موضوع: کلبھوشن جادھو معاملے میں پاکستان کا مضحکہ خیز رویہ
بھارت کی جانب سے کلبھوشن جادھو تک ہندوستانی سفارتکاروں کی رسائی کے لیے بارہ بار درخواست کرنے کے بعد پچھلے ہفتے پاکستان نے دوسری بار اس ملاقات کا اہتمام کیا، لیکن یہ ملاقات بھی ایک دکھاوا ثابت ہوئی جیسا کہ ستمبر 2019ہوا تھا۔
اسلا م آباد کا الزام ہے کہ کلبھوشن جادھو پاکستان کے خلاف جاسوسی میں ملوث تھے اور اسی الزام کے لئے ایک فوجی عدالت میں مقدمہ چلاکر اپریل 2017میں انہیں موت کی سزا سنا دی گئی۔ یہ معاملہ بھارت بین الاقوامی عدالت میں لے گیا، جہاں مئی 2019میں عدالت نے کہا کہ پاکستانی عدالت کے فیصلہ پر از سر نو غور کیا جانا چاہئے اور اس کے لئے ایک مؤثر میکنزم کی ضرورت ہے۔ بین الاقوامی عدالت کے حکم کی بظاہر تکمیل کےلئے پاکستان نے اس سال مئی میں ایک آرڈیننس نافذ کردیا۔ اس کے بعد اسلام آباد نے نئی دہلی کو یقین دلایا کہ بغیر کسی شرط کے ہندوستانی سفارتکاروں کی ملاقات کلبھوشن جادھو سے کرائی جائے گی، جہاں ان لوگوں کے علاوہ کوئی اور موجود نہیں ہوگا اور اس ملاقات میں کوئی رکاوٹ بھی پیدا نہیں ہوگی۔ بھارت کو امید تھی کہ پاکستان اپنی اس یقین دہانی کا احترام کرے گا۔ وعدے کے مطابق دو ہندوستانی سفارتکاروں کو کلبھوشن سے ملنے کی اجازت دی گئی، لیکن یقین دہانی کے برخلاف ملاقات کے دوران دو پاکستانی افسران بھی وہاں موجود تھے۔ سفارتکاروں نے ان افسروں کی موجودگی پر اعتراض جتایا، لیکن ان کی ایک نہ سنی گئی۔ اس تمام ملاقات کی رکارڈنگ کی جاتی رہی۔ اب ظاہر ہے کہ پاکستانی افسران کی موجودگی میں کلبھوشن کے ساتھ کھل کر بات نہیں ہوسکی تھی اور نہ ہی ان دستاویزات پر ان کے دستخط لیے جاسکتے تھے، جو پاکستانی آرڈیننس کے مطابق کیس کو آگے بڑھانے کے لیے ضروری تھے۔
اس واقعہ کے بعد بھارت نے کہا کہ یہ ملاقات نہ تو بامعنی تھی اور نہ ہی اس کی کوئی اہمیت اورپاکستانی رویہ کو غیر ایماندارانہ قرار دیا۔ یہ بات صاف واضح ہے کہ پاکستان نے یہ ثابت کرنے کے بجائے کہ یہ ملاقات بین الاقوامی عدالت کے فیصلے کی روشنی میں ہورہی ہے، اسے پبلک ریلیشنزایکسرسائز میں تبدیل کر کے رکھ دیا تھا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ پچھلے مہینے پاکستان کے ایڈیشنل اٹارنی جنرل احمد عرفان نے میڈیا کو بتایا تھا کہ جادھو سے 17جون کو ریویو پٹیشن دائر کرنے کےلئے کہا گیا تھا لیکن انھوں نے ایسا کرنے سےانکار کردیا۔
آرڈیننس کے مطابق جادھو کو 60دنوں کے اندر ریویو پٹیشن داخل کرنا تھی۔ یہ ڈیڈ لائن بھی اب ختم ہوچکی ہے لیکن پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اب تیسری بار اس ملاقات کی پیشکش کی ہے اور کہا ہے کہ اس بار کوئی بھی پاکستانی اہلکار ملاقات کے دوران موجودنہیں ہوگا۔
بھارت نے یہ بات پھر دہرائی ہے کہ کلبھوشن جادھواور ہندوستانی سفارتکاروں کے درمیان بات چیت کے دوران کوئی بھی پاکستانی اہلکار موجود نہیں رہنا چاہئے اور نہ ہی اس بات چیت کی رکارڈنگ ہونی چاہئے، تاکہ جادھو بغیر کسی دباؤ کے کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کرسکے اور اسے اس بات کی بھی فکر نہیں ہونی چاہئے کہ بات چیت کے بعد اس کے ساتھ معاندانہ کارروائی کی جائے گی۔ جادھو کافی لمبے عرصہ سے قید میں ہے اور ماضی میں اسے برابر ڈرایا دھمکایا جاتا رہا ہے اس لیے کسی پاکستانی اہلکار کی موجودگی میں وہ کھل کر نہیں بول سکتے۔ اسی وجہ سے شاید انھوں نے ریویو پٹیشن داخل کرنے سے بھی منع کردیا، جیسا کہ اسلام آباد کا دعویٰ ہے۔
پاکستانی سیکورٹی افواج نے جادھو کو مارچ 2016میں ایران سے اغوا کیا تھا، تب سے وہ غیر قانونی طور پر پاکستانی جیل میں ہیں۔ اغوا کرنے کے بعد ان پر پاکستان کی ایک فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا، جس نے دس اپریل 2017کو انہیں سزائے موت سنادی، اس کے دس دن بعد8 مئی کو بھارت یہ معاملہ بین الاقوامی عدالت لے گیا اور عدالت نے کہا کہ جب تک وہ اپنا حتمی فیصلہ نہیں سنا دے گا کلبھوشن کی سزا پر عمل نہیں ہوگا۔ بین الاقوامی عدالت میں بھارت نے کہا کہ پاکستان نے جادھو کی حراست کے بارے میں اسے اطلاع نہیں دی، اس طرح اس نے جادھو کو ان کے قانونی حقوق سے محروم کردیا۔ پاکستان نے ہندوستانی سفارتکاروں کی جادھو سے ملاقات کی بھی اجازت نہیں دی، جو قونصلر ریلیشنز کے بارے میں 1963کے ویانا کنونشن کی خلاف ورزی ہے۔ بین الاقوامی عدالت نے بھارت کی اس دلیل کو مانتے ہوئے پچھلے سال 17جولائی کو پاکستان کو ہدایت دی کہ وہ جادھو کو ان کے حقوق کے بارے میں مطلع کرے، اس کے علاوہ وہ ہندوستانی سفارتکاروں کو بھی جادھو سے ملنے کی اجازت دے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کو یہ بات تسلیم کرنا چاہئے کہ ملزم کو بھی اپنے دفاع کا پورا حق ہے۔ عدالت نے حکم دیا کہ معاملہ کا از سر نو جائزہ لیا جانا چاہئے۔
بھارت کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ جادھو سے کھلے ماحول میں ملاقات نہ ہونے اور ضروری دستاویزات نہ ہونے کے باوجود نئی دہلی نے 18 جولائی کو ریویو پٹیشن داخل کرنے کی کوشش کی تاہم بھارت کے پاکستانی وکیل نے مطلع کیا کہ پاور آف اٹارنی اور جادھو معاملہ سے متعلق ضروری دستاویزات نہ ہونے کے باعث پٹیشن داخل نہیں کی جاسکی۔جہا ں تک ویانا کنونشن کے احترام دکا تعلق ہے تو امید ہے کہ اس بار پاکستان اپنی عزت بچانے کے موقع کو ہاتھ سے نہیں جانے دےگا۔
اسلا م آباد کا الزام ہے کہ کلبھوشن جادھو پاکستان کے خلاف جاسوسی میں ملوث تھے اور اسی الزام کے لئے ایک فوجی عدالت میں مقدمہ چلاکر اپریل 2017میں انہیں موت کی سزا سنا دی گئی۔ یہ معاملہ بھارت بین الاقوامی عدالت میں لے گیا، جہاں مئی 2019میں عدالت نے کہا کہ پاکستانی عدالت کے فیصلہ پر از سر نو غور کیا جانا چاہئے اور اس کے لئے ایک مؤثر میکنزم کی ضرورت ہے۔ بین الاقوامی عدالت کے حکم کی بظاہر تکمیل کےلئے پاکستان نے اس سال مئی میں ایک آرڈیننس نافذ کردیا۔ اس کے بعد اسلام آباد نے نئی دہلی کو یقین دلایا کہ بغیر کسی شرط کے ہندوستانی سفارتکاروں کی ملاقات کلبھوشن جادھو سے کرائی جائے گی، جہاں ان لوگوں کے علاوہ کوئی اور موجود نہیں ہوگا اور اس ملاقات میں کوئی رکاوٹ بھی پیدا نہیں ہوگی۔ بھارت کو امید تھی کہ پاکستان اپنی اس یقین دہانی کا احترام کرے گا۔ وعدے کے مطابق دو ہندوستانی سفارتکاروں کو کلبھوشن سے ملنے کی اجازت دی گئی، لیکن یقین دہانی کے برخلاف ملاقات کے دوران دو پاکستانی افسران بھی وہاں موجود تھے۔ سفارتکاروں نے ان افسروں کی موجودگی پر اعتراض جتایا، لیکن ان کی ایک نہ سنی گئی۔ اس تمام ملاقات کی رکارڈنگ کی جاتی رہی۔ اب ظاہر ہے کہ پاکستانی افسران کی موجودگی میں کلبھوشن کے ساتھ کھل کر بات نہیں ہوسکی تھی اور نہ ہی ان دستاویزات پر ان کے دستخط لیے جاسکتے تھے، جو پاکستانی آرڈیننس کے مطابق کیس کو آگے بڑھانے کے لیے ضروری تھے۔
اس واقعہ کے بعد بھارت نے کہا کہ یہ ملاقات نہ تو بامعنی تھی اور نہ ہی اس کی کوئی اہمیت اورپاکستانی رویہ کو غیر ایماندارانہ قرار دیا۔ یہ بات صاف واضح ہے کہ پاکستان نے یہ ثابت کرنے کے بجائے کہ یہ ملاقات بین الاقوامی عدالت کے فیصلے کی روشنی میں ہورہی ہے، اسے پبلک ریلیشنزایکسرسائز میں تبدیل کر کے رکھ دیا تھا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ پچھلے مہینے پاکستان کے ایڈیشنل اٹارنی جنرل احمد عرفان نے میڈیا کو بتایا تھا کہ جادھو سے 17جون کو ریویو پٹیشن دائر کرنے کےلئے کہا گیا تھا لیکن انھوں نے ایسا کرنے سےانکار کردیا۔
آرڈیننس کے مطابق جادھو کو 60دنوں کے اندر ریویو پٹیشن داخل کرنا تھی۔ یہ ڈیڈ لائن بھی اب ختم ہوچکی ہے لیکن پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اب تیسری بار اس ملاقات کی پیشکش کی ہے اور کہا ہے کہ اس بار کوئی بھی پاکستانی اہلکار ملاقات کے دوران موجودنہیں ہوگا۔
بھارت نے یہ بات پھر دہرائی ہے کہ کلبھوشن جادھواور ہندوستانی سفارتکاروں کے درمیان بات چیت کے دوران کوئی بھی پاکستانی اہلکار موجود نہیں رہنا چاہئے اور نہ ہی اس بات چیت کی رکارڈنگ ہونی چاہئے، تاکہ جادھو بغیر کسی دباؤ کے کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کرسکے اور اسے اس بات کی بھی فکر نہیں ہونی چاہئے کہ بات چیت کے بعد اس کے ساتھ معاندانہ کارروائی کی جائے گی۔ جادھو کافی لمبے عرصہ سے قید میں ہے اور ماضی میں اسے برابر ڈرایا دھمکایا جاتا رہا ہے اس لیے کسی پاکستانی اہلکار کی موجودگی میں وہ کھل کر نہیں بول سکتے۔ اسی وجہ سے شاید انھوں نے ریویو پٹیشن داخل کرنے سے بھی منع کردیا، جیسا کہ اسلام آباد کا دعویٰ ہے۔
پاکستانی سیکورٹی افواج نے جادھو کو مارچ 2016میں ایران سے اغوا کیا تھا، تب سے وہ غیر قانونی طور پر پاکستانی جیل میں ہیں۔ اغوا کرنے کے بعد ان پر پاکستان کی ایک فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا، جس نے دس اپریل 2017کو انہیں سزائے موت سنادی، اس کے دس دن بعد8 مئی کو بھارت یہ معاملہ بین الاقوامی عدالت لے گیا اور عدالت نے کہا کہ جب تک وہ اپنا حتمی فیصلہ نہیں سنا دے گا کلبھوشن کی سزا پر عمل نہیں ہوگا۔ بین الاقوامی عدالت میں بھارت نے کہا کہ پاکستان نے جادھو کی حراست کے بارے میں اسے اطلاع نہیں دی، اس طرح اس نے جادھو کو ان کے قانونی حقوق سے محروم کردیا۔ پاکستان نے ہندوستانی سفارتکاروں کی جادھو سے ملاقات کی بھی اجازت نہیں دی، جو قونصلر ریلیشنز کے بارے میں 1963کے ویانا کنونشن کی خلاف ورزی ہے۔ بین الاقوامی عدالت نے بھارت کی اس دلیل کو مانتے ہوئے پچھلے سال 17جولائی کو پاکستان کو ہدایت دی کہ وہ جادھو کو ان کے حقوق کے بارے میں مطلع کرے، اس کے علاوہ وہ ہندوستانی سفارتکاروں کو بھی جادھو سے ملنے کی اجازت دے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کو یہ بات تسلیم کرنا چاہئے کہ ملزم کو بھی اپنے دفاع کا پورا حق ہے۔ عدالت نے حکم دیا کہ معاملہ کا از سر نو جائزہ لیا جانا چاہئے۔
بھارت کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ جادھو سے کھلے ماحول میں ملاقات نہ ہونے اور ضروری دستاویزات نہ ہونے کے باوجود نئی دہلی نے 18 جولائی کو ریویو پٹیشن داخل کرنے کی کوشش کی تاہم بھارت کے پاکستانی وکیل نے مطلع کیا کہ پاور آف اٹارنی اور جادھو معاملہ سے متعلق ضروری دستاویزات نہ ہونے کے باعث پٹیشن داخل نہیں کی جاسکی۔جہا ں تک ویانا کنونشن کے احترام دکا تعلق ہے تو امید ہے کہ اس بار پاکستان اپنی عزت بچانے کے موقع کو ہاتھ سے نہیں جانے دےگا۔
Comments
Post a Comment