امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتے تنازعات اور سفارتی طورپر انہیں حل کرنے کی ضرورت


امریکہ کی جانب سے ایران پر اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کے بعد سے دونوں ملکوں کے درمیان تنازعات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، جنہیں حل کرنے کے لیے بین الاقوامی برادری کی توجہ کی ضرورت ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان تنازعہ دراصل 1979 کے انقلاب ایران کے بعد سے ہی شروع ہوگیا تھا۔ جب امریکہ نواز رضا شاہ پہلوی کو اقتدار سے باہر کرکے اسلامی جمہوریت قائم ہوئی تھی۔ لیکن پچھلے سال جب صدر ڈونل ٹرمپ نے 2015 کے نیوکلیائی معاہدے سے یکطرفہ طور پر امریکہ کو الگ کرکے ایران پر اقتصادی پابندیاں دوبارہ عائد کردیں تو دونوں ملکوں کے درمیان تنازعات میں مزید اضافہ ہوگیا۔ امریکہ نے صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اس نے بعد میں پاسداران انقلاب اور ایران کے رہبراعلی پر بھی پابندیاں عائد کردیں۔

سنہ2015 میں ایران، امریکہ اور یوروپی طاقتوں کے درمیان جو نیوکلیائی معاہدہ ہوا تھا اسے ڈونل ٹرمپ نے کبھی بھی پسند نہیں کیا۔ صدر بننے سے پہلے اپنی انتخابی مہم کے دوران انہوں نے واضح کردیا تھا کہ یہ معاہدہ امریکہ کے حق میں نہیں ہے۔ اور جب وہ صدر منتخب ہوگئے تو انہوں نے ایران کے خلاف کچھ زیادہ جارحانہ پالیسی اختیار کی اور وہی کی جو وہ کرنا چاہتے تھے یعنی امریکہ کو یکطرفہ طور پر اس معاہدے سے الگ کرلیا تاکہ علاقہ میں ایران کی سرگرمیوں پر قدغن لگائی جاسکے۔صدر ٹرمپ کی ایران کے تئیں نئی پالیسی کا مقصد ہے تہران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنا تاکہ وہ واشنگٹن کے ساتھ ایک نیا نیوکلیائی معاہدہ کرنے پر مجبور ہوجائے۔ ایران پر معاشی اور سیاسی پابندیوں کے علاوہ امریکہ نے خلیج میں مزید امریکی فوجیں بھی تعینات کردی ہیں۔

امریکہ کی ان کارروائیوں کے جواب میں ایران نے بھی کچھ ایسی کارروائیاں کیں جس سے دونوں کے درمیان تنازعات میں اضافہ ہوگیا۔ مثلا اس نے معاہدے میں کیے گئے کچھ وعدوں کو توڑکر یورنیم کی افزودگی میں اضافہ کردیا۔ تہران کا کہنا ہے کہ اس نے معاشی فائدوں کے عوض یورنیم افزودگی کی حدبندی قبول کی تھی لیکن امریکہ کے معاہدے سے علاحدہ ہوجانے کے بعد اسے معاشی پریشانیوں کا سامنا ہے۔ایران کے اس اقدام کا تکنیکی طور پریہ مطلب ہوگا کہ اس نے بھی معاہدے سے خود کو علاحدہ کرلیا ہے اسی لیےمعاہدے پر دستخط کرنے والے یوروپی ممالک نے ایران سے اپیل کی ہے کہ وہ معاہدے کا احترام کرے تاکہ اسے ختم ہونے سے بچایا جاسکے۔

حالیہ دنوں میں خلیج کے علاقہ میں کچھ اور بھی ایسے واقعات ہوئے ہیں جنہوں نے تنازعات کو ہوا دی ہے۔ خلیج عمان میں تیل کے ٹینکروں پر حملے، خلیج فارس میں امریکی ڈرون کا مارگرایاجانا، برطانوی فوجوں کا جبرالٹر کے علاقہ میں ایک ایرانی آئل ٹینکر کو اپنے قبضہ میں لینا اور اس کے جواب میں ایران کی برطانیہ کو دھمکی، یہ وہ واقعات ہیں جن کی وجہ سے تنازعات کافی بڑھ گئے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ خدشہ بھی پیدا ہوگیا ہے کہ معاشی پابندیوں سے مجبورہوکر ایران آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی کوشش بھی کرسکتا ہے۔ اس راستے سے تیل سے لدے ہزاروں جہاز گزرتے ہیں جو دنیا کی تیل کی ایک تہائی مانگ کو پوری کرتے ہیں۔ اس لیے اگر اسے بندکردیا گیا یا اس علاقہ میں کوئی خلل پیدا ہوا تو خلیج میں فوجی کارروائی شروع ہوسکتی ہے جو واقعی باعث فکر ہے۔ اس لیےیہی مناسب وقت ہے جب کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے عالمی طاقتوں کو سنجیدگی کے ساتھ سفارتی کوششیں کرنی ہوں گی۔

ہندوستان کی توانائی کی درآمدات زیادہ تر خلیج سے آتی ہیں اس لیے یہ علاقہ ہندوستان کے لیے کافی اہمیت کا حامل ہے۔ آبنائے ہرمز میں اگر کوئی خلل اندازی ہوتی ہے تو اس سے ہائیڈرو کاربن کی درآمدات میں کافی کمی واقع ہوگی جس سے اس کی توانائی کی سیکورٹی پر منفی اثر پڑے گا۔ علاقہ میں موجودہ صورت حال کے پیش نظر ہندوستانی بحریہ نے خلیج عمان میں ہندوستانی جہازوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے دو بحری جہاز آئی این ایس چنئی اور سونینا تعینات کردیا ہے۔ہندوستان کے علاقے کے ملکوں کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں اس لیے علاقہ میں کسی طرح کی بھی فوجی کارروائی اس کے مفادات کے خلاف ہو گی۔ اس لیے اس سے پہلے کہ علاقہ میں جنگ چھڑنے کے بعد عدم استحکام کی صورت حال پیدا ہوجائے اور انسانی جانوں کا اتلاف ہو، امید ہے کہ متصادم پارٹیاں بحران کے حل کے لیے پرامن اور سنجیدہ کوششیں کریں گی۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ