موضوع: فوجی جنریلوں کی شان میں پاک میڈیا کی قصیدہ خوانی
اپنے اغراض کے حصول کے لیے دوسروں کی جھوٹی تعریفیں کرنا یا اس کے قصیدے پڑھنا انسانی فطرت ہے اور یہ روایت زمانۂ قدیم سے چلی آرہی ہے۔ ایک زمانے میں درباری شاعر ہوا کرتے تھے جو حکمرانوں کی شان میں قصیدے لکھ لکھ کر انعام و اکرام حاصل کیا کرتے تھے۔ کسی بذدل حکمراں کو دنیا کا سب سے بہادر انسان قرار دینا کوئی مشکل بات نہ تھی اور اس تعریف و توصیف سے حکمراں خود کو بھی ایسا ہی دلیر سمجھنے لگتے تھے۔ یا کسی معمولی سی شکل و صورت والی شہزادی یا ملکہ کو چاند سے بھی زیادہ حسین و خوبصورت بتانا اور اس کی شان میں قلابے ایک کردینا شاعر کے بائیں ہاتھ کا کام ہوا کرتا تھا اور ہو بھی کیوں نہیں کیونکہ حکمرانوں سے جائز و ناجائز فائدے اٹھانے کا ذریعہ یہی جھوٹی تعریف و توصیف ہوا کرتی تھی۔
پرانہ زمانہ ختم ہوا نیا دور آیا لیکن انسان کی فطرت نہیں بدلی۔ اب دربار کی جگہ اخبار اور جریدے آگئے تھے اور بعد میں الیکٹرانک میڈیا بھی آگیا۔ اب اخبارات اور جریدوں کے ذریعہ حکمرانوں کے قصیدے پڑھے جانے لگے، ان کی ناجائز حرکتوں کو جائز قرار دیا جانے لگا۔ ان کی خامیوں پر پردے ڈالے جانے لگے۔ اس سلسلہ میں دوسرے ملکوں کے مقابلے پاکستان دوقدم آگے بڑھ گیا، چونکہ اس ملک خداداد میں سویلین حکومتوں کے تقریباً برابر ہی فوجی جنریلوں نے حکومت کی ہے، اس لیے وہاں کی میڈیا نے فوجی حکمرانوں کی چاپلوسی کرنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی۔ ویسے تو دنیا بھر میں فوجوں کے سپہ سالاروں کو تب ہی کوئی یاد کرتا ہے یا اس کی تعریف و توصیف کرتا ہے جب وہ جنگی چیلنجوں کا بخوبی مقابلہ کرتے ہیں اور ملک و قوم کو فتح سے ہمکنار کرتے ہیں، لیکن پاکستان میں چونکہ قصیدہ خوانی کا فریضہ میڈیا کے سر ہوتا ہے، اس لئے مخصوص شخصیات اور میڈیا ئی حلقوں سے مدحت سالار کا ایک سیل رواں جاری ہوتا ہے۔ پاکستان کے کسی بھی فوجی سربراہ کی تعریف میں لکھے گئے کالمز یا بیان کیے گئے واقعات کا موادی تجزیہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کی تعریف و توصیف اور فضیلت ثابت کرنے کیلئے مذہبی حوالوں کا استعمال لازم و ملزوم ہے۔ جنرل ایوب خاں سے لے کر موجودہ فوجی سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ تک تمام تر فوجی سربراہوں کو اعلیٰ افضل مذہبی حوالہ جات سے ہی ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔
1958 میں جنرل ایوب خاں نے ایک فوجی بغاوت کے ذریعہ اقتدار حاصل کرلیا۔ پاکستان میں یہ پہلی فوجی بغاوت تھی۔ ایوب خاں کے دور کے اخبارات کا اگر جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ مسلم لیگ کنونشنل جس کے ناتواں کندھوں پر ایوب خاں کو مسند اقتدار پر فائز رکھنے کا بار رہا ، اس پر الزام تھا کہ اس نے ایک ایسا پوسٹر بھی بنایا جس میں جنرل ایوب خاں کو حضرت ایوب علیہ السلام سے تشبیہ دی گئی تھی۔ نوائے وقت لاہور میں یکم جنوری 1965کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق شہر میں کنونشنل مسلم لیگ کی جانب سے ایک پوسٹر دیواروں پر چسپاں کیا گیا ہے، جس میں لکھا گیا تھاکہ ’اللہ پاک نے بنی اسرائیل کے پیغمبر ایوب علیہ السلام کا درجہ صدر ایوب کو بخشا ہے۔“اس کا مطلب یہ ہوا کہ صدر جنرل ایوب معذاللہ پیغمبر ہوگئے۔
اسی طرح جامعہ اشرفیہ لاہور کے منتظم مولانا عبدالرحمان اشرفی سے منسوب ایک تراشہ ایسا بھی ہے، جس میں ان سے بیان ہے کہ جنرل ضیاءالحق کو نبی کریم کی جانب سے کئی سلام آئے، کئی پیغام پہنچے۔ قابل ذکر ہے کہ جامعہ اشرفیہ کے مولانا محمد مالک کاندھلوی جنرل ضیاءالحق کے قریبی رشتہ دار بھی تھے، اب اگر آپ کا قریبی رشتہ دار ملک پر قابض ہوکر اس کا صدر بن جائے اور اس کے بعد آپ کو ملک کے چند اہم ترین مدرسوں میں سے ایک کا سربراہ بھی مقرر کردے تو کیا آپ اس کے لیے چند توصیفی کلمات بھی نہیں کہہ سکتے؟ اب مولانا عبدالرحمان اشرفی صاحب سے یہ تو امید نہیں کی جاسکتی کہ وہ جنرل ضیا کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں پر تبصرہ کرتے، انہیں تو اپنی صلاحیت کے مطابق کوئی کہانی گڑھنا تھی سو گڑھ لی۔
جنرل اشفاق پرویز کیانی جب آرمی چیف بنے تو92 نیوز سے منسلک ہارون الرشید نام کے ایک صحافی نے ان کی شان میں زمین آسمان کے قلابے ملانا شروع کردیا۔ اسی دور میں ان کا ایک کالم کافی مشہور ہوا تھا، جس میں انھوں نے اعلان کیا تھا کہ کل رات حضرت عمر نے جھنڈا طالبان سے لے کر کسی اور کو تھما دیا ہے۔ یا درہے کہ یہ کالم ایسے موقع پر چھپا تھا جب کئی سال تک طالبان کی حمایت کرنے والے صحافی بشمول ہارون الرشید کے نئے نئے مشر بہ کیانی ہوئے تھے۔ انھوں نے اپنے کالم میں ”کسی اور“ کی وضاحت تو نہیں کی، لیکن اشارہ کس طرف ہے اس کی وضاحت کی ضرورت نہیں۔
جنرل راحیل شریف کی تعریف و توصیف میں مذہبی حوالوں کا خوب استعمال کیا گیا، اس حوالے سے مذہبی رہنما امیر حمزہ کا دنیا اخبار کیلئے لکھا گیا ایک کالم بہت مشہور ہوا، جس میں انھوں نے جنرل راحیل شریف کے نام کا عربی مأخذبیان کر کے ان کے پاک-چین معاشی راہداری میں کردارکو عین اسلامی اور انکے مطابق قرار دیتے ہوئے انہیں اس راہداری کیلئے لازم و ملزوم قرار دیا۔
قمر جاوید باجوہ آئے تو اوریا مقبول جان نے لکھا کہ ان کا تقرر براہ راست رسول اکرم کے حکم پر ہوا ہے اور ایک روحانی شخصیت کا خواب بھی بیان کیا، جس میں حضرت عمر کی بارگاہ رسالت میں سفارش بھی جنرل باجوہ کے نام آئی۔یہ حال ہے پاک میڈیا کے چند صحافیوں کا۔ اب اسے جہالت کہا جائے یا ضمیر فروشی ؟ ہاں ان باتوں سے یہ بات تو ضرورثابت ہوجاتی ہے کہ انسان اپنے مقصد کے حصول کےلئے کس حد تک گرجاتا ہے۔ وہ ان شخصیات کی تقدیس کا بھی دھیان نہیں رکھتا جو عالم اسلام میں کافی عظیم ہیں، ان مقدس ناموں کا اس طرح سے استعمال کرنا کہاں تک جائز ہے؟
Comments
Post a Comment