پاکستانی صحافی کے اغوا اور رہائی کی کہانی
پاکستان میں صحافیوں، بلاگروں، دانشوروں اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے کام کرنے والوں کے زبردستی غائب کئے جانے، اذیت دینے اور کبھی کبھی ہلاک کئے جانے کی کہانی آئے دن دہرائی جاتی ہے۔ ان میں سے بیشتر واقعات کے پیچھے پاکستانی فوج، اس کی ایجنسیوں یا ان کی ہدایت پر کام کرنے والے دوسرے اداروں کا ہاتھ ہوتا ہے۔ اس کا اصل سبب یہ ہوتا ہے کہ پاکستانی فوج اپنے آپ کو ہر تنقید سے بالا تر تصور کرتی ہے۔ نہ تو کوئی حکومت کسی فوجی جنرل کے خلاف کوئی کارروائی کرسکتی ہے اور نہ کسی عدلیہ سے اسے سزا دی جاسکتی ہے کیونکہ اگر وہ ایسا کچھ کرنا چاہے تو اسے خود اقتدار سے بے دخل ہونا پڑتا ہے، جیل جانا پڑتا ہے اور کبھی کبھی پھانسی بھی ہوسکتی ہے۔ یہ تمام مثالیں پاکستان میں موجود ہیں اور یہ سب کچھ وہاں کا معمول ہے۔ لوگ آئے دن یہ مناظر دیکھتے رہتے ہیں۔
بہرحال ایک تازہ واقعہ یہ ہوا ہے کہ ایک بیباک اور بے خوف صحافی مطیع اللہ جان جو، فوجی جنرلوں کے غیر آئینی کاموں کی زبردست تنقید کیا کرتے تھے اور فوج کی نظر میں بری طرح کھٹک رہے تھے، ان کا گزشتہ منگل یعنی 21 جولائی کو اس وقت اغوا ہوگیا جب وہ اپنی بیوی کو ان کےاسکول سے واپس لینے گئے۔ ان کی بیوی نے کوئی سوا ایک بجے دن میں انہیں فون کیا لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔ جب وہ باہر آئیں تو دیکھا کہ ان کی گاڑی تو موجود ہے لیکن ان کے شوہر کا کوئی پتہ نہیں۔اسکول کے سکیورٹی کیمرے کی تصویروں سے پتہ چلا کہ انہیں انسداد دہشت گردی محکمہ کے پولیس والے زبردستی اپنے ساتھ لے گئے۔ جب یہ بات چاروں طرف پھیلی اور احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا تو ہر طرف ہلچل پیدا ہوئی۔ لندن کی ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنے ٹوئٹ کے ذریعہ یہ احتجاج کیا کہ اسے مطیع اللہ جان کے بارے میں شدید تشویش ہے۔ پاکستان کے وزیر اطلاعات شبلی فرازنےپریس والوں کو بتایا کہ اغوا تو ہوا ہے اور حکومت کا یہ فرض ہے کہ حقیقت کا پتہ لگائے۔ یہ پورا واقعہ راجدھانی اسلام آباد کا ہے۔
یاد رہے کہ مطیع اللہ جان کو پہلے سے دھمکیاں مل رہی تھیں، ان کی بیوی کنیز صغریٰ نے پریس والوں کو بتایا کہ ان کے شوہر نے اس بات کا ذکر کیا تھا کہ انہیں ایجنسی والوں سے خطرہ محسوس ہورہا ہے۔ اس سے پہلے بھی دوباران پر نامعلوم افراد نے حملے کئےتھے لیکن وہ بچ گئے تھے۔ گزشتہ سال اپنے ایک انٹرویو میں مطیع اللہ جان نے خبرساں ایجنسی رائٹر کو بتایا تھا کہ چونکہ وہ فوج کی نکتہ چینی کرتے رہے ہیں اس لئے اسی کے دباؤ میں انہیں ایک ٹی وی چینل سے بطور اینکر ہٹا دیا گیا تھا۔ حالانکہ فوج نے اس کی تردید کی ہے۔
بہرحال خواہ احتجاج یا کسی اور وجہ سے انہیں چھوڑ دیا گیا۔ انہیں توہین عدالت کے ایک کیس میں عدالت میں حاضری بھی دینی تھی۔ چھوڑے جانے کے بعد انہوں نے عدالت میں حاضری بھی دی۔ ان کے اغوا اور رہائی کی بات تو سامنے آئی لیکن یہ سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ انہیں اس طور پر کیوں غائب کیا گیا؟ اسی لئے نا کہ وہ فوج کے نکتہ چیں تھے! فوج تو انکار کرتی ہے اور کرتی رہے گی؟ لیکن فوج کن کن باتوں سے انکار کرے گی؟ کیا یہ بھی غلط ہے کہ سپریم کورٹ کے ایک ایماندار اور بے داغ جج جسٹس فائز عیسیٰ نے اسی سال چند ماہ قبل فوجی افسروں کے خلاف 2017 کے ایک مقدمے کا فیصلہ سنایا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ فوجی افسران اپنے حلف اور آئین کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ 2017 کے مقدمہ کے حوالے سے انہوں نے کہا تھا کہ فوجی افسران نے غیر آئینی کام کیا تھا اور سیاسی معاملات میں بے جا مداخلت کی تھی۔ انہوں نے اس ضمن میں اپنے فیصلے میں کہا تھاکہ وزارت دفاع کو چاہئے کہ وہ فوج کے تمام بازوؤں کے سربراہوں کو یہ ہدایت دیں کہ ان کے محکموں میں جو افسران آئین شکنی کے مرتکب ہوئے ہیں ان کے خلاف ضروری کارروائی کی جائے۔
معلوم نہیں ان افسروں کے خلاف کارروائی ہوئی یا نہیں لیکن جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف ایک ریفرینس حکومت کی طرف سے ضرور پیش ہوا جس میں یہ کہا گیا تھا کہ ان کی بیوی اور بیٹے کی جو املاک غیر ممالک میں موجود ہیں، ان کی تفصیل جسٹس عیسیٰ نے چھپائی تھی۔ جسٹس عیسیٰ نے اس ریفرینس کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا اور یہ کہا تھا کہ اس کا صرف یہ مقصد ہے کہ انہیں جج کے عہدے سے ہٹایا جائے کیونکہ ان کا ایک فیصلہ کچھ لوگوں کو پسند نہیں آیا تھا۔ بہرحال سپریم کورٹ نے جسٹس عیسیٰ کی دلیل مان لی اور ریفرینس کو رد کردیا جس کے بعد حکومت کو زبردست سبکی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ظاہر ہے کہ فوج تو اس سے بھی انکار کرے گی کہ اس کا اس ریفرنس سے کچھ لینا دینا تھا۔ حالانکہ ہوسکتا ہے کہ سپریم کورٹ کے اس فیصلہ کے خلاف سپریم جوڈیشیل کونسل سے حکومت رجوع کرے اور امید کرے کہ شاید وہاں سے جسٹس عیسیٰ کے خلاف کوئی فیصلہ آئے۔ لیکن یہ سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ کیا فوج اتنا طاقتور ادارہ ہے کہ اس کی تنقید کرنے والا کوئی بھی شخص اس کے قہر سے نہیں بچ سکتا۔
ممکن ہے مطیع اللہ جان کے اغوا اور رہائی کے بارے میں کوئی نئی کہانی گڑھ لی جائے اور فوج یہی کہے کہ اس کا اس پورے واقعے سے کوئی سروکار نہیں، تو پھر کوئی تو اس کے پیچھے ہوگا ہی؟ فوج نہ صحیح، حکومت کا کوئی ادارہ ہوسکتا ہے۔ اب یہ تو ان دونوں ہی میں سے کسی کو طے کرنا ہے کہ ایک صحافی کے خلاف اتنا بڑا ڈرامہ کیوں اسٹیج کیا گیا؟ ویسے یہ بھی دنیا جانتی ہے فوج کسی بھی حکومت کو خاطر میں نہیں لاتی اور یہ بھی سننے میں آرہا ہے کہ اب عمران حکومت اور فوج کے درمیان پہلے جیسی گرمجوشی باقی نہیں رہی۔ بہرحال کوئی راز ہمیشہ راز تو نہیں رہتا کہیں ایسا تو نہیں کہ فوج اس ڈرامہ کی ذمہ داری حکومت کے سر منڈنا چاہتی ہے۔
*****
بہرحال ایک تازہ واقعہ یہ ہوا ہے کہ ایک بیباک اور بے خوف صحافی مطیع اللہ جان جو، فوجی جنرلوں کے غیر آئینی کاموں کی زبردست تنقید کیا کرتے تھے اور فوج کی نظر میں بری طرح کھٹک رہے تھے، ان کا گزشتہ منگل یعنی 21 جولائی کو اس وقت اغوا ہوگیا جب وہ اپنی بیوی کو ان کےاسکول سے واپس لینے گئے۔ ان کی بیوی نے کوئی سوا ایک بجے دن میں انہیں فون کیا لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔ جب وہ باہر آئیں تو دیکھا کہ ان کی گاڑی تو موجود ہے لیکن ان کے شوہر کا کوئی پتہ نہیں۔اسکول کے سکیورٹی کیمرے کی تصویروں سے پتہ چلا کہ انہیں انسداد دہشت گردی محکمہ کے پولیس والے زبردستی اپنے ساتھ لے گئے۔ جب یہ بات چاروں طرف پھیلی اور احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا تو ہر طرف ہلچل پیدا ہوئی۔ لندن کی ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنے ٹوئٹ کے ذریعہ یہ احتجاج کیا کہ اسے مطیع اللہ جان کے بارے میں شدید تشویش ہے۔ پاکستان کے وزیر اطلاعات شبلی فرازنےپریس والوں کو بتایا کہ اغوا تو ہوا ہے اور حکومت کا یہ فرض ہے کہ حقیقت کا پتہ لگائے۔ یہ پورا واقعہ راجدھانی اسلام آباد کا ہے۔
یاد رہے کہ مطیع اللہ جان کو پہلے سے دھمکیاں مل رہی تھیں، ان کی بیوی کنیز صغریٰ نے پریس والوں کو بتایا کہ ان کے شوہر نے اس بات کا ذکر کیا تھا کہ انہیں ایجنسی والوں سے خطرہ محسوس ہورہا ہے۔ اس سے پہلے بھی دوباران پر نامعلوم افراد نے حملے کئےتھے لیکن وہ بچ گئے تھے۔ گزشتہ سال اپنے ایک انٹرویو میں مطیع اللہ جان نے خبرساں ایجنسی رائٹر کو بتایا تھا کہ چونکہ وہ فوج کی نکتہ چینی کرتے رہے ہیں اس لئے اسی کے دباؤ میں انہیں ایک ٹی وی چینل سے بطور اینکر ہٹا دیا گیا تھا۔ حالانکہ فوج نے اس کی تردید کی ہے۔
بہرحال خواہ احتجاج یا کسی اور وجہ سے انہیں چھوڑ دیا گیا۔ انہیں توہین عدالت کے ایک کیس میں عدالت میں حاضری بھی دینی تھی۔ چھوڑے جانے کے بعد انہوں نے عدالت میں حاضری بھی دی۔ ان کے اغوا اور رہائی کی بات تو سامنے آئی لیکن یہ سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ انہیں اس طور پر کیوں غائب کیا گیا؟ اسی لئے نا کہ وہ فوج کے نکتہ چیں تھے! فوج تو انکار کرتی ہے اور کرتی رہے گی؟ لیکن فوج کن کن باتوں سے انکار کرے گی؟ کیا یہ بھی غلط ہے کہ سپریم کورٹ کے ایک ایماندار اور بے داغ جج جسٹس فائز عیسیٰ نے اسی سال چند ماہ قبل فوجی افسروں کے خلاف 2017 کے ایک مقدمے کا فیصلہ سنایا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ فوجی افسران اپنے حلف اور آئین کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ 2017 کے مقدمہ کے حوالے سے انہوں نے کہا تھا کہ فوجی افسران نے غیر آئینی کام کیا تھا اور سیاسی معاملات میں بے جا مداخلت کی تھی۔ انہوں نے اس ضمن میں اپنے فیصلے میں کہا تھاکہ وزارت دفاع کو چاہئے کہ وہ فوج کے تمام بازوؤں کے سربراہوں کو یہ ہدایت دیں کہ ان کے محکموں میں جو افسران آئین شکنی کے مرتکب ہوئے ہیں ان کے خلاف ضروری کارروائی کی جائے۔
معلوم نہیں ان افسروں کے خلاف کارروائی ہوئی یا نہیں لیکن جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف ایک ریفرینس حکومت کی طرف سے ضرور پیش ہوا جس میں یہ کہا گیا تھا کہ ان کی بیوی اور بیٹے کی جو املاک غیر ممالک میں موجود ہیں، ان کی تفصیل جسٹس عیسیٰ نے چھپائی تھی۔ جسٹس عیسیٰ نے اس ریفرینس کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا اور یہ کہا تھا کہ اس کا صرف یہ مقصد ہے کہ انہیں جج کے عہدے سے ہٹایا جائے کیونکہ ان کا ایک فیصلہ کچھ لوگوں کو پسند نہیں آیا تھا۔ بہرحال سپریم کورٹ نے جسٹس عیسیٰ کی دلیل مان لی اور ریفرینس کو رد کردیا جس کے بعد حکومت کو زبردست سبکی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ظاہر ہے کہ فوج تو اس سے بھی انکار کرے گی کہ اس کا اس ریفرنس سے کچھ لینا دینا تھا۔ حالانکہ ہوسکتا ہے کہ سپریم کورٹ کے اس فیصلہ کے خلاف سپریم جوڈیشیل کونسل سے حکومت رجوع کرے اور امید کرے کہ شاید وہاں سے جسٹس عیسیٰ کے خلاف کوئی فیصلہ آئے۔ لیکن یہ سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ کیا فوج اتنا طاقتور ادارہ ہے کہ اس کی تنقید کرنے والا کوئی بھی شخص اس کے قہر سے نہیں بچ سکتا۔
ممکن ہے مطیع اللہ جان کے اغوا اور رہائی کے بارے میں کوئی نئی کہانی گڑھ لی جائے اور فوج یہی کہے کہ اس کا اس پورے واقعے سے کوئی سروکار نہیں، تو پھر کوئی تو اس کے پیچھے ہوگا ہی؟ فوج نہ صحیح، حکومت کا کوئی ادارہ ہوسکتا ہے۔ اب یہ تو ان دونوں ہی میں سے کسی کو طے کرنا ہے کہ ایک صحافی کے خلاف اتنا بڑا ڈرامہ کیوں اسٹیج کیا گیا؟ ویسے یہ بھی دنیا جانتی ہے فوج کسی بھی حکومت کو خاطر میں نہیں لاتی اور یہ بھی سننے میں آرہا ہے کہ اب عمران حکومت اور فوج کے درمیان پہلے جیسی گرمجوشی باقی نہیں رہی۔ بہرحال کوئی راز ہمیشہ راز تو نہیں رہتا کہیں ایسا تو نہیں کہ فوج اس ڈرامہ کی ذمہ داری حکومت کے سر منڈنا چاہتی ہے۔
*****
Comments
Post a Comment