افغانستان میں مزید کنفیوژن اور سوالات
افغانستان کا معاملہ تہ در تہ اتنا پیچیدہ ہے کہ ایک نہیں کئی سوالات اٹھتے رہتے ہیں جن کے کوئی جواب نہیں ملتے۔ اسی اعتبار سے کنفیوژن بھی پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ ابھی تک سب سے بڑا سوال تو یہی پوچھا جاتا رہا ہے کہ مانا کہ امریکہ اور طالبان کے ساتھ بات چیت بالآخر ایک سمجھوتے پر ختم ہوئی لیکن اصل سوال اپنی جگہ پر ہے کہ اندرون افغانستان طالبان اور افغان حکومت اور دوسرے حصہ داروں کے مابین بات چیت کب اور کیسے شروع ہو!اس ضمن میں سب سے بڑا مسئلہ خود طالبان کے اندر موجود ہے۔ طالبان کی اعلیٰ قیادت جو دوحہ کی بات چیت میں شریک تھی، وہ یہ تو سمجھتی ہے کہ اسے اپنے کچھ سخت گیر رویے ترک کرنے پڑیں گے اور افغانستان کے دوسرے اسٹیک ہولڈرس (Stake holders) سے بھی کچھ نہ کچھ سمجھوتے کرنے پڑیں گے لیکن اس میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ کیا طالبان کے انتہاپسند جنگجو جو افغانستان کے متعدد علاقوں پر قابض ہیں یا جن کا وہاں زبردست دبدبہ ہے اپنی قیادت کو یہ اجازت دیں گے کہ وہ ان کی مرضی کے بغیر ایسا کوئی فیصلہ کرے؟ یہی وجہ ہے کہ طالبان قیادت فی الحال اس سوال کا جواب دینے سے کتراتی رہی ہے۔ وہ اس بات کو اچھی طرح محسوس کرتی ہے کہ اگر انہوں نے ایسا کرنے کی کوشش کی تو اسے اپنے حامیوں اور جنگجوؤں کے غیظ وغضب کا نشانہ بننا پڑسکتا ہےاور اس صورت میں ایک بہت بڑا حلقہ ان سے منحرف ہوجائے گا اور اپنے لئے کوئی اور راہ نکال لے گا جو انتہائی خطرناک شکل اختیار کرسکتی ہیں اور اس طور پر طالبان قیادت بہت کمزور پڑجائے گی۔ لیکن یہ تو طالبان کا اندرونی معاملہ ہے جس کا اسے ہی کوئی حل تلاش کرنا ہے۔
اب دوسرا ایک سوال یہ ہے کہ افغانستان کے ان عام باشندوں کا کیا ہوگا جو طالبان اور موجودہ حکومت کے درمیان ہونے والی کھینچ تان میں پس رہے ہیں خاص طور سے ان لوگوں کی کیا صورتحال ہوگی جو ان علاقوں میں رہ رہے ہیں جن پر طالبان کا تسلط ہے! کچھ عرصہ قبل واشنگٹن پوسٹ کے صحافیوں کی ایک ٹیم نے بڑی مشکل سے ایک ضلع مراورا (Marawara) تک رسائی حاصل کی تھی۔ وہاں وہ طالبان جنگجوؤں کی اجازت کے بعد ہی گئی تھی اوران کے ساتھ جنگجو بھی گئے تھے۔ یہ ضلع صوبہ کونار میں پاکستان کی سرحد پر واقع ہے۔ اس کا بیشتر حصہ دیہی علاقوں پر مشتمل ہے، زیادہ تر نوجوان یومیہ مزدوری کے طور پر کام کرتے ہیں لیکن یہ کام انہیں ان شہروں اور قصبوں میں ملتا ہے جو حکومت کے زیرانتظام ہیں۔ یہاں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جن کے پاس تھوڑی سی زمین ہے اور وہ کھیتی باڑی کرکے گزارہ کرتے ہیں۔ آس پاس جو طالبان جنگجوؤں کے اڈے ہیں وہاں سے رہ رہ کر ایسے نعرے سنائی دیتے ہیں کہ ‘امریکہ کے غلام مردہ باد’ اور ‘اشرف غنی حکومت مردہ باد۔
واشنگٹن پوسٹ کے صحافیوں کی رپورٹ کے مطابق طالبان کے دبدبہ والے دوسرے علاقوں کی طرح مراورا میں بھی عام آبادی تعلیم اور صحت سے متعلق خدمات کے سلسلے میں وہ حکومت افغانستان اور ایڈ گروپ پر انحصار کرتی ہے لیکن سلامتی سے متعلق خستہ ماحول کی وجہ سے ضروری اشیاء مثلاً دواؤں کی سپلائی اور ٹیچرز، ڈاکٹرز اور دوسرے متعلقہ اسٹاف کی تنخواہیں ملنے میں کافی تاخیر ہوتی ہے۔ طالبان کے قبضہ والے علاقوں میں آٹھ آٹھ دس دس مہینے کی تاخیر سے تنخواہوں کی ادائیگی ہوپاتی ہے۔ ڈسپنسریوں اور کلنکس (Clinics) میں عورتیں اور بچے کراہتے رہتے ہیں، ان کی دیکھ بھال وقت پر نہیں ہوپاتی۔ یاسمین ایک 22 سالہ پانچ بچوں کی ماں نے بتایا کہ علاج کے لئے اسے گھر سے نکلتے وقت سر سے پیر تک پردے سے چھپانا پڑتا ہے۔ جتنی دیر وہ کلنک میں رہتی ہے اس کے گھر کا کوئی مرد باہر اس کا انتظار کرتا ہے۔ اس نے یہ خیال ظاہر کیا کہ امن کا ماحول قائم ہوجانےکے بعد شاید اسے موقع ملے کہ وہ حکومت کے قبضے والے علاقے میں جاکر براہ راست کسی دوا خانے سے اپنے بچوں کی دوا لے سکے۔
طالبان کے کنٹرول والے علاقوں میں جو سویلین(Civilian) رہتے ہیں ان کا کہنا یہ ہے کہ وہ طالبان کے علاقے میں رہنے کے لئے اس لئے مجبور ہوئے کہ تشدد کے واقعات اور عدم تحفظ کا احساس وہ خاص عوامل ہیں کہ انہیں اس طور پر سوچنا پڑا۔ ان علاقوں میں افغان فوج انہیں تحفظ نہیں فراہم کرپاتی اس لئے انہیں اپنی سیکوریٹی کے لئے طالبان جنگجوؤں پر اعتبار کرنا پڑتا ہے لیکن انہیں یہ بھی احساس ہے کہ وہ بعض بنیادی سہولیات سے محروم رہ جاتے ہیں اس لئے وہ چاہتے ہیں کہ ماحول کچھ ایسا بن جائے کہ خدمات کا شعبہ بہتر ہوجائے، سڑکیں اور راستے تعمیر ہوجائیں۔ حفظان صحت اور تعلیم کی خدمات میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔ اس سے یہی نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ اس وقت افغانستان میں جو غیر یقینی ماحول ہے اس میں عام لوگوں کو کچھ معاملات میں مثلاً تشدد سے بچنے اور سیکوریٹی کے لئے طالبان کی طرف دیکھنا پڑتا ہے اور ضروری خدمات کیلئے وہ حکومت کی فراہم کردہ سہولیات کا سہارا لیتے ہیں۔
لیکن اب یہیں سوال پیدا ہوتا ہے کہ مختلف افغان حلقوں اور طالبان کے مابین سمجھوتے کی کون سی ایسی راہ نکلے جس پر طالبان اور دوسرے حلقوں میں اتفاق پیداہو ؟ مان لیجئے کہ حکومت افغانستان، طالبان اور بعض دوسرے اسٹیک ہولڈرس (Stake Holders) کے مابین کچھ لو اور کچھ دو کے اصول کے تحت سمجھوتہ ہوگیا تو پھر اقتدار میں حصہ داری کی کیا نوعیت ہوگی؟ کیا طالبان ان سخت گیر قوانین یا اس کے بڑے حصہ کو نافذ کرنے پر اصرار کرے گا جو اس نے اپنے اقتدار کے دوران نافذ کئے تھے؟ اور اگر طالبان نے کوئی لچک دکھائی تو کیا وہ اپنے گروپ کو متحد رکھ پائے گا؟
ایک اور سوال یہ بھی ہے کہ گزشتہ دو دہائیوں کے درمیان افغانستان میں ایک ایسا حلقہ بھی مضبوط ہوکر ابھرا ہے جو جمہوریت اور انسانی حقوق جیسی چیزوں سے نہ صرف فیضیاب ہوا ہے بلکہ ان کے فروغ کا خواہاں بھی ہیں۔ اس حلقے میں خواتین بھی شامل ہیں جو ایک نئی حسیّت اور نئے زمانے کے تقاضوں کو اچھی طرح سمجھنے لگی ہیں اور ان کے فروغ کیلئے حوصلے کے ساتھ کام بھی کرناچاہتی ہیں۔ کیا کوئی سمجھوتہ ہوجانے کی صورت میں انہیں وہ موقع مل سکے گا کہ وہ ان قدروں کے فروغ کے لئے کام کرسکیں جو انہیں بہت عزیز ہیں؟ غرضیکہ ایک نہیں بلکہ مختلف حلقوں کی طرف سے ان گنت سوال ہیں جن کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن جواب کا کوئی اشارہ بھی نہیں ملتا۔ ایک اور سوال ہے جو اگرچہ براہ راست افغانستان سے نہیں جڑا ہوا ہے لیکن ہے ایک اہم سوال! طالبان قیادت اور پاکستانی ایجنسی آئی ایس آئی کا کیا رشتہ ہوگا؟
Comments
Post a Comment