ہندوستان کی جانب سے پاکستان کے اندر بالاکوٹ میں واقع جیش محمد کے کیمپ پر ہونے والی ہوائی اسٹرائک کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی کشیدگی کے پس منظر میں عائد کی گئی تھی، اس سے جہاں ایئرلائنوں کو نقصان پہنچ رہا تھا، وہیں مسافروں کو بھی کافی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ ایک طرف کرائے کا بوجھ بڑھ گیا تھا تو دوسری طرف سفر میں کئی کئی گھنٹے وقت بھی زیادہ لگ رہا تھا۔ اس سے پاکستان کو بھی مالی طور پر نقصان اٹھانا پڑرہا تھا۔ پاکستانی معیشت جس بحران سے اس وقت گزر رہی ہے، اس میں یہ چھوٹے چھوٹے نقصانات بھی پریشانی کا باعث بن جاتے ہیں۔ جیسا کہ پہلے کہا گیا ہے کہ ان واقعات سے ہند-پاک رشتوں پر کوئی بہت بڑا فرق نہیں پڑنے والا اور کشیدہ ماحول اب بھی برقرار ہے، لیکن ان واقعات سے دعوت فکر ضرور ملتی ہے کہ باہمی مفاد کے معاملات پر اگر کھلے دل اور طویل مدتی اسٹریٹجی کو سامنے رکھ کر صورتحال پر غور کیا جائے تو نئے راستوں کی طرف بھی نظر جاسکتی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ