موضوع: چین کے جارحانہ رویّہ سے عالمی برادری برہم

اِسی مہینہ کے اوائل میں امریکی بحریہ کے دو بحری بیڑوں نے ساؤتھ چائنا سی میں فوجی مشقوں کا اہتمام کیا تھا۔ اپنے بیڑوں کو امریکہ نے اِسی ہفتہ دوبارہ اسی سمندری خطے میں تعینات کیا ہے۔ اس پر چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ دراصل امریکہ چین پر جارحانہ خارجہ پالیسی اختیار کرنے کا الزام لگاتارہا ہے۔امریکی بیڑوں کی تعیناتی اور امریکہ کی جانب سے لگائے گئے الزامات کے پس منظر میں چینی وزارتِ خارجہ کی ترجمان نے کہا ہے کہ چین، ٹیکنالوجی کےسپرپاور کے طور پر امریکہ کے مقام کو چیلنج نہیں کرنا چاہتا لیکن اس بات کی پرزور تردید کرتا ہے کہ وہ جارحانہ عزائم کا حامل ملک ہے۔ ترجمان نے یہ بھی کہا کہ پوری شدت سے وہ امریکہ کے اس الزام کا مقابلہ کرے گا کہ چین کی خارجہ پالیسی جارحانہ عزائم کی حامل ہے۔ اسی سانس میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ چین محض یہ چاہتا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کی اقتصادی حالت سدھارے اور عالمی امن واستحکام کو بحال رکھنے میں مدد کرے۔

جہاں تک اپنے شہریوں کی اقتصادی حالت کو بہتر بنانے یا ان کے ذرائع آمدنی کو بڑھانے یا ان کی سلامتی کو یقینی بنانے کا سوال ہے تو دنیا کا کون سا ایسا ملک ہے جو اپنے شہریوں کی خوشحالی اور سلامتی کے لئے کام نہیں کرتا؟ ظاہر ہے کہ تمام اقوام عالم یہی چاہتی ہیں کہ ان کی قوم ترقی کی جانب قدم بڑھائے پھر عالمی برادری یہ بھی چاہتی ہے کہ ایک بہتر عالمی منصفانہ نظام قائم ہو۔ لیکن قباحت وہاں پیدا ہوتی ہے جب بعض ممالک اپنی اقتصادی ترقی یا دوسرے شعبوں میں ہونے والی پیش رفت کے زعم میں یہ سوچنا شروع کردیتے ہیں کہ وہ براہ راست نہ سہی، تو بالواسطہ بلا شرکتِ غیرے دنیا کے تمام یا بیشتر وسائل پر قبضہ کرلیں یا اگر پورے طور پر قبضہ نہ کریں تو سب سے بڑے حصہ دار بن کر ابھریں۔ یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ حالیہ برسوں میں چین نے کچھ ایسے رویّوں کا مظاہرہ کیا ہے جن سے پوری دنیا میں یہ پیغام گیا ہے کہ اس کےارادے کچھ نیک نہیں ہیں۔ ہندوستان اور چین کے تعلقات میں لگاتار سدھار ہورہا تھا۔ تجارت میں، دوسرے شعبوں میں اشتراک وتعاون بھی بڑھ رہا تھا۔ لیکن حالیہ دنوں میں LACکے قریب اس نے جو جارحانہ مہم جوئی کی ہے، وہ قطعی قابل قبول نہیں ہے۔ ہندوستان کے پرامن رویوں اور مختلف شعبوں میں اشتراک وتعاون کی پرخلوص کوششوں کو اگر اس نے ہندوستان کی کمزوری سمجھ لیا تو یہ اس کی بہت بڑی بھول ہے۔ وزیراعظم مودی نے اس پس منظر میں لداخ میں اپنے پیغام میں یہ جو کہا تھا کہ اکیسویں صدی؍وہ صدی نہیں ہے جس میں توسیع پسندانہ عزائم پروان چڑھ سکیں گے۔ یہ زمانہ اقتصادی ترقی اور سرگرمیوں کا ہے۔ لہذا جس کے ذہن میں توسیع پسندی گھر کر گئی ہے اسے اس خیال کو ذہن سے نکلال پھینکنا چاہئے۔ یہ بات صرف ہند۔چین حالیہ تنازعہ کے پس منظر میں صادق نہیں آتی اور نہ ہی یہ تنہا ہندوستان کا خیال ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ عالمی برادری بھی یہی محسوس کررہی ہے اور وہ چین کی کارگزاریوں پر نظر بھی رکھ رہی ہے۔ چین جتنی جلد یہ بات محسوس کرلے اتنا ہی اچھا ہوگا کہ فوجی ٹکنالوجی اور دوسرے متعدد شعبوں میں چین کی سرگرمیاں کئی ملکوں میں تشویش کا ماحول پیدا کررہی ہیں۔ بلکہ کئی ممالک نے چین کے تئیں اپنا رویہ سخت کرلیا ہے اور واضح طور پر اسے پیغام دیا ہے کہ وہ اپنی کارگزاریوں پر نظرثانی کرے۔ مثلاً انڈو۔پسیفک علاقے میں چین جن عزائم کا مظاہرہ کررہا ہے، اس پر اپنا رخ واضح کرتے ہوئے امریکی انتظامیہ نے کہا ہے کہ چین کے عالمی وژن کی اکیسویں صدی میں قطعی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ساؤتھ چائنا سی میں چین جس انداز سے قدم بڑھا رہا ہے اور جس طرح وہاں کے وسائل پر قبضہ جمانا چاہتا ہے، اس سے اس کی توسیع پسندانہ ذہنیت کی آئینہ داری ہوتی ہے۔ا مریکہ کےمطابق عالمی برادری کبھی چین کو اس بات کی اجازت نہیں دے گی کہ وہ ساؤتھ چائنا سی کو اپنی جاگیر یا اپنی Maritime سلطنت تصور کرے۔ امریکی وزیرخارجہ مائک پومپیو نے زیادہ واضح طور پر کہا ہے کہ ساؤتھ چائنا سی (Sea) بہت بڑا علاقہ ہے اور اگر چین یہ چاہتا ہے کہ طاقت کے زور پر وہ اس علاقے کے دوسرے ممالک پر دھونس جمالے تو یہ اس کا خیال خام ہوگا۔

چین کو اس خطے کے دوسرے ممالک کے مفادات کو نظرانداز نہیں کرنا چاہئے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ بین الاقوامی قانون اور ضابطوں کا پاس کرتے ہوئے وہ یہاں کے وسائل پر صرف اپنا حق جتانے کی کوشش نہ کرے۔ امریکہ کے اعلیٰ سفارت کاروں پر خاص طور سے ان سفارت کاروں نے، جو جنوب مشرقی ایشیا میں سفارتی سرگرمیوں سے جڑے رہے ہیں، چین کو یہ وارننگ دی ہے کہ وہ اپنی غیرضروری مہم جوئیوں سے باز آجائے ورنہ اقتصادی پابندیاں عائد کرنے تک کی نوبت آسکتی ہے۔

چین کے تئیں جاپان نے بھی حال میں سخت رویہ اختیار کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ بڑی عجیب بات ہے کہ کورونا وائرس جیسی موذی وبا کے زمانے میں چین صورت حال کا ناجائز فائدہ اٹھاکر جگہ جگہ غلط اطلاعات فراہم کرکے دوسرے علاقوں میں اپنے دعوے پیش کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ جاپان نے اپنے محکمہ دفاع کے وائٹ پیپر میں، جسےو زیراعظم جاپان کی منظوری بھی ملی ہے، یہ کہا ہے کہ چین لگاتار یہ کوشش کررہا ہے کہ ایسٹ چائنا سی اور ساؤتھ چائنا سی میں جو موجودہ صورت حال ہے اسے بدل کر رکھ دے اور اپنا توسیع پسندانہ ایجنڈا نافذ کرے۔ اس علاقے کے ممالک، جو کورونا کے بحران سے نمٹنے میں مصروف ہیں، ان میں دوائیں تقسیم کرکے اور انھیں غلط اطلاعات فراہم کرکے چین انھیں مغالطے میں رکھ کر اپنا اُلّو سیدھا کرنا چاہتا ہے۔ وہ کئی متنازعہ جزیروں کے گرد انتظامی اضلاع بنانے میں مصروف ہے۔

غرضیکہ چین کے توسیع پسندانہ عزائم اب کسی سے پوشیدہ نہیں رہے اور ہر طرف یہی محسوس کیا جارہا ہے کہ چین بیک وقت کئی ہتھکنڈے استعمال کرکے ایشیا۔پیسیفک علاقے میں نہ صرف انتشار اور بے چینی پیدا کررہا ہے بلکہ ناجائز قبضہ بھی جمانا چاہتا ہے۔ اس طرح کے ردعمل کے بعد چینی وزارتِ خارجہ خاصی گھبرائی ہوئی بھی نظر آتی ہے۔ اگر اس نے اپنا رویہ نہ بدلا تو اس کی بہت بڑی قیمت چکانی پڑے گی۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ