کراس فائر میں مرتے اور روتے بلکتے افغان بچے
ویسے تو افغانستان کوئی چار دہائی سے جنگ ، خانہ جنگی اور خونیں مناظر کا گواہ رہا ہے لیکن 90 کی دہائی کے وسط سے وہاں کی تاریخ نے ایک نئی کروٹ لی جب طالبان اقتدار پر قابض ہوئے۔ انہوں نے شرعی یا اسلامی قوانین کے نفاذ کا دعویٰ کیا جس کا طرۂ امتیاز یہ تھا کہ عورتوں کی تعلیم پر پابندی عائد ہوئی ا ور انہیں گھر کی چہار دیواری سے باہر قدم رکھنے کی اجازت نہیں تھی۔ شرع کے نام پر سر عام لوگوں پر کوڑے برسائے جانے لگے، نہ صرف رقص موسیقی پر قدغن لگی بلکہ ہر طرح کے تفریحی اور کلچرل پروگراموں پر پابندی عائد کی گئی۔ یہ ان کا مذہب اور شرع کا خود ساختہ انٹرپریٹیشن تھا۔ بہر حال 2001 میں نیو یارک اور واشنگٹن میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کے بعد جب امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ چھیڑی اور طالبان نے القاعدہ اور اس کے لیڈر اسامہ بن لادن سے اپنا رشتہ توڑنے سے انکار کیا تو طالبان حکومت بھی اس کی زد میں آگئی اور اس کا اقتدار زمیں بوس ہوگیا۔ امریکہ کی قیادت میں ناٹوفوجیں افغانستان میں تعینات ہوئیں۔ 2014 میں بہر حال غیر ملکی فوجوں کی بڑی تعداد واپس چلی گئی لیکن محدود تعداد میں کچھ فوجی افغان سکیورٹی فورسزکی مدد کے لئے تعینات رہیں۔ یہ فوجیں جارج ڈبلو بش کے زمانے میں آئی تھیں اور صدر اوبامہ کے زمانے میں ان کی واپسی کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔ امید تھی کہ امریکی فوجوں کی واپسی کے بعد طالبان کے حملوں میں کمی آئے گی لیکن ہوا اس کے عین برعکس۔ امریکہ کی قیادت والی فوجوں کی بڑی تعدادکی واپسی کے بعد طالبان کے حملے بے تحاشہ بڑھ گئے۔ طالبان اس بات سے واقف تھے کہ افغان سکیورٹی فورسز ابھی اتنی طاقتور نہیں ہیں کہ وہ ان کے حملوں کی تاب لاسکیں گی لہٰذا ان کے حملے بھی بڑھتے ہی گئے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے افغانستان سے متعلق نئی پالیسی کا اعلان کیا اور ساتھ ہی ساتھ پاکستان کے تئیں سخت رویہ اختیار کرتے ہوئے اس کی امداد روکنے کا سلسلہ بھی شروع کیا اور پاکستان پر الزام لگایا کہ کروڑوں ڈالر کی امداد لینے کے باوجود اس نے امریکہ کو دھوکہ اور فریب دیا۔
پھر اچانک کچھ ایسا ہوا کہ ٹرمپ کی پالیسی نے ایک نئی کروٹ لی اور طالبان سے امن مذاکرات کا سلسلہ دوحہ میں شروع ہوگیا۔ طالبان کا موقف یہ تھا کہ وہ امریکہ سے تو بات چیت کرے گا لیکن ا فغان حکومت سے کوئی سروکار نہیں رکھے گا۔ بہر حال امن مذاکرات کا آج کل خوب چرچہ ہے اور ساتھ ہی ساتھ طالبان کے حملے بھی شباب پر ہیں۔ ان حملوں کی زد میں صرف افغان سکیورٹی فورسز، پولیس اور سرکاری دفاتر اور تنصیبات ہی نہیں ہیں بلکہ سیویلین آبادی، اسکول اور اسکولی بچے بھی بڑی تعداد میں نشانہ بن رہے ہیں۔ چنانچہ ایک ایسے وقت میں جب اس بات کا بہت چرچہ ہے کہ دوحہ میں افغان نمائندے طالبان لیڈروں سے امن سے متعلق بات چیت کے لئے ایک بڑی اہم میٹنگ کے لئے اکٹھا ہوئے تو گزشتہ ہفتے غزنی شہر کے قلب میں ایک اسکول کے قریب ایک بھیانک ٹرک بم دھماکہ ہوا۔ حالیہ دنوں میں ایک دن میں اتنا بھیانک حملہ نہیں ہوا تھا۔ طالبان کا دعویٰ ہے کہ اس حملہ میں اصل نشانہ نیشنل ڈائرکٹوریٹ آف سکیورٹی فیسلٹی تھا لیکن یہ واقعہ افغان رحمتی اسکول کے عین قریب پیش آیا۔ یہ اسکول پرائمری کلاس کے بچوں کا ہے۔ غزنی پبلک ہیلتھ کے ڈائرکٹر نے اس بات کی تصدیق کی کہ 120 افراد سے زیادہ اس حملے میں ہلاک یا زخمی ہوئے جن میں قریب 60 اسکولی بچے تھے اور ان کی عمر یں 11 سال سے کم تھیں۔ کچھ بچوں اور خاتون ٹیچر مہلوکین میں بھی شامل تھے۔
اس سے پہلے بھی ایک حملہ ایک اسکول کے قریب ہوا تھا اور اس میں متعدد بچوں سمیت 100 کے قریب افراد شدید طور پر زخمی ہوئے تھے جن میں سے کچھ جاں بحق بھی ہوئے تھے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ طالبان لیڈروں کی طرف سے یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ سیویلین آبادی اور بچوں کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ رواں بات چیت کے بعد کیا نتیجہ سامنے آئے گا۔ لیکن آزاد تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ افغانستان دنیا کے ان بد ترین اور خطرناک ترین ملکوں میں سے ایک ہے جہاں بچے سب سے زیادہ نشانہ بن رہے ہیں۔
Comments
Post a Comment