عمران کے مستقبل کے بارے میں قیاس آرائیاں لیکن فی الحال کوئی متبادل نہیں


وزیراعظم پاکستان عمران خان نے اپنے اقتدار کا، دو سال سے کچھ زیادہ کا عرصہ کاٹ لیا لیکن اب ہر طرف ان ک مستقبل کے تعلق سے سوال اٹھنے لگے ہیں۔ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ وزیراعظم اور فوجی جنرلوں کی ‘‘مثالی قربت’’ اب دوری میں بدلتی جارہی ہے۔ یہاں اس بات کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ پاکستان میں عام تاثر یہ ہے کہ عمران خان کو سیاسی حلقوں میں منتخب یعنی الیکٹیڈ وزیراعظم نہیں، بلکہ سلیکٹیڈ یعنی کسی کے ذریعہ بحال یا مقرر کیا گیا وزیراعظم کہا جاتا ہے اور انہیں اس عہدے پر بحال کرنے کا کریڈٹ فوجی اسٹیبلشمنٹ اور کسی حد تک عدلیہ کو دیا جاتا ہے۔ بھلے ہی یہ بات طنزیہ انداز میں کہی جاتی ہو لیکن عمران خان کی ایسی امیج بن گئی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ عمران خان بے وجہ فوجی جنرلوں کے منظور نظر بن گئے تھے۔ وہ بہرحال عالمی شہرت کے کرکٹ کھلاڑی تھے۔ پھر ایسے کچھ فلاحی کام بھی کئے تھے، جن سے ان کی ساکھ اور شناخت قائم ہوئی تھی۔ مثلاً جس انداز کا کینسر اسپتال انہوں نے قائم کیا تھا، اس نے ان کی شخصیت کو کافی مقبول بنایا تھا۔ دو دہائی سے زیادہ عرصہ سے وہ سیاست کے دشت کی سیاحی کررہے ہیں۔ اس دوران انہوں نے پاکستان میں بڑھتے ہوئے کرپشن، غیر ممالک میں پوشیدہ طور پر رکھی جانے والی دولت، غیر ملکی قرضوں اور لڑکھڑاتی ہوئی پاکستانی معیشت کے بارے میں بہت کچھ کہا تھا۔ انہوں نے ایک وعدہ یہ بھی کیا تھا کہ اگر وہ اقتدار میں آئیں گے توان تمام شعبوں میں انقلابی تبدیلیاں لائیں گے۔ ان تمام عوامل کے باعث عوام کے بہت بڑے حلقے میں انہیں کافی مقبولیت ملی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ فوج نے انہیں ایک کارآمد سیاست داں سمجھا اور جب سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کی پارٹی سے فوج بہت زیادہ ناراض ہوئی اور عدلیہ کی مدد سے انہیں اقتدار سے محروم کرنے کا بیڑا اٹھالیا تو اس کے لئے عمران خان ایک نعمت غیر مترقبہ ثابت ہوئے۔ نواز شریف کو اقتدار سے محروم کرنے اور سزا دلوانے میں تو فوج کامیاب ہوگئی لیکن آنے والے الیکشن تک ان کی پارٹی کو توجھیلنا ہی تھا، سو نئے انتخابات کا اعلان ہوتے ہی فوجی جنرلوں نے کافی سرگرمی سے تحریک انصاف پارٹی کے حق میں فضا ہموار کرنے کی کوشش شروع کردی۔ عمران خان کی پارٹی ان تمام کوششوں کے باوجود اتنی سیٹیں حاصل نہ کرسکی جنتی کہ امید اس نے کی تھی۔ کیونکہ پاکستان مسلم لیگ (نواز) بہرحال کڑا مقابلہ کررہی تھی۔ بہرحال بعض چھوٹی چھوٹی پارٹیوں کی مدد سے پاکستان تحریک انصاف قیادت میں کولیشن حکومت بن گئی لیکن اس کے بعد کی کہانی بڑی دلچسپ ہے۔ پہلے تو قدم قدم پر یہ تاثر دیا جاتا تھا کہ عمران حکومت اور فوج کے خیالات میں مکمل ہم آہنگی ہے اگر انگریزی محاورے کا سہارا لیا جائے تو یہ کہا جاتا تھا کہ دونوں ایک ہی صفحہ پر ہیں۔ اس لئے پاکستان کا بہت بھلا ہونے والا ہے۔ لیکن رفتہ رفتہ یہ نظر آنے لگا کہ کسی بھی محاذ پر عمران حکومت اپنے وعدے کو پورا کرتی نظر نہیں آتی۔ معیشت کے شعبے میں حالت مزید دگرگوں ہوگئی۔ عمران خاں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اقتدار میں آنے کے چند ماہ بعد ہی غیر ممالک میں چھپاکر رکھی گئی رقم کو واپس لاکر اس سے تمام غیر ملکی قرض ادا کریں گے اور باقی کی رقم سے غریبوں کی حالت سدھاریں گے لیکن اب اس کا کہیں ذکر بھی نہیں ہوتا۔ کرپشن کے خلاف جہاد شروع کرنے کا نعرہ وہ بلند کیا کرتے تھے لیکن اس نعرہ کی حقیقت صرف اس شکل میں سامنے آرہی ہے کہ ان کا نام نہاد جہاد اپوزیشن لیڈروں کو آہنی سلاخوں کے پیچھے بھیجنے تک محدود ہے۔ بطور خاص مسلم لیگ (نواز) کے لیڈروں کو جیلوں میں بند کیا جارہا ہے۔ بہتر طرز حکمرانی دینے کا وعدہ بھی کھوکھلا ثابت ہوا، معیشت کے شعبے میں دوسری ناہمواریوں کے ساتھ ساتھ یہ بھی ہورہا ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کاری کے لئے ماحول مزید ناسازگار ہوتا جارہا ہے۔ عمران خان کے دور اقتدار میں عالمی برادری میں پاکستان کی امیج بہتر ہونے کی بجائے اور خراب ہوگئی۔ خود انہوں نے ہی پارلیمنٹ میں اوسامہ بن لادن کو ‘‘شہید’’ کہا تھا۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے آنے والے وقتوں میں پاکستانی معیشت کے لئے کافی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

مختصر یہ کہ عوامی سطح پر عمران حکومت کے تئیں بیزاری بڑھتی جارہی ہے۔ رہی سہی کسر کورونا کے زمانے میں اس وبا سے نمٹنے کے معاملے میں حکومت کی نااہلی اور لاپرواہی نے پوری کردی۔ بہتر طرز حکمرانی کے وعدے کا ریت کا محل زمیں دوز ہوگیا۔ سیاسی مباحث، سفارتی حلقوں یہاں تک کہ عوامی سطح پر بھی یہ محسوس کیا جانے لگا ہے کہ فوج اب خود عمران خان سے مایوس ہوچکی ہے اور پہلے جہاں حکومت اور فوج کے ہم خیال ہونے کا تاثر دیا جاتا تھا، وہاں اب فوجی حلقے میں یہ سوچا جارہا ہے کہ ایک شخصیت بوجھ بن گئی لہذا اسے کسی صورت منظر سے ہٹادیا جائے تو سب کچھ ٹھیک ہوسکتا ہے۔



ایسا نہیں ہے کہ عمران خان کو اس کی بھنک نہیں ملی ہے۔ 30 جون کو عمران خان نے قومی اسمبلی میں کہا تھا کہ ‘‘ایک شخصیت کو ہٹانے کی بات ہورہی ہے۔ تو اگر ایک شخصیت کو انہوں نے ہٹا بھی دیا تو دوسرے انہیں نہیں بخشیں گے’’۔ یہ تو انہوں نے نہیں بتایا کہ ‘انہوں نے’ اور ‘دوسرے’ سے ان کی کیا مراد ہے لیکن تجزیہ کاروں کا یہی خیال ہے کہ عمران خان کا مطلب واضح ہے۔ وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ اگر فوج انہیں ہٹا بھی دے تو اپوزیشن والے فوج کو نہیں بخشیں گے۔ بہرحال فوج کا جو بھی پلان ہو لیکن اس کے لئے بھی اطمینان کی کوئی بات نہیں ہے کیونکہ عمران حکومت کی ہر ناکامی کو خود فوج کی ناکامی کی شکل میں دیکھا جارہا ہے۔ اپوزیشن کی جہاں تک بات ہے تو اسے عمران حکومت کو گرانے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ حکومت کی ناکامی اور فوج کی موجودہ پریشانی سے فائدہ اپوزیشن ہی کو مل سکتا ہے۔ فوج کی کشمکش یہ ہے کہ وہ عمران خان کو اگر اس مرحلے میں ہٹاتی ہے تو پھر حکومت کس کی بنوائے گی؟ عمران کے ہٹائے جانے کے بعد نہ تو اس کی پارٹی متحد رہ پائے گی اور نہ موجودہ کولیشن! تو کیا اس صورت میں تمام پارٹیوں پر مشتمل ایک مشترکہ قومی حکومت تشکیل دی جائے گی؟ عمران خان کے لئے اس حد تک تو اطمینان کی بات یہ ہے کہ جب تک کوئی نیا انتظام نہیں ہوتا، اس وقت تک وہ وزیراعظم کے عہدے پر قائم رہ سکتے ہیں۔ اپوزیشن خود حکومت کو غیر مستحکم اس لئے نہیں بنانا چاہتی کہ حکومت کی ہر ناکامی فوج کی ناکامی تصور کی جارہی ہے۔ گویا اپوزیشن، فوج کو یہ بتانا چاہتی ہے کہ پردے کے پیچھے سے تم بہت کھیل کھیل چکے اور سیاسی انجینئرنگ کا تماشہ بھی بہت دکھا چکے۔ اب بس کرو بہت ہوچکا!

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ