پاکستان میں نظام تعلیم کو اسلامی رنگ دینے کی کوشش
اسلام علم کی روشنی، فکر و آگہی کو فروغ دینے والامذہب ہے۔ علم کے فروغ پر سب سے زیادہ زور اسلام نے ہی دیا ہے ۔علم کا فروغ ہی وسعت فکر و نظر اور روشن خیالی کے دروازے وا کرتا ہے ۔ لیکن یہ بھی درست ہے کہ بہت سے حکمرانوں نے عوام کی مذہب سے وابستگی کے جذبے کا استحصال کیا اور اپنے اقتدار کو بچانے یا اسے وسعت دینے کی غرض سے عوام کو جذباتی بنا کر انہیں ایسی باتوں میں الجھایاجو انہیں فکر و خیال اور روشن خیالی کی دنیا سے دور لے جا سکیں۔ ایسے حکمراں حکومت کر کے اور اپنی زندگی کے دن گذار کر اس دنیا سے رخصت تو ہو جاتے ہیں لیکن جس تباہ کن زہر سے وہ عوام کو آشنا کر ا جاتے ہیں وہ زہر پھیلتے پھیلتے کافی تباہی مچا دیتا ہے ۔پاکستان کی مثال کو اگر سامنے رکھا جائے تو جنرل ضیاء الحق ایک ایسے غاصب فوجی حکمراں تھے جنہوں نے اسلامائزیشن کے نام پر ایسی گھٹی وہاں عوام کے ایک بڑے حلقے کو پلا گئے کہ اس کے اثرات سے آج بھی پاکستان باہر نہیں نکل پایا۔ اگر چہ گذشتہ بارہ سال کے عرصے سے وہاں منتخب حکومتیں کام کر رہی ہیں لیکن سماجی سطح پر ماحول پر جو چھاپ نام نہاد اسلامائزیشن کے دور نے چھوڑی تھی وہ اب بھی اپنے اثرات کسی نہ کسی طور پر مرتب کر رہا ہے ۔ اس صورت حال کا جائزہ لیتے ہوئے پاکستان کی ایک سینئر صحافی زبیدہ مصطفیٰ نے اخبار ڈان میں بیسویں صدی کے اوائل کے برسوں اور پھر قیام پاکستان کے بعد سے اکیسویں صدی کے موجودہ ایام تک کے درمیان ہونے والی تبدیلیوں کا ایک جائزہ پیش کیا ہے ۔
زبیدہ مصطفیٰ کے مطابق اخبار ڈان میں ان کے ایک رفیق کار تھے ایم ایچ عسکری! وہ جوانی کے دنوں میں ایک ممتاز افسانہ نگار بھی تھے۔ 1920 کی دہائی کے اواخر میں جب انہوں نے دلی کے اینگلو عربک اسکول میں داخلہ لیا تو ان کے پرنسپل نے ان سے پوچھا کہ وہ دینیات کے شعبے میں سنی دینیات پڑھنا چاہیں گے یا شیعہ دینیات! عسکری اس وقت اس فرق کے بارے میں کچھ نہیں جانتے تھے ۔ انہوں نے گھر جا کر اپنے والد صاحب سے یہی سوال پوچھا۔ ان کے والد مرزا احمد سعید اس وقت کے مشہور اسکالر تھے ، وہ گورنمنٹ کالج لاہور میں استاد رہ چکے تھے جہاں پطرس بخاری بھی ان کے شاگرد تھے ۔ انہوں ے فوراً جواب دیا’’ میرا بیٹا اسکول میں کسی طرح کی دینیات نہیں پڑھے گا۔ زبیدہ مصطفیٰ لکھتی ہیں کہ اس زمانے میں عام سوچ یہی ہوا کرتی تھی ۔ لوگ اپنے بچوں کو جو بھی دینی تعلیم دیتے تھے اپنے گھر میں دیتے تھے ۔ پھر وہ قیام پاکستان کے ابتدائی دنوں کا ذکر کرتے ہوئے لکھتی ہیں کہ جب میں اسکول میں تعلیم حاصل کرنے گئی تو عام طور پر بانی پاکستان محمد علی جناح کی اس تقریر کے لوگ زیادہ قائل تھے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان میں ہندو اپنے مندر میں جانے کے لئے آزاد ہوگا اور مسلمان مسجد میں جانے کے لئے آزاد ہوگا۔ زبیدہ مصطفیٰ کے مطابق انہوں نے اسکول ،کالج میں دینیات کبھی نہیں پڑھی تھی۔ اسلامی تعلیم انہیں اپنی ماں سے ملی تھی جبکہ ایک ماسٹر صاحب انہیں فارسی پڑھانے گھر پر آتے تھے ۔
پھر1970کی دہائی کا ذکر کرتے ہوئے وہ لکھتی ہیں کہ اب سیکولر اقتدار کے ماننے والوں کو دین ومذہب کے ٹھیکیدار ’’لادین‘‘ کہنے لگے، گویا سیکولرزم لادینیت کے مترادف قرار پائی لیکن پاکستان میں ان کی نسل کے لوگ دوسرے انداز سے سوچتے ہیں۔ان کے زمانے میں دینیات اسکول کالج میں لازمی طور پر نہیں پڑھائی جاتی تھی ۔ اس زمانے میں مسلکی ٹکراؤ بھی نہیں ہوتا تھا۔ آپس میں شادی بیاہ کا سلسلہ بھی جاری تھا۔ سماج زیادہ تکثیریت پسند تھا۔70 کی دہائی میں ان کی بیٹیاں اسکول جانے لگیں اور اسی زمانے میں نصاب میں دینی تعلیم کو بھی شامل کیا گیا ، اس سے بھی برا یہ ہوا کہ اس کے ساتھ ہی ساتھ ہندوؤں اور ہندوستان کے خلاف جذبات بھڑکانے والے مواد بھی شامل کئے جانے لگے۔ اس صورت حال میں انہیں اپنی بچیوں کو اس قسم کے منفی جذبات سے دور رکھنے میں کافی محنت کرنی پڑتی تھی تاکہ وہ مثبت قدروں کی اہمیت کو سمجھ سکیں۔ جنرل ضیاء الحق نے اپنے دور اقتدار میں اسلامائزیشن کا پلان شروع کیا تو شعبہ تعلیم کو اس رنگ میں ڈھالنے کے لئے وزارت تعلیم کو اپنی سیاسی پارٹنر جماعت اسلامی کے حوالے کر دیا۔ ویسے تو پاکستان میں اسلام کو ہمیشہ ریاست کا مذہب قرار دیا گیا لیکن اب اسے مکمل ضابطہ حیات قرار دے کر ہر چیز کو اسی رنگ میں رنگنے کی کوشش کی جانے لگی، یعنی طرز زندگی کیسا ہو ، پہناوا کیسا ہونا چاہئے، بات کس ڈھنگ سے کرنی چاہئے ، وغیرہ وغیرہ ۔اس کا ایک نتیجہ یہ بھی ہوا کہ قرآن وحدیث کےالگ الگ انٹرپریٹیشنس (Interpretations ) اور ترجمے بھی آنے لگے۔اپنے اپنے ڈھنگ سے لوگ تشریح و تفسیر بھی کرنے لگے۔ نظریات کے ٹکراؤ بھی ہونے لگے ان سب کا حاصل یہ ہے کہ سب سے سخت گیر نظریہ پر عمل کرنے والوں کو بالا دستی حاصل ہونے لگی۔
نصاب تعلیم میں ہر سطح پر قدامت پسندی کی دراندازی ہونے لگی ۔ یہ ایک پریشان کن صورت حال ہے ۔
زبیدہ مصطفی کے اسی مضمون میں کہا گیا ہے کہ اس حساس مسئلہ پر تبادلۂ خیال کرنے اور تکثیریت پسندی پر مبنی نظام تعلیم کو فروغ دینے کےلئے مختلف ہم خیال تنظیموں نے مل کر ایک ورکنگ گروپ قائم کیا۔اس نے حال ہی میں ایک ویبینار کا اہتمام کیا تھا، جس کا موضوع تھا۔”نصاب تعلیم‘درسی کتابیں اور نظام تعلیم میں بڑھتی ہوئی لازمی دینی تعلیم“۔ در اصل حال ہی میں تعلیم یافتہ حلقوں میں گزشتہ ماہ کے پنجاب اسمبلی کے ایک نئے قدم کے باعث بڑی بے چینی پیدا ہوئی ہے۔ اسمبلی نے پنجاب نصاب تعلیم اور درسی کتب ایکٹ2015میں ایک ترمیم کی تجویز پیش کی۔ وہ تجویز یہ تھی کہ درسی کتابوں کو متحدہ علماءبورڈ سے منظوری لینا لازمی ہوگا ۔ اس کے چند ہی روز بعد پنجاب کے گورنر نے ایک حکم نامہ جاری کیا کہ یونیورسٹیوں کی تمام ڈگریاں حاصل کرنے سے پہلے ہر امیدوار کو ایک امتحان پاس کرنا ہوگا، جس میں قرآن مجید پڑھنا اور اس کا ترجمہ سمجھنا لازمی ہوگا۔ حالانکہ اس سلسلے میں ایک فیصلہ پہلے بھی ہوچکا تھا۔2018میں ایک ایکٹ پاس ہوا تھا کہ پنجاب میں قرآن مجید کی تعلیم لازمی ہوگی۔
زبیدہ مصطفی کا کہنا ہے کہ بہت تشویش کا ماحول ہے اور اگر اس طرح تعلیم کے شعبہ کے ساتھ کھلواڑ کیا جائے گا تو پاکستان میں اس شعبے کا خدا ہی حافظ ہے، لہٰذا ویبینار(Webinar)کا اولین کام یہ ہونا چاہئے کہ وہ اپنی توجہ خاص طور سے اس امر کی جانب مرکوز کرے کہ لوگوں میں یہ بیداری آئے کہ بچوں کے مستقبل پر اس کا کیا اثرپڑنے والا ہے۔ زبیدہ مصطفی کے مطابق جدید تعلیمی اداروں کو بھی مدرسوں کے طرز پر چلانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ایک ماہر تعلیم پروفیسر اے ایچ نیّر نے کہا ہے کہ ’واحد قومی نصاب تعلیم‘ کے نام پر یکسانیت پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، حالانکہ اس عمر میں بچوں کو یہ موقع ملنا چاہئے کہ وہ اپنے ماحول پر نظر ڈالیں اور ان کے ذہن میں جو سوال پیدا ہوئے ہیں، ان کے جواب تلاشش کریں۔ جستجو کی امنگ تعلیم کے اسی مرحلہ میں بچوں میں پیدا ہوتی ہے۔ ایک اور بہت اہم سوال یہ رہ جاتا ہے کہ نصاب تعلیم میں یہ تبدیلیاں تو ہورہی ہیں، تو ایسے میں غیر مسلم اقلیت کہاں جائے گی؟کیا اس کا کوئی جواب ہے کسی کے پاس؟
زبیدہ مصطفیٰ کے مطابق اخبار ڈان میں ان کے ایک رفیق کار تھے ایم ایچ عسکری! وہ جوانی کے دنوں میں ایک ممتاز افسانہ نگار بھی تھے۔ 1920 کی دہائی کے اواخر میں جب انہوں نے دلی کے اینگلو عربک اسکول میں داخلہ لیا تو ان کے پرنسپل نے ان سے پوچھا کہ وہ دینیات کے شعبے میں سنی دینیات پڑھنا چاہیں گے یا شیعہ دینیات! عسکری اس وقت اس فرق کے بارے میں کچھ نہیں جانتے تھے ۔ انہوں نے گھر جا کر اپنے والد صاحب سے یہی سوال پوچھا۔ ان کے والد مرزا احمد سعید اس وقت کے مشہور اسکالر تھے ، وہ گورنمنٹ کالج لاہور میں استاد رہ چکے تھے جہاں پطرس بخاری بھی ان کے شاگرد تھے ۔ انہوں ے فوراً جواب دیا’’ میرا بیٹا اسکول میں کسی طرح کی دینیات نہیں پڑھے گا۔ زبیدہ مصطفیٰ لکھتی ہیں کہ اس زمانے میں عام سوچ یہی ہوا کرتی تھی ۔ لوگ اپنے بچوں کو جو بھی دینی تعلیم دیتے تھے اپنے گھر میں دیتے تھے ۔ پھر وہ قیام پاکستان کے ابتدائی دنوں کا ذکر کرتے ہوئے لکھتی ہیں کہ جب میں اسکول میں تعلیم حاصل کرنے گئی تو عام طور پر بانی پاکستان محمد علی جناح کی اس تقریر کے لوگ زیادہ قائل تھے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان میں ہندو اپنے مندر میں جانے کے لئے آزاد ہوگا اور مسلمان مسجد میں جانے کے لئے آزاد ہوگا۔ زبیدہ مصطفیٰ کے مطابق انہوں نے اسکول ،کالج میں دینیات کبھی نہیں پڑھی تھی۔ اسلامی تعلیم انہیں اپنی ماں سے ملی تھی جبکہ ایک ماسٹر صاحب انہیں فارسی پڑھانے گھر پر آتے تھے ۔
پھر1970کی دہائی کا ذکر کرتے ہوئے وہ لکھتی ہیں کہ اب سیکولر اقتدار کے ماننے والوں کو دین ومذہب کے ٹھیکیدار ’’لادین‘‘ کہنے لگے، گویا سیکولرزم لادینیت کے مترادف قرار پائی لیکن پاکستان میں ان کی نسل کے لوگ دوسرے انداز سے سوچتے ہیں۔ان کے زمانے میں دینیات اسکول کالج میں لازمی طور پر نہیں پڑھائی جاتی تھی ۔ اس زمانے میں مسلکی ٹکراؤ بھی نہیں ہوتا تھا۔ آپس میں شادی بیاہ کا سلسلہ بھی جاری تھا۔ سماج زیادہ تکثیریت پسند تھا۔70 کی دہائی میں ان کی بیٹیاں اسکول جانے لگیں اور اسی زمانے میں نصاب میں دینی تعلیم کو بھی شامل کیا گیا ، اس سے بھی برا یہ ہوا کہ اس کے ساتھ ہی ساتھ ہندوؤں اور ہندوستان کے خلاف جذبات بھڑکانے والے مواد بھی شامل کئے جانے لگے۔ اس صورت حال میں انہیں اپنی بچیوں کو اس قسم کے منفی جذبات سے دور رکھنے میں کافی محنت کرنی پڑتی تھی تاکہ وہ مثبت قدروں کی اہمیت کو سمجھ سکیں۔ جنرل ضیاء الحق نے اپنے دور اقتدار میں اسلامائزیشن کا پلان شروع کیا تو شعبہ تعلیم کو اس رنگ میں ڈھالنے کے لئے وزارت تعلیم کو اپنی سیاسی پارٹنر جماعت اسلامی کے حوالے کر دیا۔ ویسے تو پاکستان میں اسلام کو ہمیشہ ریاست کا مذہب قرار دیا گیا لیکن اب اسے مکمل ضابطہ حیات قرار دے کر ہر چیز کو اسی رنگ میں رنگنے کی کوشش کی جانے لگی، یعنی طرز زندگی کیسا ہو ، پہناوا کیسا ہونا چاہئے، بات کس ڈھنگ سے کرنی چاہئے ، وغیرہ وغیرہ ۔اس کا ایک نتیجہ یہ بھی ہوا کہ قرآن وحدیث کےالگ الگ انٹرپریٹیشنس (Interpretations ) اور ترجمے بھی آنے لگے۔اپنے اپنے ڈھنگ سے لوگ تشریح و تفسیر بھی کرنے لگے۔ نظریات کے ٹکراؤ بھی ہونے لگے ان سب کا حاصل یہ ہے کہ سب سے سخت گیر نظریہ پر عمل کرنے والوں کو بالا دستی حاصل ہونے لگی۔
نصاب تعلیم میں ہر سطح پر قدامت پسندی کی دراندازی ہونے لگی ۔ یہ ایک پریشان کن صورت حال ہے ۔
زبیدہ مصطفی کے اسی مضمون میں کہا گیا ہے کہ اس حساس مسئلہ پر تبادلۂ خیال کرنے اور تکثیریت پسندی پر مبنی نظام تعلیم کو فروغ دینے کےلئے مختلف ہم خیال تنظیموں نے مل کر ایک ورکنگ گروپ قائم کیا۔اس نے حال ہی میں ایک ویبینار کا اہتمام کیا تھا، جس کا موضوع تھا۔”نصاب تعلیم‘درسی کتابیں اور نظام تعلیم میں بڑھتی ہوئی لازمی دینی تعلیم“۔ در اصل حال ہی میں تعلیم یافتہ حلقوں میں گزشتہ ماہ کے پنجاب اسمبلی کے ایک نئے قدم کے باعث بڑی بے چینی پیدا ہوئی ہے۔ اسمبلی نے پنجاب نصاب تعلیم اور درسی کتب ایکٹ2015میں ایک ترمیم کی تجویز پیش کی۔ وہ تجویز یہ تھی کہ درسی کتابوں کو متحدہ علماءبورڈ سے منظوری لینا لازمی ہوگا ۔ اس کے چند ہی روز بعد پنجاب کے گورنر نے ایک حکم نامہ جاری کیا کہ یونیورسٹیوں کی تمام ڈگریاں حاصل کرنے سے پہلے ہر امیدوار کو ایک امتحان پاس کرنا ہوگا، جس میں قرآن مجید پڑھنا اور اس کا ترجمہ سمجھنا لازمی ہوگا۔ حالانکہ اس سلسلے میں ایک فیصلہ پہلے بھی ہوچکا تھا۔2018میں ایک ایکٹ پاس ہوا تھا کہ پنجاب میں قرآن مجید کی تعلیم لازمی ہوگی۔
زبیدہ مصطفی کا کہنا ہے کہ بہت تشویش کا ماحول ہے اور اگر اس طرح تعلیم کے شعبہ کے ساتھ کھلواڑ کیا جائے گا تو پاکستان میں اس شعبے کا خدا ہی حافظ ہے، لہٰذا ویبینار(Webinar)کا اولین کام یہ ہونا چاہئے کہ وہ اپنی توجہ خاص طور سے اس امر کی جانب مرکوز کرے کہ لوگوں میں یہ بیداری آئے کہ بچوں کے مستقبل پر اس کا کیا اثرپڑنے والا ہے۔ زبیدہ مصطفی کے مطابق جدید تعلیمی اداروں کو بھی مدرسوں کے طرز پر چلانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ایک ماہر تعلیم پروفیسر اے ایچ نیّر نے کہا ہے کہ ’واحد قومی نصاب تعلیم‘ کے نام پر یکسانیت پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، حالانکہ اس عمر میں بچوں کو یہ موقع ملنا چاہئے کہ وہ اپنے ماحول پر نظر ڈالیں اور ان کے ذہن میں جو سوال پیدا ہوئے ہیں، ان کے جواب تلاشش کریں۔ جستجو کی امنگ تعلیم کے اسی مرحلہ میں بچوں میں پیدا ہوتی ہے۔ ایک اور بہت اہم سوال یہ رہ جاتا ہے کہ نصاب تعلیم میں یہ تبدیلیاں تو ہورہی ہیں، تو ایسے میں غیر مسلم اقلیت کہاں جائے گی؟کیا اس کا کوئی جواب ہے کسی کے پاس؟
Comments
Post a Comment