موضوع: ہند-امریکہ تجارت: ایک مثبت کوشش
آج کی دنیا میں جب کہ سیاسی مسائل، قوت محنت کی نقل وحرکت وغیرہ کی اضافی اہمیت بڑھ رہی ہے دو باتیں یقین کی ساتھ کہی جاسکتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ باہمی تجارت کرنے والے دو ملکوں کے مابین مفادات کے ٹکراؤ وقتا فوقتا آتے رہیں گے اور گاہے بہ گاہے یہ ٹکراؤ قدرے سنجیدہ صوت بھی اختیار کریں گے۔ لیکن وہیں دوسری بات بھی اسی قدر درست ہے اور وہ یہ ہے کہ تجارت کرنے والے وہ دونوں ملک ایسے کسی ٹکراؤ کو ایک حد سے آگے بڑھنے دینے کا جوکھم مول نہیں لے سکتے، ورنہ اس طرح کا کوئی بھی ٹکراؤ بڑھ کر ناسور کی صورت بھی اختیار کرسکتا ہے۔
کچھ یہی صورت حال حال ہی میں ہند–امریکہ تعلقات میں بھی دیکھی گئی ہے۔ گزشتہ کچھ مہینوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہندوستان میں ٹیرف کے نظام کو نشانہ بنایا اور ان کی شکایت یہ رہی کہ یہاں پر امریکی اشیا پر لگنے والا محصول امریکہ کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔لیکن یہاں سوال یہ نہیں ہے کہ امریکی صدر کی یہ رائے کس قدر حق بہ جانب ہے یا اس میں مبالغہ کا کتنا حصہ ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ دونوں ملکوں نے باہمی گفت وشنید کے ذریعہ اس معاملے کو حل کرنے کے بارے میں رضامندی کا اظہار کیا ہے اور ابھی کچھ عرصہ پہلے جب جاپان کے شہر اوساکا میں جی-20 کی چوٹی کانفرنس ہوئی تو اس موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیراعظم ہند جناب نریندرمودی نے باہمی گفتگو کے لیے بھی وقت نکالا اور یہ طے پایا کہ دونوں ممالک کے اعلی افسران باہمی گفتگو سے تجارت سے وابستہ مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریں گے۔
نئی دہلی میں دونوں ممالک کے افسران کی جو غیررسمی میٹنگ گزشستہ جمعرات کو اور پھر جو رسمی میٹنگ ایک دن بعد، جمعہ کوہوئی، اس کو اسی سلسلے کی ایک کڑی کہا جاسکتا ہے۔ یہ بات درست ہے کہ ان میٹنگوں میں نہ تو سارے مسائل زیر غورلائے جاسکے اور نہ بات چیت کے موضوعات پر مکمل اتفاق رائے قائم ہوا، تاہم یہ سوچنا مضحکہ خیز ہے کہ دو ملکوں کے مابین تجارت سے جڑے سارے سوال ایک دو بار کے مذاکرات میں حل ہوجائیں گے۔تسلی بخش بات یہ ہے کہ ان مذاکرا ت کے دوران دونوں ملکوں کی طرف سے ایک مثبت نظریہ کا مظاہرہ کیا گیا اور یہ طے ہے کہ آگے بھی اسی طرح کی بات چیت جاری رہے گی۔ ساتھ ہی یہ بات بھی کہی جانی چاہیے کہ ٹیرف جیسے سوال اتنے بڑے سوال نہیں ہیں نہ ہوسکتے ہیں کہ دو ملکوں کے مابین تلخی پیدا کرسکیں۔دوسری طرف یہ بات بھی درست ہے کہ باہمی تعلقات کو بہتر سے مزید بہتر بنانے کے لیے امریکہ کو بھی ہندوستان کے سروکاروں کا خیال رکھنا ہوگا۔مثال کے لیے امریکہ اپنی زراعت کی پیداوار پر جو غیرمعمولی سبسڈی دے رہا ہے اس کے سبب ہندوستان سمیت تیسری دنیا کے سبھی ممالک میں امریکہ کی زرعی پیداواروں کے دام مصنوعی طورپر گرے ہیں جس سے ان ملکوں کے کسانوں کو نقصان ہورہا ہے جب کہ وہ پہلے سے ہی غربت اور وسائل کی قلت کے مارے ہوئے ہیں، لیکن امریکہ اور مغربی یوروپ کے ملک عالمی تجارتی تنظیم کے قواعد وضوابط کی خلاف ورزی کرکے بھی اس سبسڈی کو جاری رکھے ہوئے ہیں جسے قابل قبول نہیں کہا جاسکتا۔
اسی طرح امریکی انتظامیہ اپنے یہاں ہندوستانی سفید پوش ملازمین کی آمد کو ایک حد تک کم کرنے کی کوشش کررہا ہے جس کے لیے وہ ایسے اقدامات کررہا ہے جو نامناسب ہی کہے جائیں گے۔کاربن کے اخراج اور خام تیل کی کھپت کے سوال پر امریکہ ماضی میں بھی ہندوستان کے خلاف بعض منفی بیان دے چکا ہے۔ اس ضمن میں یہ بات اپنی جگہ مسلم ہے کہ باہمی تجارت کا سوال باہمی مفاد کاسوال ہوتا ہے اور ایک ملک کے مفادات کی قیمت پر کسی دوسرے ملک کو اپنی تجارت یا صنعت وحرفت کو فروغ دینے کا مستحق نہیں کہا جاسکتا۔ مثال کے طورپر اگر امریکہ امازون جیسی تاجر کمپنیوں کے متعلق ہندوستان کے نئے ضوابط کو لے کر شکایت پیش کررہا ہے تو دوسری طرف یہ بھی سچ ہے کہ ان کمپنیوں کے سبب ہندوستان کے چھوٹے چھوٹے تاجر نقصان اٹھارہے ہیں اور ان کی تعداد کروڑوں میں ہے۔ لہذا بین الاقوامی قانون کی کسی بھی تشریح کی رو سے ہندوستان کو اپنے شہریوں کے حق بہ جانب مفادات کے تحفظ کا حق پہنچتا ہے اور اس سلسلے میں ایک ملک کے لیے ایک اور دوسرے ملک کے لیے دوسرے قانون کی اجازت نہیں دی جاسکتی، بالخصوس جو ملک تیزی سے فروغ پذیر ہو۔ وہ تو اپنے شہریوں کی حفاظت ضرور کرے گا اور اس سلسلے میں امریکہ کے لیے بھی یہی مناسب ہے کہ وہ ہندوستان کے سروکاروں کا خیال رکھے۔
بہرکیف! اب جب کہ دونوں ممالک کے سیاسی قائدین اس مسئلے کو لے کر باہمی کوشش کی ضرورت تسلیم کرتے ہیں اور ان کے افسران باہمی مذاکرات کے عمل میں ملوث ہیں ، یہ امید ضرور کی جانی چاہیے کہ دونوں ملک باہمی تعلقات کو بہتر سے بہتر بنانے کے لیے کوئی کمی نہیں اٹھا رکھیں گے۔
Comments
Post a Comment