مالدیپ کے لیے ہندوستانی امداد



عالمی وبا کے درمیان ہندوستان اپنے پڑوسی ملکوں کو ترقیاتی پروجیکٹوں کے لیے جو امداد فراہم کررہا ے اس سے ان کی سماجی اور معاشی ضرورتوں کی تکمیل میں کافی مدد مل رہی ہے۔ ہندوستان نے اس ہفتے مالدیپ کے 16 جزیروں کو فٹنس کے آلات مہیا کرائے۔ ان آلات کی سپلائی مالدیپ میں سماجی اور معاشی ترقی کے پروجیکٹوں کو اس ہندوستانی امداد کا ایک حصہ تھی جس کا اعلان پچھلے سال مارچ میں صدر محمد ابراہیم صالح کے نئی دہلی کے دورے کے دوران کیا گیا تھا۔ واضح ہو کہ ہندوستان نے ترقیاتی پروجیکٹوں کے لیے پانچ اعشاریہ پانچ ملین ڈالر کی امداد کا اعلان کیا تھا۔ اس کے علاوہ سماجی اور معاشی ترقی کے کچھ دوسرے پروجیکٹوں کے لیے 6 اعشاریہ 9 ملین ڈالر نقد دینے کا بھی وعدہ کیا تھا۔

اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے مالدیپ کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد نشید نے ہند-مالدیپ تعلقات کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان کا ملک ہندوستان کے ساتھ اپنے قریبی تعلقات ترک کردیتا ہے تو اس کا ترقی کرنا ناممکن ہوجائےگا۔ انہوں نے اپنے ملک کے دوسرے رہنماؤں سے بھی اپیل کی کہ وہ ہندوستان جیسے پڑوسی ملکوں کے ساتھ معاملات طے کرتے وقت دانشمندی اور فہم وفراست سے کام لیں۔ وزیر خارجہ عبداللہ شاہد نے اپنے خطاب میں کہا کہ فٹنس کے اس پروجیکٹ سے جزیرے پربسنے والی برادریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اور صحتمند زندگی جینے میں مدد ملےگی۔ ہندوستان کا چار مہینوں میں مالدیپ کے 68 جزیروں پر بچوں کے پارکوں کی تعمیر میں مدد فراہم کرنے کا بھی منصوبہ ہے۔

اپنی انتخابی مہم کے دوران صدر محمدابراہیم صالح نے جزیروں کی سماجی اور معاشی ترقی کا وعدہ کیا تھا اور اس وعدے کو پورا کرنے کے لیے ہندوستانی امداد کے ساتھ پوری کوششیں جاری ہیں۔2018 میں مالدیپ میں حکومت کی تبدیلی کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں نمایاں تبدیلی دیکھنے کو ملی ہے۔ایک دوسرے کے یہاں کے اعلی سطحی دوروں سے ان تعلقات کو مضبوط بنانے میں کافی مدد ملی ہے۔ بھارت نے ایک اعشاریہ چار ارب ڈالر کی مالی امداد کا اعلان کیا ہے۔نئی دہلی نے یہ بھی اعلان کیا کہ مالدیپ میں نئے ترقیاتی پروجیکٹوں کے لیے آٹھ سو ملین ڈالر کا قرض بھی دیا جائے گا۔ حالیہ برسوں میں یہ دیکھا گیا ہے کہ دونوں ملکوں کے مفادات اور نظریات ایک جیسے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات اس وقت کافی مضبوط ہیں۔ کووڈ انیس جیسی عالمی وبا کے باوجود پروجیکٹوں کو شروع کرنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ہندوستان اور مالدیپ کے درمیان رشتے کافی مضبوط ہیں۔ دنیا کے دوسرے ملکوں کی طرح مالدیپ بھی اس وقت کورونا وائرس سے مقابلہ کررہا ہے۔ اس وائرس سے وہاں اب تک دوہزار آٹھ سو سے زیادہ لوگ متاثر ہوچکے ہیں۔ مالدیپ کے تقریباََ ایک ہزار جزیروں پر مقیم لوگوں تک پہنچنا آسان کام نہیں ہے۔ پھر بھی حکومت مالدیپ نے بحران سے نپٹنے اور لوگوں کو طبی امداد پہنچانے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مالدیپ کے لیے ریونیو کا سب سے بڑا ذریعہ سیاحت ہے۔

مالدیپ جب کبھی بھی قدرتی آفات کا شکار ہوا ہے ہندوستان نے سب سے پہلے مدد کی ہے۔ اس سال جنوری میں مالدیپ میں جب خسرہ پھیلا تو نئی دہلی نے ہنگامی طور پر دوا کی تیس ہزار خوراکیں وہاں بھیجی۔ جب کووڈ انیس کی وبا پھیلی تو ہندوستان نے اس سال مئی میں فورا ََ طبی امداد فراہم کی۔اس کے علاوہ ’’ ساگر‘‘ مشن کے تحت 600 ٹن کی کھانے پینے کی چیزیں بھی وہاں پہنچائی گئیں۔ علاقہ میں کورونا وائرس کی وبا پر تبادلۂ خیال کے لیے مالدیپ نے سارک لیڈروں کی میٹنگ میں بھی شرکت کی۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ