ہندوستان اور سنگا پور کے درمیان بڑھتے تعلقات
ہندوستان اور سنگا پور کے درمیان بڑھتے تعلقات
سنگا پور میں وزیراعظم لی ہسین لونگ کی قیادت میں حکمراں پیپلز ایکشن پارٹی گزشتہ ہفتے عام انتخابات جیت کر دوبارہ اقتدار میں آگئی۔ انتخابات میں 96 فیصد پولنگ ریکارڈ کی گئی اور پارلیمنٹ کی کل 93 نشستوں میں سے پیپلز ایکشن پارٹی کو 83 سیٹیں حاصل ہوئیں۔ باقی دس سیٹیں اپوزیشن ورکرز پارٹی کو ملیں۔ 1959 میں پہلی بار اقتدار میں آنے کے بعد پی اے پی کی عام انتخابات میں لگاتار یہ 15 ویں جیت ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے سنگا پور کے اپنے ہم منصب لی ہسین لونگ کو انتخابات میں ان کی پارٹی کی جیت پر مبارک باد پیش کی ہے۔ سنگا پور کے پارلیمانی انتخابات کے نتائج کا مطلب ہے ہند۔ سنگاپور تعلقات کا مزید فروغ۔ وزیراعظم نریندر مودی اور سنگا پور کے وزیراعظم لونگ کی قیادت میں دونوں ملکوں کے تعلقات مسلسل فروغ پا رہے ہیں۔
وزیراعظم مودی نے سنگا پور کے بانی آنجہانی لی کوان ییو کی ہمیشہ تعریف کی ہے۔ وہ 1959 سے لے کر 1990 تک سنگا پور کے وزیراعظم رہے۔ سنگا پور کو ایک جدید ملک بنانے میں ان کے کردار کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ جب مارچ 2015 میں ان کا انتقال ہوا تو وزیراعظم نریندر مودی نے ان کی آخری رسوم میں شرکت کی تھی۔ ان کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے جناب مودی نے کہا تھا کہ ’’جناب لی کوان ییو ایک دور اندیش اور شیر دل رہنما تھے جن کی زندگی سے ہر کسی کو قابل قدر تعلیمات حاصل ہوتی ہیں۔ ان کی رحلت سے ہم سبھی کو صدمہ پہنچا ہے۔‘‘جناب لی کوان بھی ہندوستان کی ہمیشہ تعریف کیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ نئی دہلی کو آسیان کے علاقہ میں زیادہ بڑا رول ادا کرنا چاہئے۔
سنگا پور ہندوستان کا ایک اہم پارٹنر ہے۔ 2018 میں شانگری لا ڈائیلاگ میں اپنے خطاب میں وزیراعظم مودی نے کہا تھا کہ آسیان تک پہنچنے کے لئے سنگا پور ہمارے لئے بہت اہم ہے۔ صدیوں سے ہم اسی راستے سے مشرق کی جانب جاتے رہے ہیں۔ یہ پہلی بار تھا جب ہندوستان نے ہند۔بحر الکاہل سے متعلق اپنی پالیسی کا باضابطہ طور پر اعلان کیا۔
تقریباً 55 سال قبل ہندوستان اور سنگا پور کے درمیان سفارتی رشتے قائم ہوئے تھے اور جب سے ہندوستان کی لوک ایسٹ پالیسی شروع ہوئی ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان دوستی اور دوطرفہ تعاون میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ دونوں ممالک 2015 سے اسٹریٹیجک پارٹنر بھی ہیں۔ دفاعی شعبہ میں دونوں ملکوں کےد رمیان مضبوط تعلقات ہیں۔ 2018 میں دونوں ملکوں نے بحری تعاون کے لئے ایک معاہدے پر دستخط کئے تھے۔
آسیان ملکوں میں سنگا پور کا ہندوستان کی علاقائی اور خارجہ پالیسی میں ایک اہم مقام رہا ہے۔ اگست 2014 میں اس وقت کی وزیرخارجہ سشما سوراج نے سنگا پور کا دورہ کیا تھا اور تجارت وسرمایہ کاری کو فروغ دینے، کنکٹیویٹی میں تیزی لانے، اسمارٹ سیٹیز بنانے اور ہنرمندی کو فروغ دینے سے اتفاق کیا تھا۔ 2005 میں ڈبل ٹیکشین ایوائڈنس اگریمنٹ میں ایک تر میم پر دستخط کرنے کے ساتھ ہی سنگا پور ہندوستان میں سرمایہ کاری کا سب سے اہم ذریعہ بن کر ابھرا ہے۔ اس کے علاوہ ہندوستان میں 20-2019 کے مالی سال میں سب سے زیادہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری سنگا پور سے ہی ہوئی ہے۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ہندوستان میں کل ایف ڈی ایف کا 30 فیصد حصہ سنگا پور کا ہے۔
علاقہ میں ایک دوسرے سے جو مقابلہ چل رہا ہے ہند۔سنگا پور رشتوں کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ تعلقات ان مقابلوں سے بالکل آزاد ہیں۔ اس سے دونوں ملکوں کو مختلف شعبوں میں تعاون کرنے کا وافر موقع فراہم ہوتا ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو ہندوستان اور سنگاپور کے رہنماؤں کے ایک دوسرے کے یہاں کے دوروں سے مزید فروغ حاصل ہوا ہے۔ وزیراعظم نریندرمودی نے 2015 اور 2018 میں سنگا پور کا دورہ کیا تھا جبکہ وزیراعظم لی نے 2016 اور 2018 میں ہند۔آسیان یادگاری سربراہ کانفرنس میں شرکت کے لئے ہندوستان کا دورہ کیا تھا۔
سنگاپور نے ایشیا بحرالکاہل معاشی تعاون جیسے کثیر ملکی فورم کے لئے ہندوستان کی امیدواری کی ہمیشہ تائید کی ہے۔ اس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھی غیر مستقل رکنیت کے لئے ہندوستان کی حمایت کی تھی۔
وزیراعظم لی کی قیادت والی پیپلز ایکشن پارٹی کی عام انتخابات میں شاندار جیت کے بعد امید ہے کہ دونوں ملکوں کے تعلقات ہمیشہ کی طرح بہتر ہوتے رہیں گے۔
Comments
Post a Comment