ہند-امریکہ اسٹریٹیجک انرجی پارٹنر شپ

ہندوستان نے اسٹریٹیجک پٹرولیم ذخائر کے انتظام اور اس کے رکھ رکھاؤ کیلئے پچھلے ہفتے امریکہ کیساتھ ایک مفاہمت نامہ پر دستخط کئے۔ اس اقدام کیساتھ ہی نئی دہلی نے توانائی کی سلامتی کی جانب ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ مفاہمت نامہ پر دستخط ہند-امریکہ اسٹریٹیجک انرجی پارٹنر شپ کی دوسری وزارتی میٹنگ کے دوران کئے گئے جس کی پہل اپریل 2018 میں وزیراعظم نریندر مودی اور صدر ڈونل ٹرمپ کی ہدایات پر ہوئی تھی۔

اس طرح کے مفاہمت نامہ پر دستخط کرنے سے سیاسی اور جغرافیائی اتھل پتھل کی صورت میں نہ صرف توانائی کی مسلسل سپلائی کو یقینی بنایا جاسکے گا بلکہ تیل کی قیمتوں کے اچانک بڑھنے یا کم ہونے کی صورت میں ملک کو تحفظ فراہم ہوسکے گا جیسا کہ 2008 میں ہوا تھا۔ آپ کو یاد ہوگا کہ اس سال دنیا کو زبردست مندی کا سامنا تھا جس کی وجہ سے تیل کی مانگ کافی کم ہوگئی تھی جس کے بعد تیل کی قیمتیں کافی گر گئی تھیں۔ ہندوستان امریکہ کے اسٹریٹیجک پٹرولیم ذخائر میں اپنا کچا تیل رکھ کر تیل کا اپنا ذخیرہ بڑھانا چاہتا ہے تاکہ تیل کی سپلائی میں رکاوٹ اور تیل کی بین الاقوامی قیمتوں کی غیریقینی صورتحال جیسے چیلنجوں کا مقابلہ کیا جاسکے۔ اس سلسلہ میں دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت اس وقت آخری مرحلہ میں ہے۔ اس وقت ہندوستان کے پاس پانچ اعشاریہ تین تین ملین ٹن تیل ذخیرہ کرنے کی سہولت ہے۔

اسٹریٹیجک انرجی پارٹنر شپ کے تحت ہندوستان اور امریکہ دونوں ایک دوسرے کی معلومات اور تجربوں سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ دونوں ملکوں نے کاربن ڈائی آکسائیڈ پاور سائیکل پر مبنی بجلی کی پیداوار کے شعبہ میں تحقیق کا اعلان کیا ہے۔

قابل تجدید توانائی اور فاسل ایندھن کے ذرائع سے ہائیڈروجن پیدا کرنے اور توانائی کی پیداوار میں آنے والی لاگت کو کم کرنے کی غرض سے ٹیکنالوجیز کو بہتر بنانے کیلئے ہندوستان اور امریکہ دونوں نے ایک پبلک- پرائیویٹ ہائیڈروجن ٹاسک فورس قائم کیا ہے۔ صاف ستھری توانائی کی سمت اسے ایک اہم قدم سمجھا جارہا ہے لیکن جو بات قابل ذکر ہے وہ یہ ہے کہ دونوں ممالک قابل تجدید توانائی کی پیداوار کی غرض سے ٹیکنالوجی کی ترقی کیلئے ایک دوسرے سے تعاون کیلئے تیار ہیں۔ دونوں ممالک بایو ویسٹ (Bio-Waste) کو بایوگیس میں تبدیل کرکے اس کی معاشی قدر سے بھی فائدہ اٹھانا چاہتےہیں۔

دونوں ممالک 2021 میں مشترکہ طور پر بھارت میں پہلے ڈیکیتھلان (Decathlon) کا اہتمام کریں گے۔ اس پروگرام کے تحت کالج کی سطح کا مقابلہ کرانے کا منصوبہ ہے تاکہ ایسی عمارتوں کی ڈیزائن تیار کرنے اور انہیں تعمیر کرنے کیلئے پیشہ وروں کی ایک نئی نسل تیار کی جاسکے۔ جہاں قابل تجدید توانائی سے بجلی سپلائی کی جاسکے۔

اسٹریٹیجک انرجی پارٹنرشپ کے تحت فریقین تقسیم کے شعبہ کی جدیدکاری میں پہلے سے ہی مصروف ہیں تاکہ لوگوں کو بغیر کسی رکاوٹ کے مسلسل بجلی مل سکے اور انہیں کسی طرح کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ تقسیم کے نظام کی جدیدکاری کے تحت تمام ملک میں اسمارٹ میٹر لگائے جارہے ہیں تاکہ بجلی کی سپلائی کی صحیح طور سے ریڈنگ کی جاسکے اور اسی کے مطابق لوگ اپنا اپنا بل جمع کرسکیں۔

اس کے علاوہ یو ایس اے آئی ڈی (USAID) اور امریکہ کی انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ فائنانس کو آپریشن (International Development Finance Cooperation)چھوٹی اور اوسط درجہ کی صنعتوں کیلئے 25ملین ڈالر کے قرض کی ایک نئی اسکیم تیار کررہی ہیں تاکہ یہ صنعتیں اپنی اپنی عمارت کی چھتوں پر شمسی توانائی کے پینلس (Panels) لگا سکیں اور اس سے بجلی حاصل کرکے مشین چلا سکیں۔ دراصل ہندوستان اور امریکہ کا بنیادی مقصد ہےتوانائی کے شعبہ میں ایک دوسرے کے قومی ترقی کے ویژن کی حمایت کرنا۔ اس نظریہ کا اظہار ہندوستان کے پٹرولیم اور قدرتی گیس کے وزیر دھرمیندر پردھان نے بھی کیا تھا جنہوں نے ہند-امریکہ اسٹریٹیجک انرجی پارٹنر شپ کی دوسری میٹنگ میں اپنے ملک کی نمائندگی کی تھی۔ جناب پردھان کے مطابق توانائی کے شعبہ میں دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری میں فروغ کے علاوہ دونوں ممالک توانائی کی سلامتی پر بھی دھیان دے رہے ہیں۔ نئی دہلی اور واشنگٹن چاہتے ہیں کہ اس سلسلہ میں دونوں ملکوں کے صنعتکار اور اعلیٰ تعلیمی ادارے ایک دوسرے سے رابطہ قائم کرکے ایک دوسرے کی معلومات اور تجربات سے فائدہ اٹھائیں۔

سال 20-2019 کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان ہائیڈروجن کاربن کی تجارت نو اعشاریہ دو ارب ڈالر کی تھی۔ دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی خسارے میں بھی کمی آئی ہے۔ ہندوستان اس وقت چوتھا سب سے بڑا ملک ہے جو امریکہ سے خام تیل خریدرہا ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ سے ایل این جی خریدنے والا وہ پانچواں سب سے بڑا ملک ہے۔ اس حقیقت سے یہ بات صاف ظاہر ہے کہ ہندوستان کے پاس بازار ہے جبکہ امریکہ کے پاس تیل اور گیس کے ذخائر اور جدیدترین ٹیکنالوجی موجود ہے۔ لہٰذا ہند-امریکہ اسٹریٹیجک انرجی پارٹنر شپ دونوں ملکوں کیلئے ہر طرح سے سود مند ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ