کیا پاکستان میں نڈر صحافیوں کو اظہار رائے کی آزادی ہے؟
پاکستان کے ایک سینئر صحافی مطیع اللہ جان کو اسلام آباد سے پچھلے ہفتےاس وقت اغوا کرلیا گیا جب وہ اپنی اہلیہ کو اسکول چھوڑنے جارہے تھے جہاں وہ کام کرتی ہیں۔ سادہ کپڑوں نیز یونیفارم میں ملبوس کچھ لوگ انہیں ان کی کار سے زبردستی اتار کر اغواکرکے لے گئے۔ اغوا کے بعد جلد ہی تمام سیاسی جماعتوں نے اس واقعہ کی مذمت کی۔ مذمت کرنےوالوں میں حکومت کے وزراء بھی شامل تھے۔ اسلام آباد پولیس اور سول ایجنسیوں نے اس بات کی وضاحت کی کہ مطیع اللہ جان نہ ان کو مطلوب تھے اور نہ انہوں نے ان کے خلاف کوئی کارروائی کی ہے۔ 12 گھنٹے کی اذیت رسانی کے بعد مطیع اللہ جان جب واپس آئے تو انہوں نے اپنے اغوا کی کہانی ایک ویڈیو کے ذریعے سنائی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ اغواکار باربار ان سے ان کے پیشہ ورانہ کام سے متعلق اپنی برہمی کااظہار کرتے رہے۔
مطیع اللہ جان پاکستانی میڈیا کی کئی بڑی تنظیموں میں کام کرچکے ہیں۔ وہ اپنے کالموں میں حکومت پاکستان، ملک کی سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ پر بھرپور تنقید کرتے رہے ہیں۔ اس وقت وہ یو ٹیوب پر خود کا چینل چلا رہے ہیں۔ 2018 میں مبینہ طور پر سیکیورٹی ایجنسیوں کے دباؤ میں انہیں ‘‘وقت ٹیلی ویژن’’ سے برطرف کردیا گیا تھا جہاں وہ ایک اینکر کی حیثیت سے کام کررہے تھے۔
جناب مطیع اللہ جان نے اپنے اغوا کی جو داستان بیان کی اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اغوا کی وجہ ان کا پیشہ ورانہ کام تھا جو کچھ طاقتور حلقوں کو برا لگا۔ ویسے تو مطیع اللہ جان اپنے خیالات اور کام کی وجہ سے کافی مشہور ہیں کہ وہ ملک میں آئین کی پامالی اور جمہوری اداروں کی بے توقیری پر کافی کچھ لکھتے رہے ہیں لیکن حال ہی میں ان کی رپورٹنگ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے متعلق رہی ہے۔ قاضی فائز عیسیٰ نے ایک معاملہ میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف سخت فیصلہ سنایا تھا۔ حال ہی میں قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ایک گمنام شخص کے نام سے ایک شکایت کو بنیاد بناکر ایک صدارتی ریفرنس سپریم جوڈیشیل کونسل میں داخل کیا گیا تھا۔ اس شکایت میں الزام لگایا گیا تھا کہ قاضی عیسیٰ نے برطانیہ میں موجود اپنی جائیداد کی تفصیل حکومت سے چھپائی ہے۔ لیکن یہ جائیداد مبینہ طور پر ان کی اہلیہ اور بچوں کے نام ہے۔ تاہم عدالت عظمیٰ نے 19 جون کو صدارتی ریفرنس خارج کردیا لیکن یہ معاملہ ختم نہیں ہوا کیونکہ ایف بی آر اپنی کارروائی ان کی اہلیہ کے خلاف جاری رکھے ہوئے ہے اور قاضی فائز عیسیٰ کو دھمکیوں کا سلسلہ ابھی بھی جاری ہے۔ پچھلے ہفتہ سپریم کورٹ نے مطیع اللہ کےایک ٹویٹ کا از خود نوٹس لیتے ہوئے ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کردی۔ اپنے اس ٹویٹ میں مطیع اللہ جان نے عدلیہ پر سخت تنقید کی تھی۔
مطیع اللہ جان جو پچھلے انتخابات کے وقت سے ہی معتوب صحافیوں میں سرفہرست رہے ہیں، پہلے ہی ملازمت سے محروم ہیں اور کسی بھی ادارے میں ہمت نہیں ہے کہ خوف ودہشت کے اس ماحول میں اس تجربہ کار صحافی کی خدمات حاصل کرسکے۔ لیکن اس کے باوجود ان کے اغوا کی کارروائی اس صحافی کی تحریر وتقریر کی طاقت اور طاقتور حلقوں کی بڑھتی ہوئی کمزوری کا برملا اعلان ہے۔
اس سے پہلے بھی متعدد صحافی اپنے کام کی وجہ سے عتاب کا شکار ہوتے رہے ہیں۔ سلیم شہزاد ایشیا ٹائمز آن لائن کیلئے کام کرتے تھے جنہیں مئی 2011 میں پشاور میں ہلاک کردیا گیا۔ یہی حال حیات اللہ کا بھی ہوا۔ احمد نورانی اور حامد میر پر قاتلانہ حملے ہوئے لیکن وہ بچ گئے۔ حامد میر کو کون نہیں جانتا، وہ پاکستان کے ایک معروف صحافی ہیں۔عمر چیمہ کو بھی اسی طرح اغوا کرکے ان پر تشدد برپا کیا گیا تھا۔ ایک خاتون صحافی گل بخاری ایک ٹی وی شو پر جاتے ہوئے اغوا کرلی گئیں اور دنیا بھر میں شدید ردعمل کے بعد انہیں رہا کیا گیا۔ اغوا کاروں نے ان کے ساتھ بھی بربریت کا سلوک کیا۔
قابل افسوس اور تعجب کی بات یہ ہے کہ ان تمام کارروائیوں کے بعد پاکستان کی کوئی بھی ایجنسی ان کارروائیوں میں ملوث افراد کا نہ سراغ لگا سکی اور نہ ہی انہیں اس کے لئے کوئی سزا مل سکی۔ اس کے برعکس حب الوطنی کے نام نہاد علمبردار سوشل میڈیا پر ان صحافیوں کے خلاف بہتان تراشی میں مصروف رہے ہیں اور ان کارروائیوں کا دفاع کرتے نظر آئے ہیں۔
پاکستان میں میڈیا کو سنسر شپ کا ہمیشہ سامنا کرنا پڑاہے۔ یہاں کی میڈیا حکومت اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے زیراثرکام کرتی ہے۔ یہاں فوج نے میڈیا کو کنٹرول کرنے میں ہمیشہ خصوصی دلچسپی دکھائی ہے۔ اس سلسلے میں فوجی حکومت کی جانب سے 1960 میں پریس اینڈ پبلیکیشن آرڈیننس نافذ کرکےپہلا قدم اٹھایا گیا تھا۔ شہری انتظامیہ بھی اس سلسلے میں کچھ کم نہیں ہے۔
کہاجاتا ہے کہ ایک آزاد میڈیا حکومت اور اس کے اداروں کی کارروائیوں پر نظر رکھنے کیلئے واچ ڈاگ کاکام کرتی ہے۔ حکومت کیاصحیح کررہی ہے اور کیا غلط سب پر اس کی نگاہ رہتی ہے۔ ہر اچھی بات پر حکومت کی تعریف کی جاتی ہے اور ہر غلطی تنقید کا نشانہ بنتی ہے۔ لیکن پاکستان میں ایسا نہیں ہے۔ وہاں ایک صحافی کو حکومت اور اس کی ایجنسیوں کی شان میں صرف قصیدے پڑھنے ہوتے ہیں اور اگر ان کے کسی کام کی تنقید کی تو مطیع اللہ جان جیسا حال ہوتا ہے۔
وزیراعظم عمران خان مطیع اللہ کے اغوا پر بالکل خاموش رہے۔ اس کا تو یہی مطلب نکلتا ہے کہ وہاں قانون کا نہیں بلکہ کسی اور کاراج ہے۔ دراصل حکومت پاکستان اور وہاں کی فوجی اسٹیبلشمنٹ چاہتی ہے کہ لوگ آئین اور قانون کے تکلفات کو بھول کر اطاعت گزاری میں سر جھکا کر غلامی کی زندگی بسر کریں اور جن کو یہ پسند نہ ہو وہ اپنا ٹھکانہ کہیں اور تلاش کرلیں۔ اس طرح نہ کوئی مسئلہ پیدا ہوگا اور نہ ہی دنیا پاکستان کا مذاق اڑائے گی۔
مطیع اللہ جان پاکستانی میڈیا کی کئی بڑی تنظیموں میں کام کرچکے ہیں۔ وہ اپنے کالموں میں حکومت پاکستان، ملک کی سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ پر بھرپور تنقید کرتے رہے ہیں۔ اس وقت وہ یو ٹیوب پر خود کا چینل چلا رہے ہیں۔ 2018 میں مبینہ طور پر سیکیورٹی ایجنسیوں کے دباؤ میں انہیں ‘‘وقت ٹیلی ویژن’’ سے برطرف کردیا گیا تھا جہاں وہ ایک اینکر کی حیثیت سے کام کررہے تھے۔
جناب مطیع اللہ جان نے اپنے اغوا کی جو داستان بیان کی اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اغوا کی وجہ ان کا پیشہ ورانہ کام تھا جو کچھ طاقتور حلقوں کو برا لگا۔ ویسے تو مطیع اللہ جان اپنے خیالات اور کام کی وجہ سے کافی مشہور ہیں کہ وہ ملک میں آئین کی پامالی اور جمہوری اداروں کی بے توقیری پر کافی کچھ لکھتے رہے ہیں لیکن حال ہی میں ان کی رپورٹنگ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے متعلق رہی ہے۔ قاضی فائز عیسیٰ نے ایک معاملہ میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف سخت فیصلہ سنایا تھا۔ حال ہی میں قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ایک گمنام شخص کے نام سے ایک شکایت کو بنیاد بناکر ایک صدارتی ریفرنس سپریم جوڈیشیل کونسل میں داخل کیا گیا تھا۔ اس شکایت میں الزام لگایا گیا تھا کہ قاضی عیسیٰ نے برطانیہ میں موجود اپنی جائیداد کی تفصیل حکومت سے چھپائی ہے۔ لیکن یہ جائیداد مبینہ طور پر ان کی اہلیہ اور بچوں کے نام ہے۔ تاہم عدالت عظمیٰ نے 19 جون کو صدارتی ریفرنس خارج کردیا لیکن یہ معاملہ ختم نہیں ہوا کیونکہ ایف بی آر اپنی کارروائی ان کی اہلیہ کے خلاف جاری رکھے ہوئے ہے اور قاضی فائز عیسیٰ کو دھمکیوں کا سلسلہ ابھی بھی جاری ہے۔ پچھلے ہفتہ سپریم کورٹ نے مطیع اللہ کےایک ٹویٹ کا از خود نوٹس لیتے ہوئے ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کردی۔ اپنے اس ٹویٹ میں مطیع اللہ جان نے عدلیہ پر سخت تنقید کی تھی۔
مطیع اللہ جان جو پچھلے انتخابات کے وقت سے ہی معتوب صحافیوں میں سرفہرست رہے ہیں، پہلے ہی ملازمت سے محروم ہیں اور کسی بھی ادارے میں ہمت نہیں ہے کہ خوف ودہشت کے اس ماحول میں اس تجربہ کار صحافی کی خدمات حاصل کرسکے۔ لیکن اس کے باوجود ان کے اغوا کی کارروائی اس صحافی کی تحریر وتقریر کی طاقت اور طاقتور حلقوں کی بڑھتی ہوئی کمزوری کا برملا اعلان ہے۔
اس سے پہلے بھی متعدد صحافی اپنے کام کی وجہ سے عتاب کا شکار ہوتے رہے ہیں۔ سلیم شہزاد ایشیا ٹائمز آن لائن کیلئے کام کرتے تھے جنہیں مئی 2011 میں پشاور میں ہلاک کردیا گیا۔ یہی حال حیات اللہ کا بھی ہوا۔ احمد نورانی اور حامد میر پر قاتلانہ حملے ہوئے لیکن وہ بچ گئے۔ حامد میر کو کون نہیں جانتا، وہ پاکستان کے ایک معروف صحافی ہیں۔عمر چیمہ کو بھی اسی طرح اغوا کرکے ان پر تشدد برپا کیا گیا تھا۔ ایک خاتون صحافی گل بخاری ایک ٹی وی شو پر جاتے ہوئے اغوا کرلی گئیں اور دنیا بھر میں شدید ردعمل کے بعد انہیں رہا کیا گیا۔ اغوا کاروں نے ان کے ساتھ بھی بربریت کا سلوک کیا۔
قابل افسوس اور تعجب کی بات یہ ہے کہ ان تمام کارروائیوں کے بعد پاکستان کی کوئی بھی ایجنسی ان کارروائیوں میں ملوث افراد کا نہ سراغ لگا سکی اور نہ ہی انہیں اس کے لئے کوئی سزا مل سکی۔ اس کے برعکس حب الوطنی کے نام نہاد علمبردار سوشل میڈیا پر ان صحافیوں کے خلاف بہتان تراشی میں مصروف رہے ہیں اور ان کارروائیوں کا دفاع کرتے نظر آئے ہیں۔
پاکستان میں میڈیا کو سنسر شپ کا ہمیشہ سامنا کرنا پڑاہے۔ یہاں کی میڈیا حکومت اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے زیراثرکام کرتی ہے۔ یہاں فوج نے میڈیا کو کنٹرول کرنے میں ہمیشہ خصوصی دلچسپی دکھائی ہے۔ اس سلسلے میں فوجی حکومت کی جانب سے 1960 میں پریس اینڈ پبلیکیشن آرڈیننس نافذ کرکےپہلا قدم اٹھایا گیا تھا۔ شہری انتظامیہ بھی اس سلسلے میں کچھ کم نہیں ہے۔
کہاجاتا ہے کہ ایک آزاد میڈیا حکومت اور اس کے اداروں کی کارروائیوں پر نظر رکھنے کیلئے واچ ڈاگ کاکام کرتی ہے۔ حکومت کیاصحیح کررہی ہے اور کیا غلط سب پر اس کی نگاہ رہتی ہے۔ ہر اچھی بات پر حکومت کی تعریف کی جاتی ہے اور ہر غلطی تنقید کا نشانہ بنتی ہے۔ لیکن پاکستان میں ایسا نہیں ہے۔ وہاں ایک صحافی کو حکومت اور اس کی ایجنسیوں کی شان میں صرف قصیدے پڑھنے ہوتے ہیں اور اگر ان کے کسی کام کی تنقید کی تو مطیع اللہ جان جیسا حال ہوتا ہے۔
وزیراعظم عمران خان مطیع اللہ کے اغوا پر بالکل خاموش رہے۔ اس کا تو یہی مطلب نکلتا ہے کہ وہاں قانون کا نہیں بلکہ کسی اور کاراج ہے۔ دراصل حکومت پاکستان اور وہاں کی فوجی اسٹیبلشمنٹ چاہتی ہے کہ لوگ آئین اور قانون کے تکلفات کو بھول کر اطاعت گزاری میں سر جھکا کر غلامی کی زندگی بسر کریں اور جن کو یہ پسند نہ ہو وہ اپنا ٹھکانہ کہیں اور تلاش کرلیں۔ اس طرح نہ کوئی مسئلہ پیدا ہوگا اور نہ ہی دنیا پاکستان کا مذاق اڑائے گی۔
Comments
Post a Comment