پاکستان کا احتساب بیورو یااپوزیشن کی گردن ناپنے کا مستقل ذریعہ؟
پاکستان کا قومی احتساب بیورو جس کا انگریزی میں مختصر نام نیب ہے، آج کل اخبارات اور میڈیا کی سرخیوں میں بہت نمایاں طور پر نظر آرہا ہے۔ ویسے تو پہلے بھی صحافیوں ، سیاست دانوں اور تجزیہ کاروں نےبھی اس کے بنیادی رول اور اس کی کارکردگی پر متعدد سوال اٹھائے ہیں لیکن حالیہ دنوں میں سپریم کورٹ آف پاکستان کی دو رکنی بنچ کی ایک رولنگ نے بحث کا ایک ایسا دروازہ کھول دیا ہے کہ اب تک دبی دبی آوازوں میں احتساب بیورو کے خلاف جو آوازیں اٹھتی تھیں، اب بہت واضح طور پر سنائی دینے لگی ہیں۔ بعض سیاسی لیڈروں کے خلاف مبینہ طور پر فوج کے اشارے پر یہاں معاملات درج ہوئے اور انہیں سزائیں بھی ملیں، حالانکہ ان معاملات میں واضح طور پر محسوس کیا گیا تھا کہ جن معاملات میں ملزموں کو سزا تک دی گئی وہ معاملات کسی عدالت میں ٹکنے کے لائق بھی نہیں تھے۔ لیکن اعلیٰ عدالتوں کی طرف سے اس کا سرے سے کوئی نوٹس ہی نہیں لیا گیا جس کے باعث خود عدلیہ کا رول بھی بعض اوقات مشکوک تصور کیا گیا۔ لیکن اب آواز یہاں تک اٹھنے لگی ہے کہ احتساب بیورو کرپشن روکنے کا کوئی ادارہ ہے یا خود کرپشن کا بہت بڑا مرکز ہے! کچھ عرصہ قبل ممتاز صحافی نجم سیٹھی نے موجودہ حکومت کو ایک طرح سے وارننگ بھی دی تھی کہ یہ ایک ایسا عفریت ہے جو اپنے مالک کو بھی کبھی اپنے غیظ وغضب کا نشانہ بناسکتا ہے۔ لیکن سپریم کورٹ کی رولنگ آنے کے بعد تو ہر طرف احتساب بیورو کی کارکردگی کے خلاف گویا سوالات کا ایک طوفان سا آگیا ہے۔ پاکستان کے ممتاز مصنف، صحافی اور سیاسی تجزیہ کار زاہد حسین نے اخبار ڈان میں قومی احتساب بیورو کی کارگزاریوں کا ذکر کرتے ہوئے یہاں تک کہا ہے کہ یہ محض ایک فراڈ ہے جو لمبی مدت تک اپنا کھیل کھیلتا رہا ہے۔ زاہد حسین کے مطابق اس پر اب تک جو یہ الزام لگتے رہے ہیں کہ یہ ایک ایسا ادارہ ہے جو انسانی حقوق، انسانی وقار اور آزادی کی قدم قدم پر بے حرمتی کرتا رہا ہے وہ غلط نہیں تھے بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ سیاسی انجینئرنگ کے لئے ایک اوزار کے طور پر استعمال ہوتا رہا ہے۔ اور اب عدالت نے اس کے امیج پر ایک کراری ضرب لگائی ہے کیونکہ اس کا اعتبار ہمیشہ سوالوں میں گھرا تھا۔ اس پر جانب داری اور بے ایمانی پر مبنی سخت گیری کا الزام تو کوئی نیا نہیں تھا لیکن عدالت کی حالیہ رولنگ نے اس سوال کے دائرے کو بڑھادیا ہے کہ یہ کیسا سسٹم تھا جس نے اتنے بدعنوان ادارے کے لئے راہ ہموار کی تھی؟۔ احتساب بیورو کے بارے میں یہ دعویٰ کیا جاتا تھا کہ یہ ایک خود مختار ادارہ ہوگا لیکن حقیقت یہ ہے کہ جنرل مشرف کے زمانے میں جب یہ قائم کیا گیا تھا تب سے اب تک اس کی غیرجانبداری ہمیشہ مشکوک سمجھی گئی اور یہی کہا گیا کہ سیاسی طور پر بلیک میلنگ کرنے اور اپنے حق میں حالات کو ڈھالنے کے ایک اوزار کے طور پر اس ادارے کا استعمال ہوتا رہا۔
زاہد حسین یہ سوال کرتے ہیں کہ غور کیجئے کہ کس طرح بے ایمانی کاالزام لگا کر سیاست دانوں کی وفاداریاں خریدی جاتی رہیں؟ جیسے ہی انہوں نے اپنی وفاداریاں بدلیں ویسے ہی اُن کے خلاف لگائے گئے الزامات ہوا ہوگئے اور راتوں رات انہیں کابینہ میں شامل کرلیا گیا۔ فوجی ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف نے اعلان کیا تھا کہ قومی احتساب بیورو اس لئے قائم کیا گیا ہے کہ بے ایمان لوگوں کے دلوں میں خوف خدا پیدا ہوگا۔ لیکن ایسا نہ ہونا تھا اور نہ ہوا۔ لیکن ایسا ہی سلسلہ دوسری حکومتوں کے دور میں بھی چلا۔ اور اب جسٹس مقبول باقر نے اپنی رولنگ میں کہا ہے کہ اس کے تحت ‘‘واہمہ پر مبنی’ کسی کو گرفتار کرنے کا اختیار حاصل کرلیا گیاتھا اور یہ ایک ایسی بات تھی جس کی کہیں کوئی دوسری مثال نہیں ملتی’’۔ یہ کوئی اتفاق کی بات نہیں ہے کہ کوئی بھی اپوزیشن لیڈر، جس کی کوئی اہمیت ہے احتساب بیورو کی چھان بین کے عمل سے نہیں بچاہوگا۔ ان میں سے بہت سے ایسے بھی ہیں جو مہینوں سے جیلوں میں بند ہیں حتی کہ ان پر باقاعدہ کوئی الزام بھی ابھی تک نہیں لگایا جاسکا۔ اسی کے ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ حکمراں کولیشن کے شاید ہی کسی شخص کو یہ دن دیکھنا پڑا ہو حالانکہ ان میں بہت سے ایسے ہیں جو دوسری حکومتوں کے زمانے میں بھی عہدیدار رہ چکے ہیں اور ان پر کرپشن کے الزام بھی تھے۔ جسٹس مقبول باقر کے مطابق بیورو کی کارکردگی سے صاف نظر آتا ہے کہ سیاسی صف بندی کی ایک صف کے خلاف اس نے کارروائی کرنے میں ہمیشہ پس وپیش کیا حالانکہ بعض افراد پر سنگین مالی گھپلوں کے الزام تھے۔
اس ادارے نے اختیارات کا اتنا غلط استعمال کیا کہ صرف اپوزیشن سیاسی لیڈر ہی نہیں بلکہ بیورو کریٹس اور بزنس مین بھی اس کا نشانہ بنے۔ تقریباً ہر سول سروینٹ ہمہ وقت احتساب بیورو کے خوف سے تھراتا رہا۔ صرف یہ نہیں کہ ان پر بدعنوانی کے الزام لگائے گئے بلکہ ان کے ذریعے کیا گیا ہر فیصلہ انہیں شدید مصیبت میں ڈال سکتاتھا۔ بہت سے سینئر بیورو کریٹس ایسے ہیں جنہیں بغیر کسی الزام کے مہینوں تک جیل کی سلاخوں کے پیچھے رہنا پڑا۔ کچھ لوگ ایسے بھی تھے جن کا سبکدوشی کے ایک دہائی بعد بھی احتساب بیورو کا آسیب پیچھا کرتا رہا۔ ہوسکتا ہے کسی سول سروینٹ سے کوئی غلطی یا بدعنوانی ہوئی ہو لیکن اپنی سرکاری پوزیشن کا استعمال کرتے ہوئے اس کے کسی بھی فیصلے کو شک کے دائرے میں لانا، ایک مستقل خوف پیدا کرنے کا باعث بنتا رہا۔ ان لامحدود اختیارات کا استعمال تو اتنے بڑے پیمانے پر ہوتا ہی رہا اور آج یہ عمران حکومت کے لئے اپوزیشن کی گردن ناپنے کے لئے ایک مؤثر وسیلہ بناہوا ہے لیکن یہ سوال بار بار اٹھتا رہا کہ اسے اتنے اختیارات عطا کرنے کا سہرا کس کے سر جاتا ہے؟ اس کے لئے اکثر انگلی طاقتور سیکوریٹی ایجنسیوں پر اٹھائی گئی۔ اور اب جسٹس مقبول باقر نے اپنی رولنگ میں کہا ہے کہ اس خطرناک مرحلے تک ہم اس لئے پہنچے کہ غیرآئینی اداروں کی طرف سے بار بار مداخلت ہوتی رہی اور غیرجمہوری طاقتیں حالات کو اپنے سانچے میں ڈھالتی رہیں۔ زاہد حسین اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ سپریم کورٹ کی جانب سے اس طرح کی رولنگ کے بعد اب یہ بات بالکل واضح ہوگئی ہے کہ کسی غیرجمہوری طاقت نے ملک کی جمہوری کارکردگی پر اس غلط انداز سے اپنا اثر مرتب کیا۔ ایک ایسے ادارے کے لئے جو کرپشن سے لڑنے کے لئے قائم کیا گیا ہو اسے اتنا ناپسندیدہ اور خوفناک ادارے میں تبدیل کیا جانا، یہ کسی بھی ملک کے لئے ایک لعنت سے کم نہیں! ایک اور ستم ظریفی کی طرف اشارہ کیاجارہا ہے کہ دو دہائی کے بعد بھی یہ ادارہ ایک آرڈیننس کے تحت کام کررہا ہے۔ ابھی تک کسی بھی حکومت نے کوئی ایسا فریم ورک نہیں ترتیب دیا جس کے تحت یہ کام کرسکے۔ اب اسے اس طرح کے لامحدود اختیارات سے نجات دلانے کا وقت آگیا ہے۔ اب تک یہ بہت تباہی پھیلا چکا ہے۔
زاہد حسین یہ سوال کرتے ہیں کہ غور کیجئے کہ کس طرح بے ایمانی کاالزام لگا کر سیاست دانوں کی وفاداریاں خریدی جاتی رہیں؟ جیسے ہی انہوں نے اپنی وفاداریاں بدلیں ویسے ہی اُن کے خلاف لگائے گئے الزامات ہوا ہوگئے اور راتوں رات انہیں کابینہ میں شامل کرلیا گیا۔ فوجی ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف نے اعلان کیا تھا کہ قومی احتساب بیورو اس لئے قائم کیا گیا ہے کہ بے ایمان لوگوں کے دلوں میں خوف خدا پیدا ہوگا۔ لیکن ایسا نہ ہونا تھا اور نہ ہوا۔ لیکن ایسا ہی سلسلہ دوسری حکومتوں کے دور میں بھی چلا۔ اور اب جسٹس مقبول باقر نے اپنی رولنگ میں کہا ہے کہ اس کے تحت ‘‘واہمہ پر مبنی’ کسی کو گرفتار کرنے کا اختیار حاصل کرلیا گیاتھا اور یہ ایک ایسی بات تھی جس کی کہیں کوئی دوسری مثال نہیں ملتی’’۔ یہ کوئی اتفاق کی بات نہیں ہے کہ کوئی بھی اپوزیشن لیڈر، جس کی کوئی اہمیت ہے احتساب بیورو کی چھان بین کے عمل سے نہیں بچاہوگا۔ ان میں سے بہت سے ایسے بھی ہیں جو مہینوں سے جیلوں میں بند ہیں حتی کہ ان پر باقاعدہ کوئی الزام بھی ابھی تک نہیں لگایا جاسکا۔ اسی کے ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ حکمراں کولیشن کے شاید ہی کسی شخص کو یہ دن دیکھنا پڑا ہو حالانکہ ان میں بہت سے ایسے ہیں جو دوسری حکومتوں کے زمانے میں بھی عہدیدار رہ چکے ہیں اور ان پر کرپشن کے الزام بھی تھے۔ جسٹس مقبول باقر کے مطابق بیورو کی کارکردگی سے صاف نظر آتا ہے کہ سیاسی صف بندی کی ایک صف کے خلاف اس نے کارروائی کرنے میں ہمیشہ پس وپیش کیا حالانکہ بعض افراد پر سنگین مالی گھپلوں کے الزام تھے۔
اس ادارے نے اختیارات کا اتنا غلط استعمال کیا کہ صرف اپوزیشن سیاسی لیڈر ہی نہیں بلکہ بیورو کریٹس اور بزنس مین بھی اس کا نشانہ بنے۔ تقریباً ہر سول سروینٹ ہمہ وقت احتساب بیورو کے خوف سے تھراتا رہا۔ صرف یہ نہیں کہ ان پر بدعنوانی کے الزام لگائے گئے بلکہ ان کے ذریعے کیا گیا ہر فیصلہ انہیں شدید مصیبت میں ڈال سکتاتھا۔ بہت سے سینئر بیورو کریٹس ایسے ہیں جنہیں بغیر کسی الزام کے مہینوں تک جیل کی سلاخوں کے پیچھے رہنا پڑا۔ کچھ لوگ ایسے بھی تھے جن کا سبکدوشی کے ایک دہائی بعد بھی احتساب بیورو کا آسیب پیچھا کرتا رہا۔ ہوسکتا ہے کسی سول سروینٹ سے کوئی غلطی یا بدعنوانی ہوئی ہو لیکن اپنی سرکاری پوزیشن کا استعمال کرتے ہوئے اس کے کسی بھی فیصلے کو شک کے دائرے میں لانا، ایک مستقل خوف پیدا کرنے کا باعث بنتا رہا۔ ان لامحدود اختیارات کا استعمال تو اتنے بڑے پیمانے پر ہوتا ہی رہا اور آج یہ عمران حکومت کے لئے اپوزیشن کی گردن ناپنے کے لئے ایک مؤثر وسیلہ بناہوا ہے لیکن یہ سوال بار بار اٹھتا رہا کہ اسے اتنے اختیارات عطا کرنے کا سہرا کس کے سر جاتا ہے؟ اس کے لئے اکثر انگلی طاقتور سیکوریٹی ایجنسیوں پر اٹھائی گئی۔ اور اب جسٹس مقبول باقر نے اپنی رولنگ میں کہا ہے کہ اس خطرناک مرحلے تک ہم اس لئے پہنچے کہ غیرآئینی اداروں کی طرف سے بار بار مداخلت ہوتی رہی اور غیرجمہوری طاقتیں حالات کو اپنے سانچے میں ڈھالتی رہیں۔ زاہد حسین اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ سپریم کورٹ کی جانب سے اس طرح کی رولنگ کے بعد اب یہ بات بالکل واضح ہوگئی ہے کہ کسی غیرجمہوری طاقت نے ملک کی جمہوری کارکردگی پر اس غلط انداز سے اپنا اثر مرتب کیا۔ ایک ایسے ادارے کے لئے جو کرپشن سے لڑنے کے لئے قائم کیا گیا ہو اسے اتنا ناپسندیدہ اور خوفناک ادارے میں تبدیل کیا جانا، یہ کسی بھی ملک کے لئے ایک لعنت سے کم نہیں! ایک اور ستم ظریفی کی طرف اشارہ کیاجارہا ہے کہ دو دہائی کے بعد بھی یہ ادارہ ایک آرڈیننس کے تحت کام کررہا ہے۔ ابھی تک کسی بھی حکومت نے کوئی ایسا فریم ورک نہیں ترتیب دیا جس کے تحت یہ کام کرسکے۔ اب اسے اس طرح کے لامحدود اختیارات سے نجات دلانے کا وقت آگیا ہے۔ اب تک یہ بہت تباہی پھیلا چکا ہے۔
Comments
Post a Comment