اعتراف گناہ بد تر از گناہ
پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے امریکہ دورے کے موقع پر دیے گئے ایک بیان میں یہ تسلیم کیا ہے کہ ان کے ملک میں 40 سے زیادہ دہشت گرد تنظیموں کا نیٹ ورک کام کرتا رہا ہے۔عمران خان کے مطابق سابقہ نواز شریف حکومت 15 سال تک یہ بات امریکہ سے چھپاتی رہی، حتیٰ کہ اسے ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے چھپے ہونے کے بارے میں بھی پوری جانکاری تھی۔ عمران نے اس سلسلے میں اپنی حکومت کی کارکردگی اور انسداد دہشت گردی کے لیے اٹھائے جارہے اقدامات کا بھی ذکر کیا، اور دعویٰ کیا کہ ان کی حکومت دہشت گردی سے متعلق معلومات کو امریکہ کے ساتھ شیئر کر رہی ہے. لیکن ان کا یہ بیان 'اعتراف گناہ بد تر از گناہ' کے زمرے میں ہی آئے گا۔ اس لیے کہ انھوں نے اس اعتراف میں اپنی حکومت کے ساتھ ساتھ فوج کو بھی بے گناہ ثابت کرنے اور نواز شریف کی سابقہ حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ نواز شریف حکومت نے بھی انسداد دہشت گردی کے لیے کوئی سنجیدہ قدم کبھی نہیں اٹھایا لیکن اصل بات یہ ہے کہ پاکستان کی کوئی بھی مبینہ جمہوری حکومت اس معاملے میں کبھی کچھ نہیں کر سکی۔اس کا بڑا سبب یہ ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کا نیٹ ورک پاکستانی فوج کے اشارے اور حکمتِ عملی کا حصہ ہے. کسی جمہوری حکومت میں یہ حوصلہ نہیں کہ وہ اس معاملے میں فوج سے ٹکراؤ مول لے سکے۔ عمران حکومت پر تو پاکستانی فوج کا احسان ویسے بھی جگ ظاہر ہے۔ اسی لیے وہ دہشت گردی کو بڑھانے کا الزام نواز شریف کی سابقہ حکومت پر ڈال کر صرف خود کو ہی دودھ کا دھلا ثابت نہیں کر رہے بلکہ اپنی فوج کا بھی حق نمک ادا کر رہے ہیں۔
یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ پاکستان میں دہشت گردوں کی پشت پناہی اور انہیں ٹریننگ دے کر سرحد پار بھیجنے میں فوج کا کلیدی کردار رہا ہے۔ عمران خان کو یہ بات یاد دلانا ضروری ہے کہ نواز شریف نے اپنے دور اقتدار میں دہشت گردی کے نیٹ ورک کا اعتراف کیا تھا اور اس معاملے میں فوج پر بھی انگلی اٹھائی تھی تو عمران خان نے نواز حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور اس کے دعووں سے انکار کیا تھا۔ آج عمران خان اگر خود یہی کام کر رہے ہیں تو اس کا قطعی یہ مطلب نہیں کہ وہ دہشت گردی کے فروغ کے معاملے میں دودھ کے دھلے ہیں۔ بلکہ بات صرف اتنی ہے کہ عالمی دباؤ میں انھیں یہ اعتراف گناہ کرنا پڑ رہا ہے لیکن اس میں بھی وہ چالاکی سے کام لیتے ہوئے اپنی حکومت اور پاکستانی فوج کا دفاع کر رہے ہیں جبکہ فوج کی سرگرم حمایت اور مدد کے بغیر دہشت گرد تنظیموں کا کھیل جاری رہنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ عمران خان یا پاکستان کا کوئی بھی ذمہ دار، دہشت گرد تنظیموں پر سخت کارروائی کے تعلق سے خواہ کتنے ہی دعوے کرے لیکن عالمی برادری پاکستان کے قول و فعل میں تضاد کو خوب اچھی طرح سمجھ چکی ہے۔ دنیا یا امریکہ کو اس بات کا بھی بخوبی اندازہ ہے کہ عمران اس وقت جس سچ کا اعتراف کر رہے ہیں وہ پاکستان کی مجبوری ہے۔ حافظ سعید یا دیگر دہشت گردوں کے خلاف کارروائی بھی پاکستان کی مجبوری ہے اور ایسا نہ کرنے کا خمیازہ اسے عالمی برادری کی طرف سے ممکنہ طور پر عائد کی جانے والی پابندیوں کی شکل میں بھگتنا پڑ سکتا ہے۔ لیکن دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کرنے والے عمران خان کو یہ سمجھ لینا ہوگا کہ اب پاکستان دنیا کو اس مسئلے پر گمراہ نہیں کر سکتا اور نہ ہی پاکستان کی کمزور صفائیاں دینے سے عالمی برادری مطمئن ہو سکتی ہے۔ پاکستانی فوج جس دہشت گردی کے درخت کی آبیاری کرتی رہی ہے اب اسے جڑ سے اکھاڑنے اور پاکستان میں پناہ لیے ہوئے دہشت گرد تنظیموں کے خلاف سخت ترین کارروائی کرنے کی ضرورت ہے بصورت دیگر پاکستان کو اس کی بڑی قیمت ادا کرنی پڑے گی۔ دنیا اب دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن جنگ لڑنے کے موڈ میں ہے۔ پاکستان کے پڑوسی ممالک خصوصاً بھارت سے اس کے خوشگوار رشتوں کا انحصار بھی اسی بات پر ہے کہ وہ انسداد دہشت گردی کے ضمن میں کیا قدم اٹھاتا ہے۔
Comments
Post a Comment